حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 35 روپے اضافے کا اعلان
حکومت نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 35، 35 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا۔
حکومت کی جانب سے مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 18، 18 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا گیا۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ان کی قیمتوں کا اطلاق آج دن گیارہ بجے سے کیا گیا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے کیا گیا جب کہ ایسا پہلی بار دیکھا گیا کہ پیٹرولم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اچانک صبح کے اوقات میں کیا گیا۔ عام طور پر قیمتوں میں اضافے کا رات کے اوقات کیا جاتا رہا ہے۔
اپنے بیان میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 50 روپے اضافے کے حوالے سے قیاس آرائیاں عروج پر تھیں۔ ہمیں مارکیٹ میں مصنوعی قلت کی اطلاعات موصول ہوئیں، اس مصنوعی قلت کی اطلاعات کے سد باب کے لیے اوگرا کی سفارش پر فوری طور پر قیمتوں کا اطلاق کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے پاکستانی روپے کی قدر میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی، حکومت نے گزشتہ 4 مہینوں میں یعنی اکتوبر سے 29 جنوری تک پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیابلکہ قیمتیں کم کی گئیں۔ اس دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں انیس، بیس روپے کی کمی کی گئی جب کہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 29 اور 30 روپے کی کمی کی گئی۔
عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کے اقدامات کے باعث روپے کی قدر میں ہونے والی کمی کے باوجود وزیر اعظم کی ہدایت پر اوگرا کے ساتھ مشاورت کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم از کم اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 249 روپے 80 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 262 روپے 80 پیسے فی لیٹر، مٹی کا تیل 189 روپے 83 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل 187 روپے فی لیٹر ہوگی۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات وافر مقدار میں موجود ہیں اور معمول کے حالات میں کوئی وجہ نہیں تھ کہ قلت ہوتی، میڈیا کی قیاس آرائیوں میں کہا گیا کہ 80 روپے تک اضافہ متوقع ہے، اس صورتحال کے باعث فوری طور پر قیمتوں کا اعلان اور اطلاق کیا گیا اور بد قسمتی سے انہیں اس کا فائدہ ہوگیا۔
اسحٰق ڈار کے اعلان سے قبل ہفتے کے روز پیٹرول کی قیمتوں میں زبردست اضافے کی افواہوں کے نتیجے میں ملک کے کئی حصوں میں پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں لگ گئیں۔