اُمیدِ سحر یا چراغِ سحری

پاکستان مسلم لیگ کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر محترمہ مریم نواز شریف کل لندن سے لاہور تشریف لائیں۔ وہ چار مہینے اپنے والد صاحب کے ساتھ لندن میں رہیں۔ ان کے اپنے بقول انہوں نے کوئی سرجری کروائی ہےاور اس وجہ سے وہ لندن اور سوئٹزر لینڈ میں مقیم رہیں۔

مریم نواز کی واپسی کے بعد یہ سوال ہر جگہ گردش کر رہا ہے۔ کہ کیا وہ مسلم لیگ کو اس وقت درپیش بحران سے نکال پائیں گی ؟ کیا وہ سیاسی میدان میں عمران خان کا مقابلہ کر پائیں گئی ؟

مسلم لیگ نون اس وقت بہت سے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ مریم نواز کو سیئیرنائب صدر اور چیف آرگنائزر مقرر کیے جانے کے بعد پارٹی کے سینئر لوگوں میں ایک اضطراب ہے۔ ان کی آمد کے وقت خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف کی موجودگی سے جہاں افواہوں کو کم کرنے میں مدد ملی، وہیں شاہد خاقان عباسی کے بارے میں مریم نواز کے بیانات سے یہ محسوس ہوا کہ نون لیگ کے اندرونی حلقوں میں سب اچھا نہیں ہے۔

1986 میں جب بے نظیر بھٹو جلاوطنی ختم کرکے آئیں تو انکلز کا چیلینج انہیں بھی درپیش تھا۔ لیکن وہ ایک بہت باصلاحیت سیاستدان تھیں۔ اورانکلز کےساتھ ساتھ اپنی ٹیم بنانے میں بھی کامیاب رہیں۔ مریم نواز کا مقام تاریخ میں ابھی طے ہونا ہے۔ وہ اس چیلنج سے عہدہ برا ہوتی ہیں یا نہیں ۔ اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔ لیکن میری رائے میں مریم نواز میں وہ تدبر، متانت اور صلاحیت نہیں جو سب کو ساتھ لے کے چلنے کے لیئے ضروری ہوتی ہے۔ ان کی شخصیت میں وہ لچک نہیں جو ایسے معاملات میں ضروری ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں سب سے ضروری چیز ڈیڈلاک سے بچنا ہوتا ہے۔ مریم نواز اس سے بچ پائیں گی یا نہیں یہ وقت بتائےگا۔

مریم نواز کا دوسرا بڑا چیلنج بیانیئے کا فقدان ہے۔ اپریل 2022 تک تو نون لیگ کا ایک مقبول بیانیہ تھا۔ یعنی ووٹ کو عزت دو۔ یہی وجہ تھی کہ نون لیگ نے تیرہ میں سے گیارہ ضمنی انتخابات جیتے۔ لیکن حکومت میں آنے کے بعد تو یہ بیانیہ ہوا ہو چُکا ہے۔ بلکہ جن کے خلاف تقاریر کی گئیں۔ انھی کے ساتھ ڈیل کی گئی۔ سوشل میڈیا کے دور میں لوگ دیوار کے پیچھے دیکھنے کی صلاحیت سے بھی بہرہ ور ہو چکے ہیں۔ لہذا اب باجوہ صاحب اور فیض صاحب کے خلاف بیانیہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر یہ بھی کہا جائے کہ میاں صاحب کی حکومت کو نکالا گیا تو لامحالہ جواب یہ بنتا ہے۔ کہ اگر نکالا تھا۔ تو واپس بھی تو لائے۔ اب شور کیسا ہے؟ ویسے بھی پاکستان میں تین بیانیے بہت مقبول ہوتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف، امریکہ کے خلاف اور مذہبی کارڈ۔ اس وقت یہ تینوں کارڈز عمران خان کی جیب میں ہیں۔ وہ جہاں مناسب سمجھتے ہیں۔ مذہبی ٹچ دیتے ہیں۔ جہاں ممکن ہو امریکہ کےخلاف بولتے ہیں۔ اور جہاں ضرورت پڑتی ہے۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ کارڈ نکال لیتے ہیں۔ اب مریم نواز کے پاس نہ ووٹ کو عزت دو والا کارڈ ہے، نہ انیٹی امریکہ اور نہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے۔

