کالعدم ٹی ٹی پی کو واپسی کی اجازت دینے کی تحقیقات کی جائیں: رضا ربانی
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رضا ربانی نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو پاکستان میں لانے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹ اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا جہاں سینیٹر رضا ربانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان لانے اور عوام کو اعتماد میں نہ لینے کی تحقیقات کی جائیں۔ پشاور سانحے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ دہشت گرد نے مسجد اور نماز کے وقت کا انتخاب کیا۔ ایک طرف ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں اور دوسری جانب حملے کے لیے مسجد کا انتخاب کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ موجودہ دہشت گردی کی وجوہات کیا ہیں۔ حکومت نے جو ٹی ٹی پی کی بحالی کی پالیسی شروع کی کیا وہ اس کی بنیاد ہے۔ کیونکہ جب کابل میں طالبان آئے تو اس کے ساتھ چند ہزار لوگوں کو اسلحہ کے ساتھ پاکستان آنے دیا گیا۔ پاکستان آنے والے طالبان سے متعلق کہا گیا کہ یہ ’گڈ طالبان‘ ہیں اور یہ آئین و قانون کے مطابق کام کریں گے اس لیے ان کی بحالی کی جائے۔ مگر اس وقت اس سے متعلق نہ پارلیمان اور نہ عوام کو اعتماد میں لیا گیا۔
اس وقت بھی پارلیمان یہ کہتی رہی کہ مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور یہ تمام باتیں رکھی جائیں تاکہ عوامی رائے سامنے آسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی سے اجازت لی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی سے اجازت نہیں لی گئی بلکہ صرف مطلع کیا گیا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ان مذاکرات پر پی پی پی اور اے این پی نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی پارلیمانی اور قومی سلامتی کمیٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، لہٰذا مطالبہ کرتا ہوں کہ ٹی ٹی ٹی کو پاکستان لانے اور عوام کو اعتماد میں نہ لینے سے متعلق پارلیمانی انکوائری ہونی چاہیے۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کے وقت بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ حکومت اپنی طرف سے مذاکرات کرتی تو بھی اور بات تھی اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ جرگے کو سونپا گیا۔