انتخابات سے قبل امن و امان کی صورتحال مدنظر رکھی جائے: گورنر خیبرپختونخوا کا الیکشن کمیشن کو خط
گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے صوبے میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ سے متعلق الیکشن کمیشن کے خط کا جواب دے دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عام انتخاب کے انعقاد سے قبل امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے۔
انہوں نے صوبے میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخاب کے انعقاد سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رائے لی جائے۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صاف شفاف انتخاب کے انعقاد کے لیے تاریخ دینے سے قبل تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جانا ضرروی ہے۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ خوفناک ترین واقعے میں پشاور پولیس لائنز مسجد میں ہوئے خود کش حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد شہید جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
الیکشن کمیشن نے دونوں صوبوں کے گورنرز کو خط میں لکھا کہ پنجاب میں انتخابات 13 اپریل سے پہلے کرانا لازمی ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا انتخابات کے لیے 15 سے 17 اپریل کے درمیان کی تاریخ الیکشن کے لیے اعلان کریں۔
الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب اور خیبر پختونخوا کو خط میں کہا کہ پنجاب اسمبلی 14 جنوری کو تحلیل کی گئی، اسمبلی تحلیل کی صورت میں الیکشن کمیشن 90 روز میں انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ آرٹیکل 105 کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا گورنر کا آئینی اختیار ہے۔