پھر اس سب پہ مستزاد یہ کہ ملکی معیشت اپنے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ نون لیگ کے مفتاح اسماعیل نے حکومت میں آنے کے بعد آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کروانے میں تھوڑی سی تاخیر کی۔ یہ پروگرام معطل اس وجہ سے ہواتھا کہ عمران خان نے جانےسے پہلے پٹرول پہ ان فنڈڈ سبسڈی دی۔ آئی ایم ایف سے طے شُدہ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ شیخ رشید صاحب کے بقول انہوں نے آنے والی حکومت کے لیے بارودی سُرنگیں بچھائیں۔ آنے والی حکومت کو تو انہوں نے تنگ کر لیا۔ لیکن ملک کا کو شدید نقصان پہنچایا۔ حکومت کو پروگرام بحال کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑی۔ کیونکہ عالمی ادارے اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھے۔ حکومت کو خان صاحب کی حکومت کا پیدا کردہ گیپ بھی پورا کرنا پڑا۔ جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف نے اپنے آٹھویں ریویو میں سابقہ حکومت کا نام لے کے اس بات کا ذکر کیا ہے۔

مہنگائی کے مزید بڑھ جانے کے خوف سے اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں دیر کی۔ جس سے زر مبادلہ کے ذخائر بھی کم ہوئے۔ اورملک مزید مالی مشکلات کاشکار ہوا۔ حکومت کے آئی ایم ایف سے باہر دوسرے ذرائع سے رقوم حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی کیونکہ تمام دوست ممالک کا مطالبہ تھا۔ کہ پہلے آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کرو۔ اب حکومت کو چاروناچار آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑیں۔ ڈالر کو مارکیٹ ریٹ پہ چھوڑ دیا۔ اور پٹرول کی قیمت بھی بڑھا دی۔

یہ بات درست ہے۔ کہ اگر آئی ایم ایف کا پروگرام عمران خان کی حکومت سے کیے گئے معاہدے کے مطابق چلتا رہتا۔ عمران خان خود اسے نہ توڑتے تو حالات شاید کچھ بہتر ہوتے۔ لیکن موجودہ حکومت اس سے بری الذمہ نہیں کہی جا سکتی کیونکہ اس نے اسحاق ڈار کے آنے کے بعد پروگرام بحال کروانے میں غیر معمولی تاخیر سے کام لیا۔ مریم نواز کے سیاسی بیگ میں معیشت کی بدحالی کا بوجھ بھی ہے۔ ایک عام آدمی نہیں جانتا کہ آئی ایم ایف کا ریویو کیا ہوتا ہے۔ اسے اس بات سے غرض ہے کہ اس کے بچوں کو شام کوکھانا ملا کہ نہیں۔ اس کے پاس بجلی کا بل جمع کروانے کے لیے پیسے ہیں کہ نہیں۔ اور اس غریب آدمی کا ووٹ بھی ہے جو وہ اسے دے گا جو اس کے یہ بنیادی مسائل حل کرے گا۔

اس ہوشربا مہنگائی میں مریم نواز کیا عوام کو قائل کر پائیں گی کہ مہنگائی کی وجوہات ناگزیر تھیں؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ لوگ ان سیاستدانوں کی باتیں سُن سُن کے تنگ آ چُکے ہیں۔ مریم نواز کو ان دس مہینوں کا جواب دینا پڑے گا۔ عمران خان نے تو جو کیا سو کیا۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے اس کی تلافی اور مداوے کے لیے کیا کیا؟ آپ تو شوق سے حکومت میں آئے تھے۔ آپ نے لوگوں کو کیا دیا؟ مریم نواز کو ان سوالوں کے جوابات دینے پڑیں گے۔

ان عوامل اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میری یہ رائے ہے۔ کہ سیاست کے اس پہاڑ پہ چٖڑھنا اب مریم کے بس کی بات نہیں۔ ویسے بھی میں ذاتی طور پہ کسی بھی معاملے میں صرف ایک انسان سے تمام اُمیدیں وابستہ کر لینے کے حق میں نہیں۔ ہر انسان کی ایک حد ہوتی ہے، وہ اس سے آگے نہیں جا سکتا۔ فرض کریں اگر وہ ناکام ہوجائے تو؟ اسحاق ڈار کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہیں مسیحا بنا کے پیش کیا گیا۔ لیکن وہ ناکام ہوئے۔ لہذا جسے اُمید سحر کہا جارہا ہے۔ کہیں یہ نون لیگ کی سیاست کا چراغِ سحری تو نہیں؟