پشاور پولیس لائنز مسجد دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 59 ہوگئی

  • سوموار 30 / جنوری / 2023

خیبر پختونخوا کے دار الحکومت پشاور میں پولیس لائنز مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں 59 افراد شہید اور 155 زخمی ہوگئے جبکہ مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پشاور کی مسجد میں ہونے والا دھماکا خودکش تھا۔ حملہ کی ذمہ دار دہشت گرد گروپ ٹی ٹی پی نے قبول کرلی ہے۔ 

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ مسجد میں ہونے والے دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 59 ہوگئی ہے اور 155 افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ کمشنر پشاور ریاض محسود نے بھی اموات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے اندر ریسیکیو آپریشن کیا جارہا ہے۔

شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور صرف ایمبولینس اور امدادی کاموں میں مصروف اہلکاروں کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر پشاور محمد اعجاز خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے بعد مسجد کی چھت منہدم ہوگئی، متعدد جوان اب بھی ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں اور امدادی کاموں میں مصروف ورکرز انہیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دھماکے کی نوعیت سے متعلق ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ بارود کی بو آرہی ہے، تحقیققات جاری ہیں۔ جائزہ لینے کے بعد وجہ کی تصدیق ہوسکے گی۔

دھماکے کے وقت وہاں 300 سے 400 کے درمیان پولیس اہلکار موجود تھے۔ سی سی پی او نے کہا کہ بظاہر ہے یہ ہی لگتا ہے کہ کہیں سیکورٹی میں کوتاہی ہوئی۔ شہر بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جب کہ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے خون کے عطیات دینے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کام جاری ہے۔ میری خاص کر پشاور کے عوام سے اپیل ہے کہ ہسپتال میں جا کر خون کے عطیات دیں۔

گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے اور بحیثیت مسلمان مسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے دوران ہونے والے حملی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف پشاور پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم کو پشاور پولیس لائنز مسجد میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے تمام تر پہلؤوں پر بریفنگ دی جائے گی۔ وزیراعظم دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت بھی کریں گے۔

دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تاحال تعین نہ ہوسکا کہ آیا بم مسجد کے اندر نصب کیا گیا تھا یا خود کش حملہ تھا اور حملے کی ذمہ داری تھی کسی نے قبول نہیں کی۔ جائے وقوع پر موجود ڈان ڈاٹ کام کے رپورٹر نے بتایا کہ دھماکا تقریباً ایک بج کر 40 منٹ پر اس وقت ہوا جب ظہر کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ دھماکا شدید نوعیت کا تھا جس کے باعث مسجد کی چھت اور دیوار منہدم ہوگئی۔

وزیراعظم شہبازشریف نے پولیس لائنز پشاور کی مسجد میں خود کش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بیان میں پشاور میں خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی اور عام انتخابات سے قبل دہشت گردی کے واقعات معنی خیز ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں، ان کا دین سے کیا تعلق ہے؟ دہشت گرد مسجد کی پہلی صف پر کھڑا تھا، افغانسان کی نئی حکومت کے بعد دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا، اس حوالے سے حکومت اقدامات کررہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے پولیس لائن پشاور کی مسجد میں دورانِ نماز دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کےساتھ ہیں۔

پشاور میں دھماکے کے بعد اسلام آباد پولیس نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے دارالحکومت میں ’سیکیورٹی ہائی الرٹ‘ رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