پاکستانی سیاست کا بدلتا منظرنامہ

آج حالات اس بدنصیب ملک کو اس مقام پر لے آئے ہیں جہاں ہم سب کو سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اپنی غلط اور جنونی پالیسوں کے ساتھ اپنے عوام کا حال و مستقبل یونہی برباد کرتے چلے جانا ہے یا اپنی قدامت پرستانہ نظریاتی و تصوراتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ان کی تشکیل جدید کرنا ہے؟

پون صدی تو ہم نے اپنے لوگوں کو جعلی وجھوٹے خوابوں یا سرابوں کے پیچھے لگا کر نظریہ جبر کے تحت آزادی اظہار پر بندشیں لگاتے ہوئے جیسے تیسے گزار دی۔ اب ٹیکنا لوجی کی جدید ترقی اس جبری گھٹن کو توڑ رہی ہے جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ہماری نئی نسل نالج اور انفارمیشن کے پھیلاؤ میں ایسے سوالات اٹھارہی ہے پہلے جنہیں شدید بندشوں کے باعث شجر ممنوعہ خیال کیا جاتا تھا۔ درویش کہیں بھی جاتا ہے احباب یہ پوچھتے ہیں کہ پاکستان کا کیا بنے گا؟ کیا ہماری ڈوبتی معیشت تیر سکے گی؟ کیا یہاں دہشت گردی اور جنونیت سے پاک، سماج قائم ہوسکے گا؟ جب کشمیر کا ایک انچ بھی پچھتر برسوں میں چار جنگوں کے باوجود ہمیں نہیں ملا اور نہ آئندہ کبھی ملنا ہے تو پھر اس نفرت بھری دشمنی کو ختم کرتے ہوئے ہم اپنے آپ کوایک نارمل ریاست کیوں نہیں بنا لیتے؟ لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں ہمارا اگلا سیاسی سیٹ اپ کیا ہوگا؟ کیا یہ جمہوری ہوگا یا عسکری یا بیچ کی کوئی راہ نکالی جائے گی؟ یہ جو دو صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں کیا ان کے انتخابات بر وقت ہو پائیں گے؟ کیا نئے انتخابات سے ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے؟

درویش ان سوالات کے کیا جوابات دیتا ہے ان سے پہلے پاکستان کے تمام اہل دانش کی خدمت میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان جیسی تیسی بھی بہرحال ایک آئینی و جمہوری ریاست نہیں ہے؟ اگر اس پر ہم ایکا رکھتے ہیں تو پھر قومی و نظری کنفیوژن کو کچی لسی کی طرح بڑھاتے چلے جانے کی بجائے ہمیں رہنمائی بھی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے لینا ہوگی۔ مانا کہ ہمارے آئین میں ایک سو ایک قباحتیں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کا حل بھی خود آئین کے اندر ہی درج ہے۔ حکومت و اپوزیشن جب چاہیں مل بیٹھ کراٹھارویں ترمیم کی طرح انہیں دور کرسکتی ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سوچوں کی تنگناؤں میں اتنی وسعت اور برداشت آسکتی ہے کہ ہم باہم مخالف نظریات و شخصیات کو اتنا احترام دے سکیں جو عوامی و آئیڈیل جمہوریت کا تقاضا ہے؟

