پشاور پولیس لائنز دھماکے میں شہدا کی تعداد 100 ہوگئی

  • منگل 31 / جنوری / 2023

پشاور میں گزشتہ روز پولیس لائنز کے قریب واقع مسجد میں ہونے والے دھماکے سے شہید ہونے والوں کی تعداد 100 ہوگئی ہے۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال  کے ترجمان محمد عاصم نے 100 افراد کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال لائے گئے تمام افراد کی شناخت ہوگئی ہے۔ اس وقت ہسپتال میں بم دھماکے کے53 زخمی زیر علاج ہیں، جن میں سے 7 کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مجموعی طور پر 157 زخمی لائے گئے تھے جن میں بیشتر کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے اور اس وقت ہسپتال میں موجود زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ کالعدم تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی بعد ازاں ایک بیان میں اس کی تردید کردی تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں ٹی ٹی پی کا مقامی گروپ اس میں ملوث ہوسکتا ہے۔

کمشنر پشاور ریاض محسود نے شہیدوں کی تعداد میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تلاش اور امدادی کام 24 گھنٹوں کے بعد مکمل ہوچکا ہے۔ پولیس لائنز میں میڈیا بریفنگ کے دوران آئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری نے کہا کہ اس وقت سب اہم سوال یہ ہے کہ ’ایک خود کش بمبار‘ پولیس لائنز میں کیسے داخل ہوا اور مسجد میں چلاگیا۔ پولیس لائنز میں کوئی سینٹرل کمانڈ نہیں ہے اور گیٹ پر چیکنگ کا نظام بہت محدود ہے۔

آئی جی نے کہا کہ وہاں پر کینٹینز ہیں اور تعمیراتی کام بھی ہو رہا تھا اور بظاہر دھماکا خیز مواد کم مقدار میں لایا جاتا رہا ہے اور وہاں پر ایک شکایتی مرکز بھی قائم ہے، جس کی وجہ سے عام  لوگوں کا وہاں آنا جانا رہتا ہے۔ حملہ اور سول افراد کے بھیس میں داخل ہوا تھا۔ حملہ میں 12 کلو سے زائد بارودی مواد استعمال ہوا اور زیادہ نقصان چھت گرنے سے ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں پاکستان مخالف عناصر اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گرد بزدلانہ حملوں کے ذریعےعوام میں خوف اور بے چینی پھیلانا اور انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہماری محنت سے حاصل ہوئی کامیابی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو میرا پیغام ہے کہ پاکستان مخالف عناصر کے خلاف متحد ہوجائیں، ہم اپنی سیاسی لڑائیاں بعد کرسکتے ہیں۔