آصف زرداری پر سنگین الزامات عائد کرنے پر شیخ رشید گرفتار

  • جمعرات 02 / فروری / 2023

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق صدر آصف زرداری پر سنگین الزامات کے کیس میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شیخ رشید کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور دو روز بعد انہیں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو گزشتہ رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

شیخ رشید کے خلاف کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں شروع ہونے کے بعد تفتیشی افسر نے عدالت میں مقدمے کا ریکارڈ جمع کروا دیا۔ پولیس کی جانب سے شیخ رشید کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی گئی۔ دوران سماعت شیخ رشید نے پولیس افسر سے مکالمہ کیا کہ پہلے میری ہتھکڑی کھلوائیں۔ میں 16 دفعہ وزیر رہا ہوں، ہتھکڑی کیوں نہیں کھل رہی۔ ساری رات تو لگائے رکھی ہے جس پر پولیس کی جانب سے شیخ رشید کی ہتھکڑی عدالت میں کھول دی گئی۔

پراسیکوٹر عدنان نے کمرہ عدالت میں شیخ رشید کے خلاف درج مقدمے کا متن پڑھا جس پر جج نے استفسار کیا کہ مجھے مقدمے میں وہ جملہ دکھائیں جہاں دفعہ 120 لگتی ہے۔ پراسیکوٹر نے کہا کہ شیخ رشید، آصف زرداری کے خاندان کے لیے خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ شیخ رشید پر عائد دفعات کے مطابق 7 سال قید اور جرمانہ ہوسکتا ہے کیونکہ شیخ رشید نے بیان دیا کہ آصف علی زرداری نے عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کی۔ پاکستان میں لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر گلے کاٹنے پر آجاتے ہیں۔ بیان سے عمران خان اور آصف زرداری کی جماعتوں میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آصف زرداری اور ان کے خاندان کو جان کا خطرہ ہے۔

پراسیکوٹر کی جانب سے شیخ رشید کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ جج نے استفسار کیا کہ کیا آصف زرداری نے آپ کو بتایا ہے کہ ان کو خطرہ ہے جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ شیخ رشید نے خود بیان دیا ہے۔ شیخ رشید کا وائس میچنگ ٹیسٹ ایف آئی اے سے کروانا ہے اور ان کا فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ درکار ہے۔ لہٰذا عمران خان کے خلاف سازش کے بیان کے حوالے سے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

شیخ رشید کے وکیل عبدالرزاق نے کہا کہ گروپوں میں اشتعال پھیلانے کی دفعہ لگی، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کا تو نام نہیں لیا گیا۔ شیخ رشید نے نسل اور مذہب کا بھی نام نہیں لیا اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا نام لیا۔ صرف آصف زرداری کا نام لیا۔ سیاسی جماعتیں روز ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہیں، ایسے مقدمات ہوتے رہے تو کوئی سیاستدان بات نہیں کر پائے گا۔

وکیل نے مقدمے میں لگی تینوں دفعات کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دیے کہ کسی شہری کو حق نہیں کہ کسی مشہور شخصیت کے خلاف ایسا پرچہ درج کروا دیا جائے، وفاقی حکومت یا متعلقہ سرکاری ملازم صرف مقدمہ درج کروا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا کارکن مدعی مقدمہ ہے۔ آصف علی زرداری مدعی مقدمہ نہیں، اور 153 کی دفعہ کے تحت صرف وفاقی حکوت یا صوبائی حکومت ایسا مقدمہ درج کروا سکتی ہے۔ کوئی عام شہری ان دفعات کے تحت مقدمہ درج نہیں کروا سکتا۔

بعدازاں عدالت نے شیخ رشید کے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا جو 4 بجکر 45 منٹ پر سنایا گیا۔ خیال رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اتحادی شیخ رشید احمد کو بدھ کو رات گئے اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

شیخ رشید کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) اسلام آباد کے آبپارہ تھانے میں درج کی گئی ہے، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 120 بی، دفعہ 153 اے اور دفعہ 505 شامل کی گئی تھیں۔