اجے قیامت نئیں آئی
- تحریر رضی الدین رضی
- سوموار 30 / جنوری / 2023
ہم اپنے بچپن میں پاکستان کی صورت حال پر اپنے بزرگوں کی تشویشناک باتیں سنتے تھے۔”پاکستان کس دوراہے پر ہے؟ اس کاانجام کیا ہوگا؟ قائداعظمؒ نے یہ ملک اس لئے تو نہیں بنایاتھا کہ جس کاجی چاہے وہ اسے لوٹ کر کھاجائے اور نہرو نے تو کہا تھا کہ میں نے اتنی دھوتیاں نہیں بدلیں جتنی پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہوگئی ہیں اور ابوالکلام آزاد نے ملک ٹوٹنے کی جو پیشگوئی کی تھی وہ پوری ہوچکی، آدھا ملک تو ہاتھ سے چلاگیاباقی آدھے کو اللہ ہی بچائے گا ورنہ حال توبہت برا ہے“۔
ہمارے بزرگ مہنگائی کا رونا بھی خوب روتے تھے۔دیسی گھی نوروپے کلو ہوا تو گویا کہرام مچ گیا۔ چینی اورآٹا اس زمانے میں راشن کارڈ پر ملتاتھا اوران کے ڈپو اس دور کے سیاستدانوں کی مرضی سے تقسیم ہوتے تھے۔ملتان میں راشن ڈپو کے ذریعے ترقی کرنے والوں میں سعید قریشی صاحب کی مثال دی جاتی تھی، اس مہنگائی اور بددیانتی کو قیامت کی نشانی کہا جاتا تھا، اس زمانے میں سب کو قیامت کا انتظاربھی بہت تھااورچودھویں صدی ہجری کو قیامت کی صدی قراردیاجاتاتھا۔ہمارے بزرگ ہی نہیں اس دور کے مولوی صاحبان بھی جمعہ کے خطبوں میں چودھویں صدی کو قیامت کی صدی ہی کہتے تھے،کوئی قتل ہو جاتا، کوئی ہنگامہ ہوجاتا،آسمان پراگرکوئی غیرمعمولی ستارہ دکھائی دیتا،کہیں کوئی محبت کی شادی کرلیتا تو یہ سب قیامت کی نشانیوں میں شمارہوتاتھاکہ ہم چودھویں صدی میں جو سانس لے رہے تھے پھرہمارے سامنے چودھویں صدی ختم ہوگئی اور پندرہویں صدی ہجری کا آغاز ہوا اور یہ آغازبھی اب نصف صدی کاقصہ ہونے کو ہے۔
کرش انڈیا کے نعروں کے ساتھ ہم نے مشرقی پاکستان گنوا دیااور ہمارے90ہزار شہری اور فوجی جنگی قیدی بن گئے پھر اُس وقت کے ”مسیحا“ ذوالفقارعلی بھٹو نے کھلی آستینوں کے ساتھ جلسے کیے۔ بھارت کوللکارا،اندرا گاندھی کوطعنے دیئے اور 90ہزار قیدیوں کو واپس لے آئے۔ مشرقی پاکستان میں جس ٹکا خان کو قصاب کے نام سے یاد کیاجاتاتھا وہ بھٹو صاحب کے پسندیدہ جرنیل کے طورپر سامنے آئے اور جتنا عرصہ بھٹو صاحب ٹکا خان کے ہمراہ ایک پیج پرر ہے پاکستان میں جمہوریت کا سفرخوش اسلوبی کے ساتھ جاری رہا۔اداروں میں کوئی محاذ آرائی نہ ہوئی اور اس تمام عرصے کے، دوران دولخت ہوئے پاکستان کے ٹکڑے جوڑ کر ایک نیا ملک تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی لوگوں نے ہوجمالو کی تھاپ پر نعرے لگائے اور سب دکھوں کو بھول گئے۔ بینک اور صنعتیں جب قومیا لی گئیں تو قوم خوشی سے نہال ہوگئی جیسے لوگوں کو روٹی، کپڑا اورمکان سب کچھ مل گیا ہو، یہی وہ دور تھا جب بھٹو صاحب نے پاکستان کاپہلا آئین بنایا،جب پاسپورٹ بنا،شناختی کارڈ کا اجرا ہوا گویا قوم کو صحیح معنوں میں اس کی شناخت مل گئی۔
پھراس کے بعد یہ ہواکہ قومیائے گئے ادارے مزدور یونینوں کے رحم وکرم پرآگئے، مزدور لیڈر جو چاہتے تھے،جب چاہتے تھے اورجیسا چاہتے تھے وہی ہوتاتھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ قومیائے گئے ادارے برباد ہوگئے اوربعدازاں پیپلزپارٹی کو یہ تسلیم کرناپڑا کہ ادارے قومیانے کا ان کافیصلہ غلط تھا۔بھٹو دور میں غریب کی حالت تبدیل تو نہ ہوئی لیکن اتنی بری بھی نہیں تھی۔ایک طرف پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی کوششوں کا آغاز ہو اتو دوسری جانب آبادی کے ایٹم بم سے بچاؤ کے لئے خاندانی منصوبہ بندی متعارف کروادی گئی پھروقت نے ایک کروٹ لی۔