فواد چوہدری کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی

  • بدھ 01 / فروری / 2023

قومی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزامات کے تحت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

25 جنوری کو فواد چوہدری کو اسلام آباد پولیس نے لاہور سے گرفتار کیا تھا۔ 2 روز قبل اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ان کا مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی پراسیکیوشن کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ فوادچوہدری کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے پی ٹی آئی رہنما کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی۔

فواد چوہدری کے وکیل بابر اعوان، فیصل چوہدری اور علی بخاری عدالت کے روبرو پیش ہوئے، تفتیشی افسر کی جانب سے کیس ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

وکیل بابراعوان نے درخواستِ ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن عمرحمید مدعی مقدمہ ہے، ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں، الیکشن کمیشن کے سیکٹری انفرادی طور پر خود ریاست نہیں ہے۔ میرا سوال ہے کیا الیکشن کمیشن حکومت ہے؟ کسی کو کہنا کہ تمہارے خلاف کارروائی کروں گا کا مطلب دھمکی دینا نہیں۔ بغاوت کی دفعہ انفرادی طور پر کچھ نہیں، بغاوت کی دفعہ کو سیاسی رنگ دیاگیاہے۔

بابر اعوان نے استدلال کیا کہ فواد چوہدری پر لگی دفعات پر عدالتوں کے کم فیصلے موجود ہیں۔ آج کل جو کیسز بن رہے اس کے بعد چند عدالتوں کے فیصلے آئے ہیں۔ اس موقع پر جج کی جانب سے وکیل بابراعوان کو مقدمہ پڑھنے کی ہدایت کی گئی۔

جج نے استفسار کیا کہ فواد چوہدری کی جانب سےکہنا کہ گھروں سے چھوڑ کر آنے کا کیا مطلب ہے؟ فواد چوہدری سینیئر وکیل اور پارلیمنٹیرین ہیں۔ ایڈیشل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے کہا کہ اس سے قبل ہماری ایک کولیگ کے بارے میں بھی کہا گیا۔ اتنا آگے جانے کا کیا مطلب ہے، بعد میں اس میں معافی مانگی گئی۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس معاملہ کو بھی میں نے جا کے حل کروایا تھا۔

پراسیکوٹر نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا مطلب کسی شخصیت کا کباڑا کرنا نہیں ہوتا۔ الیکشن کمیشن کے ملازم کو منشی بنا دیا۔ جج نے استفسار کیا کہ کیا کسی وکیل نے منشی کہنے پر اعتراض اٹھایا؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ملازم کو ٹارگٹ کرکے منشی لفظ استعمال کیاگیا۔ جج نے کہا کہ منشی کے لفظ کو غلط کیوں سمجھا جارہاہے؟

پراسیکیوٹر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ملازم کو ٹارگیٹ کرکے منشی لفظ استعمال کیاگیا۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ فواد چوہدری نے پروگرام میں کہا اس ملک میں جو بغاوت ہے وہ تو فرض ہے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ملک میں استحکام نہیں۔ اس دوران عوام کو اکسانا ٹھیک نہیں، صرف الیکشن کمیشن کو ٹارگٹ نہیں کیاجارہا، رجیم چینج کے بعد افواجِ پاکستان اور سیاسی شخصیات کو ٹارگیٹ کیا جارہا۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فواد چوہدری کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی، پی ٹی آئی رہنما کی درخواست ضمانت 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی گئی۔