کچھ ممالک امیر کیوں، اور کئی ممالک غریب کیوں ہیں؟
- تحریر محمد طارق
- سوموار 30 / جنوری / 2023
دنیا میں کون سے عوامل سے کچھ ممالک میں امارت آئی ، خوشحالی اور ترقی ہوئی - جبکہ کئی ممالک میں غربت بڑھی ، شہریوں کی زندگیاں مشکلات سے دوچار ہوئیں ۔ مغرب خاص کر یورپ میں صنعت کاری بڑھا اور یورپی ممالک ترقی یافتہ ہوئے تو دوسری طرف افریقی ممالک ابھی تک غربت سے نکلنے کی تگ ودو کررہے ہیں-
جو لوگ اقتصادیات کا علم رکھتے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ کسی ملک کی ترقی اور معاشی افزائش میں مسلسل اضافے میں سب سے بڑا کردار اس ملک کی افرادی قوت، سرمایہ اور افرادی قوت کی بہتر استعداد کاری پر ہوتا ہے - یعنی جس ملک کو ہنرمند افرادی قوت، سرمایہ کاری کے لیے وسیع مالی وسائل اور نئی ٹیکنالوجی کے وسائل میسر ہوں، وہ ممالک جلد ترقی کرتے ہیں- یہ طریقہ درمیانی اور قلیل مدت میں ترقی کی وضاحت کرنے میں اچھی دلیل ہے۔ لیکن یہ دلیل بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتی کہ کیوں دنیا کی معاشی تاریخ میں کچھ ممالک انتہائی ترقی یافتہ بنے اور خوشحال ہوئے اور کئی ممالک معاشی ترقی، خوشحالی کے لیے طویل جدوجہد کرنے کے بعد ناکامی کا شکار ہیں -
اقتصادیات کی تاریخ اور اقتصادیات پر تحقیق سے یہ عقدہ کھلا کہ کسی ملک میں طویل المدت معاشی ترقی کا دارومدار اس ملک کے مضبوط، فعال نجی و سرکاری اداروں سے وابستہ ہے- اداروں کی فعالیت کے ساتھ اس ملک کی ترقی میں معاشرے کی ثقافتی، معاشرتی اقدار، جغرافیائی حالات بھی کچھ نہ کچھ کردار ادا کر تے ہیں- کسی بھی ملک میں فعال اور مستحکم ادارے پر امن، دوستانہ ماحول مہیا کرتے ہیں ۔ تاکہ اس ملک کے شہری کام کرنے اور سرمایہ کاری کرنے سے خوفزدہ نہ ہوں۔ وہ سب کے لیے یکساں اصول بناتے ہیں (مقابلے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں)۔ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ ہر کوئی قواعد و ضوابط کی پابندی کرے - وہ مارکیٹ میں لین دین کی لاگت کو کم کرتے ہیں - یہ ملکی ادارے اپنے شہریوں کو تعلیم کی سہولیات دے کر اور سماجی مدد فراہم کرکے مستکحم انتظامی ڈھانچہ ترتیب دیتےہیں، تاکہ معاشرے میں زیادہ تر لوگوں میں ترقی کے مواقع حاصل کرنے میں کم و بیش یکساں امکانات موجود رہیں ۔
اقتصادیات کی تحقیق سے یہ نقطہ واضح ہو چکا کہ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں بنیادی کردار اس ملک کے اداروں کا ہوتا ہی ہے تو پھر ترقی پذیر یا غریب ممالک ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتے جس سے ان ممالک میں فعال ادارے تشکیل پا سکیں- ترقی پذیر ممالک میں فعال ملکی اداروں کی تشکیل نو کے وقت ان ممالک کے فیصلہ سازوں کو عموماً دو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
1- اقتدار پر قابض طبقے کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک میں آمرانہ نظام رائج کیا جائے تاکہ جمہوریت، جمہوری آزادیوں کی وجہ سے ان کے اقتدار اور بے پناہ معاشی وسائل پر عوام سے سوال نہ اٹھے اور ان کے معاشی وسائل میں کوئی دوسرا حصہ دار نہ بن سکے-
2- اگر کسی ملک میں ادارے کسی طرح تشکیل پا بھی جائے تو ان اداروں کی استعداد کو برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہوتا ہے- اداروں کی پرفارمنس کا دارومدار ان اداروں کو چلانے والے عملے کی انتظامی، علمی قابلیت سے وابستہ ہے - اگر ادارے کو چلانے والے افراد اچھا کام کریں گے تو ادارے کی کارکردگی مثبت نتائج دے گی ، جبکہ ادارے کو چلانے والے افراد اچھا کام نہیں کریں گے تو پھر ادارے کی کارکردگی منفی رہے گی - جیسے مغربی ممالک کی سابق کالونیوں نے اپنی اپنی کالونیوں میں اچھے ادارے بنائے - ان کے جاتے ہی ان کالونیوں میں اچھے ادارے بننا ختم ہوگئے -
