ڈالر کی جمبو پرواز کے بعد
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- اتوار 29 / جنوری / 2023
پاکستان ہمیشہ ہی نازک حالات سے گزرتا رہا ہے یہاں شاذو نادر ہی حالات تسلی و تشفی بخش رہے ہیں،تخلیق پاکستان کے و قت اس ملک کا قیام ہی ناممکن نظر آتا تھا پھر اس کی بقاء بھی مشکوک تھی، دشمن امید لگائے بیٹھے تھے کہ تقسیم ہند کسی وقت بھی واپس ہو سکتی ہے کیونکہ نوزائیدہ مملکت کے مالی، انتظامی اور دیگر حالات اس قدر ناگفتہ بہ تھے۔
کہ اس کی بقاء ناممکن نظر آنے لگی تھی لیکن رب ذوالجلال کی رحمتوں اور شہداء کی قربانیوں کے صدقے پاکستان قائم رہا لیکن دشمن گھات میں لگا رہا کہ اسے کسی نہ کسی طریقے سے برباد کر دیا جائے،اُس وقت کی سول بیورو کریسی ملکی معاملات چلانے میں دخیل ہو گئی اور بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر معاملات آگے بڑھنے لگے حتیٰ کہ 1958 میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور مملکت اپنی بنیادی راہ و منزل سے بھٹک گئی اور ہنوز سفر تو جاری ہے لیکن منزل کا پتہ نہیں ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ بیرونی دشمن تو پہلے کی طرح اپنے مذموم مقاصد کی بازیابی میں مصروف ہے پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانے کی منصوبہ سازی پر عمل پیرا ہے،ہنود ہوں یا یہود، صہیونی طاقتیں ہوں یا پاکستان کے برادر دشمن ممالک سب ہی اپنے اپنے انداز میں پاکستان کی ارتھی اٹھانے میں جتے ہوئے ہیں۔
لیکن اصل خطرے والی بات دشمنوں کی مکاریاں اور منصوبہ سازیاں نہیں ہیں کیونکہ دشمن تو پہلے بھی ایسا ہی کرتا رہا ہے اور ہم ان کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے ہیں ۔اصل خطرہ یہ ہے کہ ہمارے اندر ہی دشمن سرایت کر چکا ہے، دشمن کے ایجنٹ، شعوری یا غیرشعوری ایجنٹی کرنے والے ایک عرصے سے یہاں مملکت کے خلاف مورچہ زن ہو چکے ہیں انہیں اندرون ملک بھی حمایت و تائید حاصل ہے اور وہ بڑی دلیری اور فنی چابکدستی سے پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانے پر تلے ہوئے ہیں وہ بڑی کامیابی سے اپنے ہدف کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔
پاکستان اس وقت معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، مالی و زری معاملات دگرگوں ہو چکے ہیں،قومی قرضوں کا بوجھ فی الاصل ناقابل برداشت ہو چکا ہے، ریاست کے معاملات کو چلانے کے لئے درکار وسائل بھی مہیا نہیں ہو پا رہے۔ بہت سے قومی ادارے، ریاستی مالی نظم و نسق کے لئے زہر قاتل بن چکے ہیں۔ سٹیل ملز، ریلوے، پی آئی اے اور ایسی ہی دیگر کارپوریشنیں جو منافع کمانے کے لئے قائم کی گئی تھیں وہ اپنی بقا کے لئے ریاست کی معاونت کی طلب گار ہو چکی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات،بجلی و گیس کی پیدائش و ترسیل کے حوالے سے قائم کردہ نظام اس قدر فرسودہ ہو چکا ہے کہ وہ عوام کی چیخیں نکال رہا ہے۔صنعتی شعبہ، آخری سانس لیتا ہوا نظر آ رہا ہے، بے روزگاری عام ہو چکی ہے۔ہم زرعی ملک ہیں ہماری کثیر آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے اور زراعت سے وابستہ ہے ہماری معتدبہ افرادی قوت زراعت سے وابستہ ہے لیکن حالت یہ ہے کہ آٹا ہمارے عوام کی پہنچ سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔پیاز، ٹماٹر،ادرک کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے ہمیں یہ اشیاء درآمد کرنا پڑتی ہیں،مارکیٹ میں چین و بھارت سے درآمد اشیاء کی بہتات ہوتی ہے۔
