پاکستان میں کچھ تبدیل نہیں ہؤا
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 30 / جنوری / 2023
’پاکستان مسلسل اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے‘ اور قوم کو اب بھی دیکھے اور ان دیکھے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ لیکن یہ دعوت دینے والوں کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبان میں ہیں ۔ وہ اپنے مخالفین سے عزت، شہرت، رتبہ حتی کہ زندہ رہنے تک کا حق تک چھین لینا چاہتے ہیں۔ پشاور پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکہ میں 59 افراد شہید اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ تحریک طالبان پاکستان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ لیکن پاکستان میں معاملات کا وہی عالم ہے کہ ’زمین جنبد نہ جنبد گل محمد‘۔
پاکستان کو درپیش معاملات اور مسائل کی سنگینی کا الفاظ میں احاطہ کرنا اور شعوری لحاظ سے انہیں مکمل طور سے سمجھ کر کسی نتیجہ تک پہنچنا نہایت مشکل کام ہے۔ یہ مسائل تہ در تہ، دہائیوں کی غلطیوں کی بنیاد پر جمع ہونے والی مشکلات کا ایسا پہاڑ ہے جو اس ملک کی مسلسل بڑھتی ہوئی ناتواں آبادی کے سر پر لاد دیا گیا ہے۔ اور امید کی جارہی ہے کہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے عوام اس مشکل سے بھی نکل جائیں گے اور وہ سارا بوجھ جو اشرافیہ کی غلطیوں کی وجہ سے قوم پر بیرونی اور اندرونی قرضوں کی صورت میں جمع کیاگیا ہے، اسے نہ صرف آسانی سے اٹھا لیں گے بلکہ اس میں متوقع اضافہ کو بھی ’بخوشی‘ قبول کرلیں گے ۔ کیوں کہ ملک کے لیڈر سنہری الفاظ میں اپنی غلطیوں کی ذمہ داری دوسرے پر لادنے کا فن جانتے ہیں ۔ وہ اس فن میں اس حد تک طاق ہوچکے ہیں کہ انہیں جھوٹ بولتے ہوئے یہ فکر لاحق نہیں ہوتی کہ چند ہی روز بعد جب کہی ہوئی بات غلط ثابت ہوگی تو اس کا کیا جواب دیا جائے گا۔ اس کی سب سے نمایاں مثال اسحاق ڈار ہیں۔ جو اپنی ہی پارٹی کے مفتاح اسماعیل کی پالیسیوں کو ناکام قرار دے کر بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے وطن واپس آئے تھے لیکن ان دعوؤں کے زمین بوس ہوجانے کے باوجود وہ اترائے پھرتے ہیں اور آئی ایم ایف کی شرائط پر ہو بہو عمل کرتے ہوئے بھی معاشی اصلاح کی بات کرنے کی بجائے، اس موضوع پر مذاکرہ کی دعوت دے رہے ہیں۔ کیوں کہ اب حکومت ہو یا اپوزیشن ، تجزیہ نگار ہو یا اینکر پرسن، وہ الفاظ سے ہی عوام کا ’پیٹ بھر سکتے‘ ہیں۔ تاکہ ان کے اپنے گھر کا چولہا جلتا رہے۔
پشاور دھماکہ میں درجنوں جوان شہید ہوگئے۔ پولیس لائنز جیسے حساس مقام پر ایک دہشت گرد اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر مسجد میں پہنچ گیا اور عین نماز کے بیچ دھماکہ کرکے امام سمیت ساٹھ کے لگ بھگ لوگوں کو ہلاک کردیا۔ اور اس ملک کے وزیر و مشیر عوام کو یہ تفصیلات بتانے میں مصروف ہیں کہ حملہ آور دراصل نمازیوں کی پہلی قطار میں بیٹھا تھا۔ میڈیا یہ تفصیلات عام کرنے میں سرگرم ہے کہ کس ہسپتال میں کتنی لاشیں اور زخمی لائے گئے اور یہ کہ خود کش حملہ آور کے جسم کے کون سے اعضا کہاں کہاں سے دستیاب کئے جاچکے ہیں۔ کوئی یہ جاننا یا پوچھنا نہیں چاہتا کہ جب ملک کسی جنگ میں مصروف نہیں ہے اور جس وقت علاقے میں کوئی بڑا تنازعہ بھی موجود نہیں اور بظاہر ہمسایہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی مفاہمانہ، برادرانہ اور دوستانہ ہیں تو پاکستان کو اس نامعلوم جنگ میں دھکیلنے والے عناصر کون سے ہیں۔