1974 میں اسلامی سربراہ کانفرنس نے قوم میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کی نئی روح پھونک دی اور بھٹو صاحب اُمت مسلمہ کے ہیروبن گئے۔بھٹو نے شیخ مجیب الرحمن،شاہ فیصل،صدام حسین،یاسر عرفات،عیدی امین اور کرنل معمرقذافی کی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھایااور بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا۔”بنگلہ دیش نامنظور“ کی آوازیں کانفرنس کے ترانوں میں دب کررہ گئیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب عالم ِ اسلام کی یہ ساری قیادت استعمار کے نشانے پر آگئی اور پھران سب کا جو انجام ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔
عوامی مقبولیت کے سحر میں گرفتار ذوالفقارعلی بھٹو نے پہلے تو ٹکا خان کے روکنے کے باوجود جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنایا اور پھر قبل ازوقت انتخابات کا اعلان کر دیا پھر مارچ 1977 میں ہونے والے انتخابات کے نتائج تاریخ کا حصہ بن گئے۔بھٹو صاحب کے خلاف ان انتخابات کے نتیجے میں جوتحریک شروع ہوئی اسے تحریک نظام مصطفی کانام دیاگیا۔ ہم نے ڈالر کا نام پہلی مرتبہ اسی تحریک میں سناتھا۔بھٹو صاحب کے حامی یہ الزام عائد کرتے تھے کہ ان کی حکومت کے خلاف مہم میں مولویوں کو ڈالر دیئے جارہے ہیں۔اس الزام میں کتنی حقیقت ہے اس بارے میں کچھ کہنا اس لئے مناسب نہیں کہ ہمارے آج کے بہت سے دوست بھی اس زمانے میں اْس تحریک کاحصہ تھے اور بعدازاں ہم نے ان سے یہ بھی سنا کہ ہم تو نادانستگی میں بھٹو صاحب کے خلاف استعمال ہوگئے۔
ہم نے کالم کے آغاز میں یہ لکھا تھا کہ بچپن میں ہمارے بزرگ کس طرح پاکستان کے بارے میں مایوسی کاشکاررہتے تھے لیکن آج پاکستان بہرحال اپنی جگہ پر موجودہے اور کہایہ جاتا ہے کہ پاکستان مملکت ِ خداداد ہے اس لئے یہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ہمیں یہ سب اس لئے یادآیا کہ گزشتہ روز ہمارے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں،پاکستان کی حفاظت،ترقی اورخوشحالی اللہ کے ذمے ہے، ان کایہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ڈالرکی قیمت میں ایک ہی روز میں سات روپے کا اضافہ ہوا۔
اسحاق ڈار نے یہ دعویٰ کیاتھا کہ وہ ڈالر کی قیمت 200روپے سے بھی نیچے لے جائیں گے لیکن گزشتہ ہفتے کے دوران روپے کی قدر میں کمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے،یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہورہاہے جب پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ ڈالر پر حکومتی کنٹرول ختم ہونے کے بعد اس کی پرواز کہاں تک جائے گی یہ تو آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہوگا لیکن تشویش کی کوئی بات نہیں، پاکستان کی حفاظت ڈار صاحب کے بقول اللہ کے ذمہ ہے، ایسے میں یہ سوال کرنے والے حق بجانب دکھائی دیتے ہیں کہ اگرسب کچھ اللہ تعالی نے ہی کرنا ہے تو پھر ڈار صا حب کیا کررہے ہیں؟
لیکن قارئین کرام ہم اپنے بزرگوں کی طرح تشویش کا شکار نہیں۔ قیامت والی صدی گزرچکی اور ہمیں منو بھائی کی اس نظم پر یقین ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”اجے قیامت نئیں آئی“۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)