بس یہی وہ سوال ہے جس کا جواب مشکل ہے اور یہی مسائل کی نیوکلیس ہے، اسی حوالے سے ایک سیاسی کانفرنس بھی ہونے جا رہی ہے۔ ہماری موجودہ سیاسی صورتحال قطعی تسلی بخش نہیں ہے آج یہاں ”پانچ کے ٹولے“ کا ذکر کیا جارہا ہے اور کسی مبہم ”قومی حکومت“ کی سوچ بھی اندر خانے چل رہی ہے جس میں موجودہ تمام سیاسی پارٹیوں کے بھگوڑے شامل ہون گے اور طاقتور اپنی مرضی کا نیا سیٹ اپ ان کی معاونت سے قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ بظاہر اس کے لیے دور و نزدیک کی کوڑیاں لاتے ہوئے بڑی دلیلیں دی جائیں گی۔ یہ کہ آپ انہیں بھگوڑے یا موقع پرست نہ کہیے، یہ تو باضمیر لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پارٹی کے جبر اور نظریہ موروثیت سے بغاوت کرتے ہوئے سچے جمہوری ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ یہ بڑی کوالٹی کے لوگ ہیں اگر یہ سب شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں مجتمع ہوجائیں تو ملک کو مستقبل میں صاف ستھرا متبادل سیٹ اپ دے سکتے ہیں۔

دوسری طرف ہم جائزہ لیں تو اس وقت پی ٹی آئی اپنے جناح ثالث کی عوامی مقبولیت کے نشے میں گویا ہوائی گھوڑے یا نئے براق پر سوار کامیابی کے آسمانوں کی جانب رواں دواں ہے کہ جونہی الیکشن کا ڈول ڈالا جائے گا ٹو تھرڈ میجارٹی کی طاقت ہمارے غیر معمولی یا عظیم لیڈر کے قدموں میں ہوگی اور وہ اپنی ساڑھے تین سالہ کوتاہیوں کے علی الرغم اب کے اس ملک کی کایا پلٹ دے گا۔ اس کے ساتھ ہی پی پی قیادت اور جیالوں کے خواب ملاحظہ فرمائیں تو وہ اس داؤ پر ہیں کہ وزارت ِ خارجہ کا قلمدان پکڑے ہمارے بھٹو کا جو زندہ ہے مگر نیا جنم ہوچکا ہے اور اس نے انڈیا دشمنی کے نعرے لگاتے طاقتوروں کو بھی پوری طرح رام کر لیا ہے۔ کھلاڑی تو گندا ہوکر نکالا جاچکا اور جو کچھ وہ پیہم بول رہاہے ناممکن ہے کہ طاقتور اس کو اب اسی سنگھاسن پر دوبارہ آنے دیں گے۔ رہ گیا نواز شریف اور اس کا بیانہ اس کی ہوا پوری طرح اس کے بھائی کی شہبازی پرواز نے نکال دی ہے۔ رہتی کسر اس کی بیٹی اپنے انکلوں کو ناراض کرتے ہوئے نکال دے گی۔

یوں پھر ان دونوں نام نہاد بڑی پارٹیوں کی لڑائی میں ہمارا ٹنٹنا سیدھا ہوجائے گا۔ سو مستقبل پی پی کا ہے۔ آخر میں بچی ن لیگ جو یہ سمجھتی ہے کہ 2014میں تمام تر مخالفتوں کے باوجود عوامی مینڈیٹ لیتے ہوئے نواز شریف کی قیادت میں ملک جس طرح تعمیر و ترقی کی منازل پر رواں دواں تھا کوئی آئینی و قانونی ایشو یا بحران بھی نہیں تھا، ہماری جوڈیشری بھی ان انتخابات کے منصفانہ و شفاف ہونے پر مہر تصدیق لگا چکی تھی، پھر یکا یک مفادات کی آندھی اٹھی دھرنے شروع ہوئے اندرکی خفیہ ترین تاریں ہلائی گئیں۔ یوں “پانچ کے ٹولے” نے وہ کچھ کر دکھایا جو ماؤ انقلاب کے حوالے سے چار کے ٹولے نے کیا تھا۔ یوں بربادی کے اس سفر کا آغاز ہوا جس نے آج ہمیں دنیا میں بھکاری کی حیثیت سے کہیں کا نہیں چھوڑا۔