ان عناصر کو تحریک طالبان پاکستان کا نام دیا جاتا ہے۔ ٹی ٹی پی نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول بھی کرلی ہے۔ لیکن اس بات کا جواب تو ملک پر حکمرانی کرنے والے لیڈروں ہی کو دینا ہے کہ چند ہزار افراد پر مشتمل یہ گروہ کیا چاہتا ہے اور مملکت پاکستان سے اس کی کیا لڑائی ہے۔ یہ لوگ اگر پاکستانی ہیں اور قبائیلی علاقوں کی پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ یا اگر یہ سیاسی نظریہ بھی قبول کرلیا جائے کہ تحریک انصاف کی عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی طالبان کابل پر افغان طالبان کے قبضہ کے بعد قبائیلی علاقوں میں داخل ہوگئے تو بھی حکومت کو ہی یہ جواب دینا ہے کہ ریاستی مشینری کے وہ ادارے کیوں ناکام رہے جن کا کام ہی ان عناصر کی نگرانی کرنا اور انہیں کسی سماج دشمن کارروائی سے روکنا تھا۔ دوسرے اس سوال کو ذمہ دارانہ قومی مباحثہ کا حصہ بنانا چاہئے کہ تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کون سی شریعت پاکستان پر نافذ کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے انہیں ہتھیار اٹھانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے۔
اس سنجیدہ اور ضروری بحث کی بجائے حکومت تحریک انصاف کی حکومت پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس کے دور میں ان عناصر سے سیاسی مذاکرات کئے گئے اور انہیں غیر ضروری مراعات دے دی گئیں جس کی بنا پر وہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستان میں داخل ہوکر ایک بار پھر دہشت گردی میں مصروف ہوگئے ہیں۔ البتہ اس سوال کا جواب نہیں دیا جاتا کہ سمندر کی تہ سے راز برآمد کرنے اور بند کمروں کے پیچھے رونما ہونے والے واقعات کی خبر رکھنے والی ہماری ایجنسیاں آخر کیوں ان عناصر کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنے اور مسلسل تباہ کاری و خوں ریزی کی منصوبہ بندی کا قبل از وقت پتہ لگانے میں ناکام رہتی ہیں۔ کسی گھر میں چوری ہوجائے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ گھر میں کون چوروں کا بھیدی یا ساتھی ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد یہ غور کیاجاتا ہے کہ گھر کی حفاظت میں کون سے کمی رہ گئی تھی۔ لیکن قوم مسلسل ٹی ٹی پی کے نشانے پر ہے اورحکومت کے سارے ذمہ دار دہائیوں پرانے بیانات کو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ نشر و شائع کرواکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوجاتے ہیں۔ یہ صورت حال کیوں پیدا ہوئی ہے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ملک میں ہر سطح پر جوابدہی کا نظام مفقود ہوچکا ہے۔ فوج کو ملک کا منظم ترین اور شفاف ترین سسٹم رکھنے والا ادارہ سمجھا اور کہا جاتا ہے لیکن فوج بھی دہشت گردی میں مسلسل اضافہ پر کسی قسم کی جوابدہی پر تیار نہیں ہے۔ نہ تو قوم کو یہ پتہ ہے کہ کن عناصر سے مملکت پاکستان کے کن نمائیندوں نے کیا بات چیت یا معاہدہ کیا تھا اور کن امور پر کن عناصر کو ’ناراض‘ کردیا گیا ہے کہ وہ اب لوگوں کو ہلاک کرنے پر آمادہ ہیں اور سول و عسکری قیادت مذمت کرنے اور زخمیوں کی عیادت کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں ہے۔
عمران خان کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ارکان کو معاہدے کے تحت پاکستان لایا گیا تھا۔ ان کی حکومت نے ان کی آباد کاری کا منصوبہ بنایا ہؤا تھا لیکن حکومت کے خلاف سازشیں کرکے اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا جس کی قیمت اب معصوم لوگ اپنے خون کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔ عمران خان کا ایک مسئلہ تو اب سنجیدہ نفسیاتی گتھی کی حیثیت اختیار کرچکا ہے کہ انہیں ہر قومی معاملہ میں اپنی حکومت کے خلاف کی جانے والی سازش دکھائی دیتی ہے اور وہ ہر سانحہ اور ہر واقعہ کو کسی بھی طرح اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد سے جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ قوم کو یقین دلایا جاسکے کہ تحریک انصاف کی حکومت جسے ملکی تاریخ میں ناکام ترین حکومت کہا جاسکتا ہے، وہی درحقیقت سب سے بہتر تھی اور بے ڈھنگوں کا وہی ٹولہ درحقیقت ملک کو تمام مسائل سے نجات دلا سکتا ہے۔
