کیا پاکستان دہشت گردوں کے خلاف نئی جنگ کے لئے تیار ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 31 / جنوری / 2023
وزیر اعظم سے لے کر آرمی چیف تک دہشت گردی ختم کرنے کا عزم لے کر میدان میں اترے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کو اب معلوم ہؤا ہے کہ افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ ہماری دہلیز پر آپہنچی ہے۔ حیرت ہے کہ ملک کا وزیر دفاع اپنے ہی ایک صوبائی دارالحکومت کے قلب میں دہشت گردی کی ہولنا ک واردات کے بعد بھی ابھی جنگ کو دہلیز پر کھڑا دیکھ رہا ہے ۔ ا سے یہ دکھائی نہیں دیتا کہ یہ جنگ اب ہم پر مسلط کردی گئی ہے اور قومی لیڈروں کے پاس نعروں اور وعدوں کے سوا اس چیلنج کا جواب دینے کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔
کور کمانڈر کانفرنس میں جنرل عاصم منیر نے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے سخت اقدام کا وعدہ کیا ہے۔ البتہ وزیراعظم شہباز شریف ہوں یا آرمی چیف جنرل عاصم منیر ان کے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے یا کم از کم یہ جواب عوام تک پہنچانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی کہ ایک بار دہشت گرد گروہوں پر قابو پانے اور ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرلینے کے بعد آخر وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ایک بار پھر یہ سلسلہ نہ صرف شروع ہؤا ہے بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز ہوتا چلا جارہا ہے۔ جب تک اس سوال کا جواب تلاش کرنے اور اس پر قومی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش نہیں ہوگی، دہشت گردی کی موجودہ لہر سے نمٹنا کسی بھی قومی ادارے کے لئے آسان نہیں ہوگا۔
سیاسی لیڈروں، حکومتی عہدیداروں یا فوجی قیادت کے مذمتی بیانات کے ہجوم میں یہ بات بھی نوٹ کی جاسکتی ہے کہ اس ملک میں اسلام کا علم اٹھائے ہوئے کسی بھی قابل ذکر گروہ کی طرف سے پشاور میں ہونے والے ہولناک اور المناک سانحہ کی مذمت کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ۔حالانکہ ان عناصر کو جوق در جوق پورے جوش و خروش اور یقین سے دہشت گردی کے نئے سلسلہ کے سامنے دیوار بننے کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ کوئی یہ نہیں چاہے گا کہ مساجد کے اماموں اور دینی علما ہاتھوں میں بندوقیں تھام کر عسکری اداروں کا کام کرنا شروع کردیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ عام لوگوں کی ذہن سازی کے سلسلہ میں اپنا فرض ادا کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں؟ علما و مشائخ اور دین کے ٹھیکیداروں کی پراسرار خاموشی سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ اب بھی اس ملک کے علما کی بڑی تعداد اس تنازعہ کو دینی مسئلہ نہیں سمجھتی بلکہ یہ قیاس کرتی ہے کہ مملکت پاکستان سے کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور سیاسی طور سے کچھ کوتاہیاں کی گئی ہیں جن کی وجہ سے بعض نوجوان ناراض ہوکر ’غلط‘ اقدام کر بیٹھتے ہیں۔ پشاور کی گلیاں لال ہوجانے کے بعد دینی لیڈروں کی پراسرار خاموشی ان کی دو عملی اور حقیقی وفاداری کے بارے میں شبہات پیدا کررہی ہے۔