کون سے کام اور کون سے نکات پر عملدرآمد کرنے سے چند ممالک فعال ادارے تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ کچھ ممالک فعال اداروں کی تشکیل میں بری طرح ناکام ہوئے - عالمی درجہ بندی میں سب سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے والی فہرست میں دنیا کے 40 ممالک کو ورلڈ بینک نے شامل کیا ہے- زیادہ آمدنی والے ممالک اور کم آمدنی والے ممالک کے درمیان دو امتیازی خصوصیات ہیں-
پہلا ان 40 ممالک میں جمہوریت اور جمہوری نظام حکومت رائج ہے -
دوسرا ان 40 ممالک میں عدم مساوات کی شرح کم ہے -
پہلی امتیازی خصوصیت سیاسی، انتظامی طاقت کی تقسیم کو ظاہر کرتی ہے- جبکہ دوسری خصوصیت معاشی وسائل کی تقسیم کو ظاہر کرتی ہے - جمہوریت شہریوں کو اجتماعی نظام کو چلانے کے طرف راغب کرتی ہے- جمہوریت سے شہریوں کوسیاسی عمل میں حصہ لینے اور اظہار آزادی رائے کے مواقع میسر ہوتے ہیں- سب شہریوں کو یکساں حقوق ملتے ہیں - جمہوری نظام حکومت سے سیاسی و معاشی اختیارات تقسیم ہوجاتے ہیں، جس سے ملک میں اقتصادی ترقی کے فوائد سب شہریوں کو ملنا شروع ہو جاتے ہیں-
ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے۔ جب کسی ملک میں فعال ادارے ترقی کرتے ہیں تو یہ ترقی فعال اداروں کو مزید فعال اور شہریوں کی بہتر خدمات کی رسائی تک لی جاتی ہے- امیر ترقی یافتہ ممالک میں شہریوں کو معاشی آسودگی حاصل ہوتی ہے ، اس معاشی آسودگی کی بدولت شہری سیاست دانوں اور حکومتوں پر دباو ڈال کر ملک میں مزید معاشی ترقی کے منصوبوں ، اداروں کی استعدادکاری کاری میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں- جس سے ان ممالک میں معاشی ترقی کو مزید تقویت ملتی ہے -
جغرافیائی لوکیشن
ملکوں کا ترقی یافتہ بننا اور ترقی پذیر رہنا کیا جغرافیائی حدود کی وجہ سے، حالانکہ کئی ممالک میں جغرافیائی اعتبار سے زراعت کے لیے موزوں موسم رکھنے کے ساتھ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ممالک غربت سے نہ نکل سکے اور نہ ہی ان ممالک میں ترقی ہو سکی -
خوشحالی و ترقی میں مقامی معاشرتی اقدار ، ثقافت کا کردار
سماجی علوم کے محققین کے مطابق بعض ممالک کی ترقی و خوشحالی میں، ان ممالک میں فعال اداروں کی موجودگی سے زیادہ ان ممالک کی مقامی معاشرتی ، ثقافتی اقدار نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے - جیسے اٹلی میں پورے ملک میں سرکاری و نجی ادارے موجود ہیں- لیکن شمالی اٹلی میں ترقی و خوشحالی، جنوبی اٹلی کی نسبت زیادہ دیکھنے کو ملے گی - شمالی اٹلی میں زیادہ خوشحالی کی وجہ شمالی اٹلی کے باشندوں کا ڈسپلن، ہنرمندی کی طرف رحجان اور مسلسل محنت کرنے کی عادات ہیں- جبکہ جنوبی اٹلی کے باشندے لاپرواہ، ڈسپلن سے عاری اور غیر تعمیری کاموں میں زیادہ مشغول ہیں-
جرمن قوم کو آپ کسی موسم، کسی ماحول میں چھوڑ آئیں، جرمن قوم چند عرصے بعد آپ کو معاشی معاملات میں کامیاب اور خوشحال نظر آئے گی- جرمن قوم کی معاشی معاملات میں کامیابی اور خوشحالی کی وجہ جرمن معاشرتی اقدار ہیں، جن میں خاص طور پر وقت کی پابندی کرنا، دیانت داری سے کام کرنا اور نئے آئیڈیاز، ٹیکنالوجی کو اپنے کام کی استعداد کو موثر بنانے میں استعمال کرنا ہے -
