مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات

دنیا بھر میں ریاستیں خاص طور پر ہمسایہ ریاستیں بنیادی اہمیت کے دو طرفہ اور علاقائی ایشوز کے حل کیلئے مختلف فورم پر سنجیدہ کوششوں میں مصروف عمل رہتی ہیں کہ بنیادی اہمیت کے کسی بھی مسئلے کو حل کیے بغیرہمسایہ ریاستیں اپنے اپنے ملکی و عوامی مسائل پر صیح معنوں میں توجہ مرکوز کرنے اور ان کے حل کیلئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کے مابین کشمیر کا مسئلہ بھی ایسا ہی ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کی حکومتیں دونوں طرف کے کروڑوں عوام کو غربت کی انتہائی سطح سے نکال کر انہیں زندگی کی وہ بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کر پائیں جو مہذب دنیا کی عوام کو حاصل ہیں۔اس بنیادی اہمیت کے مسئلے کی وجہ سے ہی دونوں ممالک گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک اب تک نہ صرف تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وارز میں بھی مصروف رہے ہیں۔اسی بنیادی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک نہ صرف تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوئے بلکہ عوام کی خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت سے وصول کئے جانے والے ٹیکسز کا ایک بھاری حصہ خطرناک آتشیں اسلحے کے انبار لگانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک کی اسٹبلشمنٹ ریاستی سطح پر انتہا پسند عناصر کے ہاتھ مضبوط کرنے پر مجبور ہیں جس کے ضمنی اثرات کامشاہدہ دونوں ملکوں میں مذہبی، نظریاتی اور سماجی انتہا پسندتحریکوں کی شکل میں کیا جا سکتا ہے۔اس مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کی اس انتہا تک جا پہنچے ہیں کہ اب وہ دو طرفہ تصفیہ طلب مسائل پر بھی بات کرنے کو تیار نہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین دیرپاخوشگوار تعلقات قائم نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ کشمیر کا تنازعہ ہے۔اس مسئلے کی شدت کا اندازہ ان حقائق سے لگایا جا سکتا ہے کہ آزادی ملنے کے دو ماہ بعد ہی دونوں ملکوں نے ریاست کشمیر پر قبضے کیلئے باقاعدہ جنگ چھیڑ لی۔ایک سال دوماہ جاری رہنے والی اس جنگ کے نتیجے میں جموں و کشمیر کی نوابی ریاست کے لداخ، جموں اور مشرقی کشمیر کے حصوں پر بھارت نے اپنی گرفت مضبوط کر لی جب کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے پاکستان کے کنٹرول میں آگئے۔ 1949 کے اوائل میں ختم ہونے والی پہلی جنگ کے بعد اگرچہ اگلے 15سالوں تک دونوں ملکوں میں کوئی باقاعدہ جنگ تو نہیں ہوئی لیکن اس جنگ نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے خوفزدہ اور متنفر کرتے ہوئے جنگی جنون میں مبتلا ضرور کر دیا۔

1965 کی جنگ کی بنیادی وجہ بھی کشمیر کا تنازعہ ہی تھا لیکن یہ جنگ وادی جموں و کشمیر سمیت دونوں ملکوں کے حصوں میں کوئی خاص جغرافیائی فرق ڈالے بغیر17دنوں میں ختم ہوگئی۔ اگر دیکھا جائے تو 1971 کی جنگ شروع ہونے میں ایک طرح کشمیر ایشو کا بلواسطہ کردار ہے کہ یہ کشمیر ایشو پر دونوں ملکوں کے مابین جاری سرد جنگ ہی تھی جس نے انڈیا کو مشرقی پاکستان میں مداخلت کیلئے اکسایا۔ کشمیری حریت پسندوں کی جانب سے 1989میں شروع کی جانے والی علیحدگی کی تحریک کے بعدسے کشمیر میں وقفوں وقفوں سے حالات کشیدہ ہوتے رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ پاکستان اور بھارت کا اپنے اپنے بے لچک موقف پرڈٹے رہنا ہے۔ پاکستان کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈہ سمجھتا رہاہے تو بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ۔ماضی میں رائے شماری سمیت مسئلہ کشمیر کے کئی ایک ممکنہ حل تجویز کئے جاتے رہے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ان میں سب سے قابل عمل حل مشرف منموہن فارمولا ہی تھا لیکن بدقسمتی سے اس فارمولے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

ہم مانیں نہ مانیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ پانچ اگست 2019کے بھارتی اقدام کے نتیجے میں علاقائی وعالمی سطح پر ہمارا کشمیر مقدمہ کمزور ہو گیا ہے۔2019سے پہلے پھر بھی وقتا فوقتا دونوں ملکوں کے مابین کشمیر ایشو کے حل کے لیے بات چیت کے امکانات سامنے آتے رہتے تھے لیکن کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم ہونے کے بعدنہ صرف مذاکرات کے نتیجے میں کچھ لوکچھ دو کے اصول کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل کے امکانات ختم ہو گئے ہیں بل کہ کشمیر کی آزادی اور خود مختاری کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کی خواہشات بھی محض سراب بن کر رہ گئی ہیں۔کوئی شک نہیں کہ ساڑھے تین سال قبل اٹھائے جانے والے بھارتی اقدام پر شروع شروع میں ہم نے علاقائی اور عالمی سطح پر احتجاج کیا لیکن بتدریج بھارتی اقدام پر ریاستی و حکومتی سطح پر معنی خیز خاموشی طاری ہوتی گئی۔حتی کہ 2022کے اوائل میں سامنے آنے والی قومی سلامتی پالیسی میں بھی پانچ اگست کے بھارتی اقدام کو واپس کرنے کے لیے کسی لائحہ عمل کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔

قومی  سلامتی پالیسی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو توبادی النظر میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد کشمیر ایشو پر خاموش رہتے ہوئے بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اسے وسطی ایشیا کے ممالک کے لیے راہداری مہیا کرنا ہے۔کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ارباب اقتدار نے پانچ اگست کے اقدام کو قبول کر لیا ہے اور کسی مناسب وقت پر گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کو بھی باقاعدہ پاکستان میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا جائے گا۔اگر حالات واقعتا ایسے ہی ہیں تو سوال بنتا ہے کہ اب تک ریاستی یا حکومتی سطح پر بھارت سے دو طرفہ تعلقات کی بہتری خصوصاًمعاشی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں کیوں نہیں کی گئیں۔مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا کے کشیدہ تعلقات کی قیمت یوں تو دونوں ملکوں کو چکانی پڑی ہے لیکن انڈیا کے مقابلے میں ہم پر پڑنے والے اثرات بہت تباہ کن ہیں۔

 33سالوں سے کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں فوج رکھنے کے اخراجات برداشت کرنے کے باوجود انڈیا دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت ہے اور معاشی تجزیہ کار2027تک بھارت کے تیسری بڑی معاشی طاقت بننے کی خبریں دے رہے ہیں لیکن ہمارے لیے آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے قرضوں اور دوست ممالک کی امدادکے باوجود معیشت کو سنبھالا دینا مشکل ہوتا جا رہاہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تجارت کاموجودہ حجم ایک بلین ڈالر سے بھی کم ہے جو کہ بہتر تعلقات کی صورت میں 40بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔اگر چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعے سمیت کئی ایک اختلافات کے باوجود دو طرفہ تجارت کا حجم 140بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کو فروغ کیوں نہیں دیا جا سکتا۔دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے علاوہ ہم بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک تک راہ داری کی سہولت دے کر ٹول ٹیکس کی مد میں اچھا خاصا کما سکتے ہیں۔