البتہ جہاں تک تحریک طالبان کے ساتھ معاہدے اور انہیں پاکستان لاکر آباد کرنے کے وعدے یا معاہدے کا تعلق ہے تو یہ ایک سنجیدہ قومی معاملہ ہے جسے سابق وزیر اعظم کا ’نیا اچھوتا‘ بیان قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ حکومت وقت اور عسکری قیادت کا فرض ہے کہ وہ سابقہ وزیر اعظم کی فراہم کردہ معلومات کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کریں۔ بتایا جائے کہ کیا واقعی کابل حکومت کے تعاون سے ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کوئی معاہدہ یا افہام و تفہیم طے پائی تھی اور کیا حکومت پاکستان نے چند ہزار دہشت گردوں کے تمام گناہ معاف کرکے انہیں پاکستان آنے اور باعزت زندگی گزارنے کے لئے وسائل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا؟
اگر یہ وعدہ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی کیا تھا اور دستاویزی طور سے اس کا ثبوت موجود ہے تو اسے سامنے آنا چاہئے۔ اور اگر شہباز حکومت نے اس معاہدے پر عمل درآمد میں کوتاہی کی ہے تو اس کی حقیقت بھی سامنے لائی جائے۔ دوسری طرف اگر عمران خان کے دعوے درست نہیں ہیں بلکہ وہ دہشت گردی کے واقعات اور معصوم اانسانوں کی ہلاکت کے واقعات کو بھی اپنی سیاسی ساکھ بہتر بنانے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں تو حکومت وقت کب ایسے غیر ذمہ دار اور قومی سلامتی کے لئے خطرہ بنے ہوئے لیڈر کو قانون کے سامنے جوابدہی پر مجبور کرے گی؟
البتہ راقم الحروف کو یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ یہ ساری باتیں ایک مجبور اور بے بس صحافی کی خوش گمانی سمجھ کر پڑھ لی جائیں۔ کیوں کہ قومی سطح پر جو مزاج استوار کیا جاچکا ہے اس کے ہوتے کسی اصول کی بنیاد پر اس ملک میں کسی معاملہ کو سنجیدگی سے طے کرنے کی کوئی روایت سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔ ملک میں بے حسی اور لاتعلقی کا ناقابل فہم ماحول طاری ہے۔ کم از کم تنخواہ کی سرکاری حد اب بھی 20 ہزار روپے ماہانہ سے کم ہے لیکن ایک ڈالر 270 روپوں میں دستیاب ہے۔ آٹا ڈیڑھ سو روپے کلو فروخت ہورہا ہے اور خبریں بتاتی ہیں کہ پیاز تین سو روپے کلو پر ملنا دشوار ہے۔ اس ملک میں ابھی وہ نسل بقائم ہوش و ہواس ہے جس نے اس قیمت میں ایک تولہ سونا خریدا تھا۔ آٹے اور پیاز کو سونے کی قیمت تک پہنچا دینے میں صرف ایک فرد یا ایک حکومت کا کردار تو نہیں ہوسکتا لیکن مجال ہے جو ہماری جبیں پر شکن بھی دیکھنے میں آئے۔
عمران خان دس ماہ سے نفرت پھیلا رہے ہیں اور اب مریم نواز نے اپنے طور پر تحریک انصاف کا ’مقبرہ‘ تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ اسمبلیاں توڑی جارہی ہیں، استعفے دیے جارہے ہیں، ضمنی انتخاب کے بعد صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا غلغلہ ہے۔ کون کہتا ہے کہ اس ملک کو کسی مشکل کا سامنا ہے۔ دہشت گردی ہورہی ہے تو مذمتی بیان بھی سرعت سے جاری ہوجاتے ہیں۔ سیاسی بیان بازی، اور انتقامی کارروائیوں کا ہر حربہ رو بہ عمل ہے۔
ہوسکتا ہے ملک میں غربت ہو ، مہنگائی ہو، کوئی بھوکا سوتا ہو لیکن منظر نامہ پر تو بھرے ہوئے ریسٹورنٹس اور سامان تعیش سے لبریز اسٹور دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت ٹیکس لگانے والی ہے لیکن جنہیں یہ قیمت ادا کرنی ہے ان کی بات سننے والا کوئی نہیں ہے۔ زمانہ قیامت کی چال ضرور چل گیا لیکن یہ قیامت اہل پاکستان کے سر پر سے گزر چکی ہے۔ ہم سینکڑوں سال پرانی دنیا میں شریعت کا نظام نافذ کرنے کا خواب دیکھنے کے لئے محو استراحت ہیں۔