یہاں پانچ کے ٹولے کی وضاحت ہوجائے اس میں جناح ثالث کے ساتھ دائیں جانب کھڑے تو جرنیل باجوہ اور فیض ہیں جبکہ بائیں جانب کھوسہ اور کھلاڑی کے جانثار ثاقب ہیں، جن کی فلمیں آنے والے دنوں میں خوب چلیں گی۔ نواز شریف کی حیثیت ان دنوں اپنی لیگ میں ایسے ہے جیسے کسی زمانے میں مہاتما گاندھی کی گانگرس میں تھی۔ جنہیں اپنے خوابوں کی تعمیر کے لیے پنڈت نہرو جیسا نپا تلا جانشین مل گیا تھا مگر اس شریف آدمی کی مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس ویسی منظم پارٹی ہے اور نہ ویسا شاگرد یا جانشین۔ اگر ہو بھی تو پارٹی اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ بلند پرواز والا بھی ان کے لیے ابوالکلام ثابت ہوا جس کے اپنے پلے کچھ ہے اور نہ پارٹی کے پلے کچھ رہنے دیا ۔ رہ گئی ہونہار بیٹی بلاشبہ وہ بیٹوں سے کروڑ درجے بہتر ہے بلکہ پارٹی کے اندر عوامی کشش کی حامل واحد شخصیت ہے جسے سوچے سمجھے بغیر بولنے کا فن بھی آتا ہے۔ اور ن لیگ کی کامیابی کے لیے بڑا اثاثہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کی یہ دلیل بھی وزن رکھتی ہے کہ پہاڑ سے اگر بھاری پتھر بھی گرتا ہے تو روئی کے گالے جیسا کم وزن ہو کر رہ جاتاہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس بی بی یا بچی میں سیاسی وزڈم نام کی ویسی کوئی چیز نہیں دکھتی جس کی جھلکیاں ہم ہمیشہ محترمہ بینظیر میں ملاحظہ کیا کرتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ جہاں محترمہ نے اپنے ڈکٹیٹر ذہنیت باپ کی کوتاہیوں کو بھی خوبیوں کے لبادے میں بدلنے کی کاوشیں کیں وہیں مریم بی بی اپنے والد محترم کی خوبیوں کو کوتاہیوں میں ڈھالنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ باپ میں ذہانت و زیرکی تھی یا نہیں اس کی محبت بھری مسکراہٹ، حلیمی و عاجزی دوسروں کو احترام دینے کی خوبی و صلاحیت بہت سی کوتاہیوں کو ڈھانپ لیتی تھی۔ اور پھر خوشگوار ہمسائیگی اور قومی تعمیر و ترقی کے لیے اس کا واضح و غیر مبہم ایجنڈا اس کی کامیابی و مقبولیت کا ضامن بنا رہا۔ جبکہ بیٹی صاحبہ کی خود پسندی، تعلی بازی اور غرور و تکبر تو شاید پرویز صاحب جیسا ایک منکسر المزاج مرنجاں مرنج دھیماں اور قابل انسان ان کے سیاسی اتالیق کی حیثیت سے بھی نہیں توڑ سکا۔ بہرحال آج مریم بی بی کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ نواز شریف کا سیاسی بیانہ کیسے چلاتی ہیں۔ کھلاڑی کی غلطیوں کو نمایاں کرتے ہوئے اس کی گوشمالی کیسے کرتی ہیں اور طاقتوروں سے اچھے تعلقات رکھتے ہوئے خود کی ایسٹیبلیشمنٹ مخالف پہچان میں پانچ کے ٹولے کا کردار کیسے نمایاں کرتی ہیں۔

لیکن اس سب سے پہلے سو باتوں کی ایک بات اپنی پارٹی قیادت اور کنبے میں بڑھتی ہوئی بداعتمادی، دراڑوں اور لکیروں کو کیسے پاٹتی ہیں۔ جبکہ خود نواز شریف کیلئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی راہ میں بچھے کانٹوں کے باوجود جلد وطن واپس کب آتے ہیں اور قوم کو نئی امید کیا دلاتے ہیں۔ بالخصوص اپنے بھائی کی بری کارکردگی سمیت مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے سنجیدہ سوال کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