ریاست کی ڈوبتی نبض
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- بدھ 01 / فروری / 2023
کیا کِیا جائے، کیا لکھا جائے،کس موضوع کو زیر بحث لایا جائے، کون سا موضوع عوام کے حوالے سے اہم ہے، کس قومی اہمیت کے مسئلے پر بحث کی جائے،کس ایشو پر تنقید کی جائے،کس پر تعریف و توصیف کے ڈونگرے برسائے جائیں۔
یہ سب گڈ مڈ ہو چکا ہے ہر موضوع اہم ہے، فوری توجہ چاہتا ہے،عوام کی ضرورت ہے،عوام کا مسئلہ ہے،ہر مسئلہ قومی سلامتی اور ریاست کی بقاء سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سیاست ہے تو گدلا چکی ہے، سیاست دانوں کی لڑائی بھڑائی نے مطلع گدلا دیا ہے ہر طرف بدتہذیبی کا راج ہے،بدکلامی ہو رہی ہے، دشنام طرازی ہے، کوئی زیادہ کر رہا ہے کچھ کم ہیں لیکن سیاست مکمل طور پر آلودہ اور پراگندہ ہو چکی ہے۔ معیشت ہے کہ بس ڈوبتی نظر نہیں آ رہی بلکہ ڈوب چکی ہے۔ کشتی ڈوبنے کا شاید وہ اثر نہیں ہوتا جو جان بچ جانے کی امید کے خاتمے کا ہوتا ہے۔ہماری قومی معیشت300 ارب ڈالر سے زائد کا حجم رکھتی ہے ہم نے7500 ارب روپے کے محصولات اکٹھے کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے اور چھ ماہ گزر جانے کے بعد ہم نصف ہدف تقریباً تقریباً حاصل کر بھی چکے ہیں ۔
ہماری زرمبادلہ کی آمدنی مختلف ذرائع سے60/50 ارب ڈالر سالانہ پر کھڑی ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمارے زرمبادلہ کے اخراجات80ارب ڈالر سے متجاوز ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اس لئے ہم مفلس نظر آ رہے ہیں۔230ملین افراد پر مشتمل افراد کی آبادی میں 70فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو دنیا میں سب سے بلند شرح ہے اتنی زیادہ نوجوان افرادی قوت پاکستان کے لئے نعمت عظیم ہے، معاشی تعمیر و ترقی کے لئے مطلوبہ عوامل ہمارے پاس موجود ہیں لیکن ہم پھر بھی ایک ایک ڈالر کے لئے دربدر پھر رہے ہیں۔
ہماری قومی خودی ٹکا ٹوکری ہو چکی ہے ہم اغیار کے محکوم ہو چکے ہیں۔ہم آئی ایم ایف کے شکنجے میں فٹ ہو چکے ہیں۔ 12مئی 2019 کو وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے فنڈز سے تین سال میں چھ ارب ڈالر کا قرض حاصل کرنے کا معاہدہ ہونے کا اعلان کیا پھر2021 میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے قوم کو معاہدے بارے کامیابی پر مبارکباد دی لیکن2021 میں حکومت نے خود ہی اس معاہدے پر عملدرآمد سے انکار کر دیا اور آئی ایم ایف پھر ہم سے ناراض ہو گیا۔ہماری مشکلات میں اضافہ ہو گیا پھر پی ڈی ایم کی حکومت نے شہباز شریف کی قیادت میں زمام اقتدار سنبھالی اور مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف کو منانے میں کامیاب ہو گئے۔ اسحاق ڈار کی انٹری نے معاشی معاملات کو نئی جہت دینے کی کوشش کی، فنڈ پھر ناراض ہو گیا اور اب اسے منانے کی نئی جدوجہد میں ڈالر نے جمبو اڑان بھری اور پٹرولیم کی قیمتوں میں تاریخی اضافے نے عوام کے ہوش ہی نہیں فیوز بھی اڑا دیے ہیں۔
ڈیفالٹ ہوتا ہے یا نہیں اس بارے میں ماہرین کی رائے منقسم ہے، کچھ ماہرین کا تو خیال ہے کہ پاکستان فنی تکنیکی طور پر ڈیفالٹ کر چکا ہے اب صرف اعلان ہونا باقی ہے لیکن ”عوام ڈیفالٹ کر چکے ہیں، عوامی معیشت ڈیفالٹ کر چکی“ کے بارے میں دو آراء ہر گز نہیں پائی جاتی ہیں۔عوام مکمل طور پر معاشی تباہی وبربادی کے مہیب گڑھے میں گر چکے ہیں۔ متوسط طبقہ، غریب ہو چکا ہے،تنخواہ دار اور پنشن یافتہ طبقہ بھی غریبوں میں شامل ہو چکا ہے۔غریب مکمل طور پر پس چکے ہیں وہ پاتال میں اُتر چکے ہیں آئندہ تین سال کے دوران ہم نے 25ارب ڈالر سالانہ کی ادائیگیاں کرنی ہیں جبکہ ہماری متوقع سالانہ آمدنی50/60 ارب ڈالر اور اخراجات 80ارب ڈالر ہیں یہ خسارہ پورا کرنے کی بھی کوئی سبیل نہیں ہے، معاملات کو بہتر کرنے کے لئے اخراجات کم کرنے کے سوا کوئی اور دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔
ہمارے اخراجات میں ایک خرچ ایسا ہے جو کم نہیں ہو سکتا ہے اور وہ ہے قرض ادائیگیوں کا خرچ۔ اس سال ہم نے اس مد میں 5000 ارب روپے ادا کرنے ہیں یہ خرچ سر دست نہ تو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی کم کیا جا سکتا ہے لیکن دوسرا بڑا خرچ دفاعی ہے، اسے کم کرنے کی سبیل کی جا سکتی ہے۔ ہم اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیاں اس طرح ترتیب دیں کہ ان مدات پر اخراجات میں کمی ہو سکے۔ ہم اپنے ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات درست کریں،پھڈا ڈالنے اور پنگا لینے کی پالیسیاں ترک کر کے بہتر سفارتی و تجارتی تعلقات کے ذریعے معاملات بہتر بنائیں اور دفاعی اخراجات میں کمی کریں کیونکہ اب ایسے اخراجات جاری نہیں رکھے جا سکتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ جن افغانوں کی طویل جدوجہد آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہم نے ہزاروں انسانی جانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر نقصان اٹھایا، آج ان کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔پولیس لائنز مسجد میں خود کش دھماکے نے ہمیں کیا پیغام دیا ہے ہمارے وزیر دفاع نے واضح انداز میں بتایا ہے کہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں کی معاونت حاصل ہے۔
کیا یہ ہماری سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کی صریحاً ناکامی نہیں ہے۔ ایسے حالات میں دفاعی اخراجات کم کرنا خود کشی کے مترادف ہو گا۔لیکن ایک ایسا خرچہ ہے جو کم کیا جا سکتا ہے اور وہ لازماً کم کرنا ہمارے قومی مفاد میں ہو گا اور وہ ہے کارِ سرکار کے اخراجات میں کمی۔ لازمی کمی کے ذریعے ہم اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں۔مرکز ہو یا صوبائی حکومتیں اپنے اپنے اخراجات میں کمی کی پالیسی اختیار کریں تو معاملات میں بہتری کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی یہ طے ہے کہ ہمارے سرکاری محکمے، ہماری وزارتیں، ان کے شاہانہ اور ظالمانہ اخراجات ہیں جو قرض پر چلنے اور پلنے والی قوم کی سرکار کو ہر گز ہر گز زیب نہیں دیتے ہیں۔ انہیں ختم کر کے انہیں حقیقت پسندانہ بنا کر ہم بہتری کی طرف سفر کا آغاز کر سکتے ہیں۔
بہتری اور خود انحصاری کی طرف سفر کا آغاز کرنے کے لئے ہمیں ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کرنا ہو گا۔ ہمیں جنگی بنیادوں پر اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان مرتب کر کے اس پر عمل پیراہونے کے عزم بالجزم کا اعلان کرنا ہو گا۔ہماری معاشرتی ترجیحات اور سماجی رویوں کو قوی ضروریات کے مطابق نئے سرے سے ترتیب دینا ہو گا۔ہم ایک طویل عرصے سے جس طرزِ زندگی بلکہ جس طرزِ فکر و عمل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں وہ قا بلِ عمل نہیں رہا ہے۔ہمیں اپنا ادازِ بود و باش دستیاب وسائل کے مطابق ترتیب دینا ہو گا یہ اربوں ڈالر کے تیل کی درآمد، لگژری گاڑیوں کی درآمد، کتے بلیوں کی خوراک کی درآمد پر زرمبادلہ کے اخراجات کرنے کی عادات ترک کرنا ہوں گی۔
ہمیں اپنے ہمسائیوں کے ساتھ اپنے طرزِ تعلقات کا بھی ازسر نو جائزہ لینا ہو گا۔دشمنی اور مسلسل دشمنی کے ساتھ زندگیاں گزارنا ممکن نہیں رہا ہے ہم نے جس حجم کی فوج کھڑی کر لی ہے اب اسے افورڈ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو گیا ہے۔اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم اپنے ترجیحات کا ازسر نو جائزہ لے کر معاملات کو درست کرنے کی کمر کس لیں وگرنہ ناکامی ہمارا مقدر بن چکی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)