پاکستان طویل عرصہ سے دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے۔ اب یہ کوئی قومی راز نہیں ہے کہ بم دھماکے اور خود کش حملے کرنے والے عناصر دین کے نام پر یہ گھناؤنے جرم انجام دیتے ہیں ۔ دھماکہ کرنے والا ضرور فرد واحد ہوتا ہے لیکن ایک نوجوان کے جسم پر بم باندھ کر اسے خود اڑادینے کے لئے بھیجنے والوں کا ایک پورا نظام ہے جو ایک حملہ آور کی لاش کے ٹکڑے ہوجانے کے بعد بھی بدستور موجود رہتا ہے اور کام کرتا رہتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ریاستی ادارے اور ہمارا سکیورٹی نظام ان عناصر کی گرفت کرنے، ان کے خفیہ ٹھکانوں کا سراغ لگانے اور ان کی مالی و عسکری معاونت کرنے والے عناصر کی بیخ کنی میں ناکام ہے۔ کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہونے سے پہلے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے بعد سیاسی و عسکری قیادت بیک زبان افغان حکومت پر الزام تراشی کرتی تھی اور دعویٰ کیا جاتا تھا کہ افغان خفیہ ایجنسی کے تعاون سے بھارتی ایجنسی را افغانستان میں پاکستان دشمن عناصر کو تربیت دے کر تخریب کاری کے لئے پاکستان بھیجتی ہے۔ لیکن گزشتہ چند ماہ سے دہشت گرد حملوں کے تسلسل کے باوجود ابھی تک قومی قیادت کوئی ایسا کاندھا تلاش نہیں کرسکی جسے وہ اپنی کوتاہیوں کاذمہ دار قرار دے سکے۔ اسی سے حکومت پاکستان کی حکمت عملی، عسکری قیادت کی بے بسی اور قوم کی مظلومیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف جب قومی اسمبلی میں افغان جنگ پاکستان کی دہلیز تک پہنچنے کے بارے میں گرج برس رہے تھے تو یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں تھا کہ وہ کن عناصر پر ذمہ داری ڈال کر کسی طرح اپنی حکومت کے صاف ہاتھ دکھانا چاہ رہے تھے۔ البتہ ان کی گفتگو سے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ جب افغان طالبان امریکی و اتحادی فوجوں پر حملوں کو مزاحمت کا نام دے کر معصوم شہریوں کا خون بہاتے تھے تو پاکستان کی طرف سے اس کی مذمت کے لئے بہت احتیاط سے کام لیا جاتا تھا۔ دوحا میں تکمیل پانے والے امریکہ طالبان مذاکرات نے بھی اس بات کا ثبوت فراہم کیا تھا کہ درحقیقت پاکستان کے کون سے عناصر مسلسل افغان طالبان کی حوصلہ مندی کا سبب بنے رہے ہیں۔ اور کابل پر طالبان کے اچانک قبضہ کا جو واقعہ پوری دنیا نے ملاحظہ کیا ہے ، اسے صرف ناکام امریکی پالیسیاں قرار دے کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔
اس واقعہ سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ طالبان کی عسکری صف بندی میں پاکستان کے کون سے عناصر سرگرم رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب طالبان کی حکومت قائم ہونے کے چند ہی روز بعد آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کابل کے ایک ہوٹل میں قہوہ نوش کرتے پائے گئے اور مسکر ا مسکرا کر دعویٰ کررہے تھے کہ انشاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا تو پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان نے ضرور فخر و انبساط کا اظہار کیا لیکن دنیا بھر سے بہت سی مشکوک نگاہیں افغان جنگ میں آئی ایس آئی کے کردار کے بارے میں سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ اسی قسم کی کوتاہیوں اور ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ بھارت کو مسلسل یہ الزام لگانے کا حوصلہ ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی سب سے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ یہ ایسا سنگین الزام ہے جسے ہم دو دہائیاں گزرنے کے باوجود ٹھوس طریقے سے مسترد نہیں کرسکے ۔ اس کے باوجود ہم نے اپنی غلطیوں سے تائب ہونے اور قوم کے لئے فلاح ، امن و سکون کا راستہ تلاش کرنے کا کوئی آبرومندانہ راستہ اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ پشاور سانحہ کے شہیدوں کا لہو یہ سوال نہایت شدت سے سامنے لایا ہے۔ بتایا جائے کون اس صورت حال کا ذمہ دار ہے اور کب اس حکمت عملی کو دفن کیا جائے گا جس کے نتیجے میں منتشر گروہوں میں بٹے ہوئے چند ہزار نوجوان پاکستان کے کروڑوں عوام اور منظم و مسلح افواج کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف کا یہ مطالبہ غلط ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لئے ضرب عضب جیسا آپریشن کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ضرب عضب کامیاب ہوگیا ہوتا تو دہشت گردی کے نئے واقعات سامنے نہ آرہے ہوتے۔ ملک سے دہشت گردی کا مزاج ختم کرنے کے لئے سب سے پہلے ان وجوہات کو تلاش کرنا پڑے گا جن کی وجہ سے فوجی آپریشن کے باوجود سماج دشمن عناصر کے بعض حصوں کو بدستور اپنا ’اثاثہ‘ سمجھنے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ یہ اثاثے بعد میں بم و بارود سے لیس اپنے ہی سابقہ سرپرستوں کو للکارنے کے لئے میدان میں اتر آتے ہیں۔ صاف سی بات ہے کہ اس معاملہ میں یا تو کوئی دشمن ہے یا دوست۔ ان دو صورتوں کے درمیان کوئی کیفیت نہیں ہوسکتی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ملک ، اس کے اداروں اور عوام پر ہلاکت مسلط کرنے والوں میں ’دوست‘ تلاش کرنے کی پالیسی کس حد تک قومی دفاعی و عسکری حکمت عملی کا حصہ رہی ہے یا بدستور ہے۔ البتہ ملک نے اگر موجودہ جنونیت سے نجات حاصل کرنا ہے تو ان وجوہات کو جاننے کے علاوہ اس پالیسی کے خد و خال کو تبدیل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا عفریت دھمکیاں دینے اور پر جوش تقریریں کرنے سے ختم نہیں ہوگا۔
اس کوشش کا آغاز اس تجویز سے کیا جاسکتا جو سینیٹ کے سابق چئیرمین اور پیپلز پارٹی کے لیڈر رضا ربانی نے آج سینیٹ میں موجود ہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ موجودہ دہشت گردی کی وجوہات کیا ہیں۔ حکومت نے ٹی ٹی پی کی بحالی کی جوپالیسی شروع کی تھی، کیا وہ پالیسی موجودہ دہشت گردی کی بنیاد ہے۔ کابل میں طالبان آنے کے بعد چند ہزار لوگوں کو اسلحہ کے ساتھ پاکستان آنے دیا گیا۔ پاکستان آنے والے طالبان سے متعلق کہا گیا کہ یہ ’گڈ طالبان‘ ہیں اور یہ آئین و قانون کے مطابق رہیں گے۔ اس لیے ان کی بحالی کی جائے۔ مگر اس سے متعلق پارلیمان یا عوام کو اعتماد میں نہیں لیا گیا‘۔ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کابل حکومت کے تعاون سے ہونے والے مذاکرات اور ان میں طے کی گئی تمام باتوں کو اب منظر عام پر آنا چاہئے تاکہ ان غلطیوں کا ادراک کیا جاسکے جو اس وقت ملک میں خوں ریزی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔
دہشت گردی و شدت پسندی کا طویل المدت علاج کرنے کے لئے ہتھیار اٹھاکر میدان میں اترنے سے پہلے نظریاتی محاذ پر ٹھوس کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ قومی ایکشن پلان کے تحت اس مقصد سے ہونے والے تمام اقدام جعلی اور بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ اس کی کچھ وجوہات واضح ہیں اور کچھ ابھی تک پردہ راز میں ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ہزاروں لوگ انتہاپسند عناصر کے قلع قمع کے لئے احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن اس احتجاج کو میڈیا کی خبر سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوسکی۔ کیا وجہ ہے کہ ریاستی ادارے قومی امن و خوشحالی کی اس عظیم قوت کو مثبت طور سے بروئے کار لانے میں کامیاب نہیں ہورہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ قبائیلی علاقوں اور بلوچستان میں عوام کی جائز شکایات کو سنا جائے، انہیں طاقت سے دبانے کی بجائے سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے تاکہ جو جنگ ہمسایہ ملک سے منتقل ہوکر پاکستان کی گلیوں بازاروں تک پہنچ رہی ہے، اس کا سامنا کرنے کے لئے واقعی قومی صف بندی کی جاسکے۔