ملکی قیادت کے بروقت صیح فیصلے
بعض دفعہ ملکوں کی معشیت میں ترقی و بہتری یا تنزلی ان ملکوں کی قیادت کے بروقت صیح انفرادی فیصلوں سے بھی ممکن ہوئی - جیسے 16 ویں صدی میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اول نے برطانوی تاجروں کو کھلے سمندروں میں آزادانہ تجارت کرنے اور منافع اپنے پاس رکھنے کی اجازت دی۔ اس فیصلے نے برطانوی تاجروں کو ترقی کی منازل طے کرنے کے مواقع فراہم کیے- جس سے برطانوی تاجر برطانوی سلطنت کی بیرون ممالک طاقت بنانے میں کافی مددگار ثابت ہوئے -
جبکہ 16 ویں صدی ہی میں ہسپانوی بادشاہ نے اس کے برعکس فیصلہ کیا اور اپنے تاجروں کے منافع کا ایک بڑا حصہ ہسپانوی تاجروں سے چھین کر اپنی بادشاہت مملکت کے حوالے کر دیا، جس سے ہسپانوی تاجروں نے بیرون ممالک میں ہسپانوی سلطنت کے ساتھ تعاون کرنا چھوڑ دیا - جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سپین کی سمندری ٹرانسپورٹ پر بالا دستی ختم ہوکر برطانیہ کے ہاتھوں میں آگئی-
معاشی نظریات
قلیل مدت میں ملکوں کے فیصلہ سازوں کے معاشی نظریات ملکوں کی اقتصادی حالات پر کم اثر ڈالتے ہیں- جبکہ طویل المدت میں معاشی نظریات ملکوں کی اقتصادی حالات پر زیادہ اثر ڈالتے ہیں- جیسے لبرل ازم اور آزادی سوچ نے صنعتی انقلاب برپا کیا- لبرل ازم نے کھلی معشیت اور نجی ملکیت کی تجارت و کاروبار کو فروغ دیا- لبرل ازم کی آزادانہ سوچ سے ، ریاست کے سب اداروں کا آپس میں تعاون کرنا ملکی معشیت میں اضافے کا سبب بنا دوسری طرف کمیونزم، سوشل ازم نے بھی ملک کے سرکاری اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا- مگر سرکاری ادارے نجی ملکیت کے کاروباری اداروں سے تعاون کرنے اور تعاون کو فروغ دینے میں ناکام رہے- جس کی وجہ سے کمیونزم ممالک طویل المدت میں ملکی مجموعی معاشی ترقی کو فروغ دینے میں ناکام رہے -
تو پھر کون سے عوامل کچھ ممالک کو امیر بناتے ہیں اور کچھ ممالک کو غریب-
امیر و خوشحال ممالک کے ترقی یافتہ ہونے میں ان ممالک کے مضبوط، مستحکم، مشاورتی رویے پر منبنی اداروں نے کردار ادا کیا- ان اداروں کی استعداد، فعالیت کو طویل المدت میں قائم رکھنا بھی ترقی کو فروغ دینے کی وجہ ہے - ترقی یافتہ، خوشحال ممالک میں شہری اجتماعی سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں- ملکی معاشی وسائل کی تقسیم مساوات پر مبنی ہوتی ہے - شہری اور ریاست مل جل کر کام کرتے ہیں، ریاست معاشی سرگرمیوں میں ایسی پالیسیاں ترتیب دیتی ہے جس سے معاشی عمل میں شریک کار بننے کے لیے ہر شہری کے لیے مساوای مواقع ہیں- کسی بھی ملک میں معاشی وسائل کی تقسیم اس ملک کے معاشی نظام اور اداروں کو مستحکم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے -
معاشی وسائل اور طاقت کا بہت زیادہ ارتکاز جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے اور جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیتا ہے- ملکوں میں معاشی عدم مساوات اکثر پاپولرازم نظریہ کو فروغ دیتا ہے- معاشی عدم مساوات مزید معاشی عدم توازن اور آمرانہ نظام کو فروغ دیتی ہے- اسی لیے اب یہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ دنیا میں معاشی عدم توازن اور دولت کے ارتکاز کو کم کرنے کے لیے پالیسیاں مرتب کی جائے- یاد رکھیں کہ تاریخی طور پر معاشروں میں زیادہ معاشی عدم توازن دنیا میں جنگ و جدل کا سبب بنا۔