الیکشن کرانے کیلئے تیار ہیں، وکیل الیکشن کمیشن کی لاہور ہائی کورٹ کو یقین دہانی

  • جمعہ 03 / فروری / 2023

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق درخواست پر گورنر کو جواب جمع کرانے کیلئے 5 روز کی مہلت دی ہے۔

جسٹس جواد حسن نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے سے متعلق تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں الیکشن کب کرائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہم الیکشن کرانے کے لیے تیار ہیں، کل اس حوالے سے نئی پیش رفت ہوئی ہے اور گورنر نے الیکشن کمیشن کے خط کا جواب دیا ہے۔

وکیل نے مزید بتایا کہ گورنر نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ معاشی صورتحال خراب ہوچکی ہے۔ اس سے پہلے بھی معاشی صورتحال خراب تھی لیکن الیکشن تو ہوئے تھے۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آئین میں درج ہے کہ الیکشن 90 روز میں ہونے ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کے اس حوالے سے متعدد فیصلے موجود ہیں۔

وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ 90 روز پورے ہونے میں ابھی کافی وقت ہے، کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ الیکشن نہیں ہوں گے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ آپ تاریخ تو دیں کہ الیکشن کب کرائیں گے۔ ہم تو وہ بات کر رہے ہیں جو آئین میں درج ہے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کو چھوڑیں آپ الیکشن کی تاریخ دے دیں۔ آپ اتنا کام کر رہے ہیں، آپ خود الیکشن کی تاریخ دے دیں۔

گورنر پنجاب کے وکیل بھی عدالت پیش ہوئے اور جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگی۔ عدالت نے گورنر کے وکیل سے دریافت کیا کہ آپ کو کتنا وقت درکار ہے، یہ پاکستان کے عوام کا معاملہ ہے۔ گورنر نے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں جواب جمع کرانے کے لیے کم ازکم سات روز کا وقت درکار ہے۔

بعدازاں عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کو جواب جمع کرانے کی 5 روز کی مہلت دیتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت سے قبل تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ فریقین سماعت قبل جواب جمع کرائیں اور اس کی نقل درخواست گزار کوبھی فراہم کریں۔