دوسری طرف عامتہ الناس کی قوتِ خرید ہے کہ وہ کم ہوتے ہوتے کہیں ختم ہونے کی طرف محو ِ سفر نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف بے روزگاری اور دوسری طرف قدرِ زر کی بے قدری نے ایک عام ہی نہیں بلکہ خاص لوگوں کے معاملات بھی دگر گوں کر دیے ہیں۔ بجلی، گیس اور پٹرول کے شعبے کی بے انتظامیاں اور بد اعمالیاں ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں جس کے باعث ان کی ترسیل بدنظمی کا شکار ہے۔ حیران کن بات ہے کہ ان اشیاء کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں ان پراڈکٹس کے استعمال کو کم کرنے کے لئے ترغیب دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں حالانکہ مارکیٹ قوانین کے مطابق کمپنیاں اپنی پراڈکٹس کی فروخت کو بڑھانے کے لئے اشتہار بازی کرتی ہیں لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔
ان پراڈکٹس کی قیمتیں بھی کسی قائدے کلیے کے تحت نہ تو متعین کی جاتی ہیں اور نہ ہی ان میں تبدیلی کرتے وقت کسی ملکی یا بین الاقوامی کلیے پر عمل کیا جاتا تھا۔حد یہ ہے کہ بجٹ دستاویز جو کسی بھی ملک کی انتہائی پائیدار اور معتبر تحریر ہوتی ہے، اسے بھی ہمارے ہاں کسی قسم کا تقدس حاصل نہیں رہا ہے ہم چھ مہینے کے بعد ہی600ارب روپے کے نئے ٹیکس لاگو کرنے کے لئے منی بجٹ لانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ہم نے حال ہی میں اپنے قرض خواہ ادارے آئی ایم ایف کے پُرزور اصرار پر ڈالر کی قیمت پر عائد کردہ کیپ اٹھایا ہے تو ایک ہی دن میں انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں 24روپے جبکہ عام مارکیٹ میں 12روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے یہ انتہائی خطرناک اضافہ ہے۔ ڈالر 250 روپے سے بڑھ چکا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ اڑان 300 تک جا سکتی ہے یہ قیمت کسی طور بھی قابل برداشت نہیں ہے۔
600 ارب روپے کے نئے ٹیکس نافذ العمل ہونے کے بعد عوام فی الحقیقت جہنم رسید ہو جائیں گے۔ ویسے اب بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے، پیاز280 روپے، ٹماٹر 100 روپے اور روٹی و نان کی قیمتیں آسمان کی طرف محو پرواز ہیں، پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کی قیمتیں پہلے ہی ناقابل قبول ہیں مزید اضافہ انہیں ناقابل برداشت بنا دے گا، سر دست بہتری کی صورت حال دور دور تک نظر نہیں آ رہی۔
سیاسی معاملات،اس سے بھی زیادہ پریشان کن دکھائی دیتے ہیں، پاکستان کی تمام قابل ذکر قومی و لسانی اور علاقائی مذہبی و سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طریقے سے کہیں نہ کہیں اقتدار میں شامل ہیں۔ حد یہ ہے کہ تانگہ پارٹیاں بھی شریک اقتدار ہو کر اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں اس کے باوجود ایک ہنگامہ ہائے مرگ برپا ہے۔ ایک دوسرے کو اقتدار سے ہٹانے اور گرانے کی جدوجہد جاری ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ایک طرف صوبہ پنجاب اور سرحد میں قائم اپنی حکومتوں کو ٹھوکر مارتی ہے،اسمبلیاں تحلیل کر کے اقتدار سے باہر آتی ہے تو دوسری طرف قوی اسمبلی میں واپسی کا اعلان کرتی ہے یہ عجیب منطق ہے جو عوام کو سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ عمران خان پھر سیاسی و عمومی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر شے،ہر آئینی و قانونی ادارے کو دشنام کے نشتر سے عضو ِ معطل بنانے کی پالیسی پرگامزن ہیں تاکہ ریاستی نظم و نسق فیل ہو جائے۔
مرکز کا حکمران اتحاد بھی عملاً کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو چکا ہے، تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ رکھنے کے باوجود شہباز شریف اور ان کے اتحادی کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔ اسحاق ڈار جو بہت بڑے معاشی جادوگر کی شہرت رکھتے تھے بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ آئی ایم ایف شرائط کی تلوار ہمارے سروں پر صرف لٹک ہی نہیں رہی ہے بلکہ ہمارے گلے کاٹنے میں مصروف ہے اور ہمارے پالیسی سازوں کے پاس آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے علاوہ کوئی اور لائحہ عمل بھی نہیں ہے لیکن لگتا ہے کہ اب بس ہونے والی ہے،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)