آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 04 / فروری / 2023
قومی معاملات کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے 7فروری کو آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو دعوت نامے جاری کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی اور حکمران اتحاد کی ناقد تحریک انصاف کے سربراہ کو بھی باضابطہ دعوت نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔اس سے پہلے پشاور میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے تحریک انصاف سے دو نام مانگے گئے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ایاز صادق نے اسد قیصر اور پرویز خٹک سے باقاعدہ رابطہ کر کے ممبران نامزد کرنے کی درخواست کی تھی۔بات دراصل یہ ہے کہ ملکی و قومی معاملات اس مقام تک جا پہنچے ہیں جہاں سے انہیں مثبت سمت کی طرف موڑنا کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی جماعت اور ادارے کے بس کی بات نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں، ووٹ مانگنے والی جماعتیں ہیں۔جمہوریت کی دلدادہ جماعتوں کی اپنی صفیں جمہوریت سے خالی نظر آتی ہیں۔ بیشتر سیاسی و دینی سیاسی جماعتیں، شخصی یا نجی ہیں سیاست موروثی ہے۔ حالیہ سیاسی منظر میں ہمیں کچھ تگڑی سیاسی قیادت تو نظر آتی ہے، جن کے ہاتھ عوام کی نبض پر ہو سکتے ہیں ان کی عوام میں پذیرائی بھی ہے۔ وہ شاید عوام کو موبلائز بھی کر سکتے ہیں، انہیں جدوجہد کے لئے آمادہ بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن مسائل کا حجم اس قدر زیادہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی قیادت انہیں اکیلے حل کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے ہی پس منظر میں اجتماعی دانش کے ذریعے مسائل پر غور و فکر کرنے اور ان کے حل کے لئے قابلِ عمل لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے اے پی سی بلائی گئی ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔
اگر ہم غور سے دیکھیں،جاری حالات کا مطالعہ و مشاہدہ کریں تو ایک حقیقت بڑی صراحت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے کہ قوم کو پیش آئندہ حالات کسی سازش یابیرونی دشمن کے مکروفریب کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ سب کچھ ہماری بداعمالیوں کا شاخسانہ ہے۔ ہمارے سیاسی مسائل، بلکہ جاری سیاسی بحران اچانک پیدا نہیں ہوا ہے اس کے ڈانڈے قیام پاکستان کے فوراً بعد کی قومی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔ اولاً انگریز کی تربیت یافتہ نوکر شاہی سیاست میں ملوث ہوئی، سیاستدانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کیا۔مفادات کے حصول کے لئے پھر خود بھی سیاست دان بن گئی ملک غلام محمد کی شکل میں اقتدار پر قبضہ کیا۔
سکندر مرزا بھی میدان میں کودے سیاست کے پاکیزہ عمل کو گندہ کیا۔ فوج کو بھی اقتدار کے کھیل میں شریک کیا۔ جنرل ایوب خان وردی کے ساتھ کابینہ میں شامل کئے گئے۔ فوج نے جب دیکھا کہ سیاست کا کھیل طاقت کے بل پر کھیلا جا رہا ہے۔ بیورو کریسی اپنی ذہانت کے ذریعے سیاستدانوں کو نچا رہی ہے اور اس ذہانت کے ساتھ انہوں نے فوج کی طاقت بھی اپنے ساتھ ملا لی ہے تو اس کے ذہن میں بھی اقتدار کے حصول کی خواہش پیدا ہوئی بالآخر 1958میں اقتدار پر قبضہ کر لیا گیا۔ پھر یہی سوچ 65سال سے ہماری سیاست پر حاوی ہے۔یہ سیاستدان خود بناتی، سیاست میں بٹھاتی، نکالتی، چلاتی اور مرضی سے معاملات طے کرتی اور کراتی رہی ہے۔ جنرل ایوب خان ہوں یا جنرل یحییٰ اور جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف، سب فکر و عمل کے اعتبار سے یکساں نوعیت کا شاہکار تھے۔ انفرادی طور پر کوئی نیک، پرہیز گار تھا اور کوئی لبرل اور خوش مذاق، لیکن سیاست اور عوام سے نمٹنے اور انہیں آگے لگائے رکھنے کے حوالے سے سب جرنیلوں کا رویہ شعبہ جاتی رہا۔ اسٹیبلشمنٹ آج ایک حتمی سیاسی عامل کے طور پر اپنے پورے قد کاٹھ کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہے جبکہ سیاست اور سیاستدان بے وزن اور بے توقیر نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان کے قد آور سیاستدان گملے کے لگائے اور اُگائے گئے پودے ہیں۔سیاستدان ایک دوسرے کے کپڑے سربازار پھاڑ رہے ہیں، سرپھٹول جاری ہے۔ ذرا غور کیجئے جنرل باجوہ نے نوازشریف کو سیاست سے نکالا اور عمران خان کو اِن کیا۔ پھرجنرل باجوہ نے عمران خان کو فارغ کیا اور مسلم لیگ (ن) کو اِن کیا لیکن دونوں جماعتیں باجوہ کو توسیع دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں۔ عمران خان تو انہیں لامحدود توسیع دینے کی باتیں بھی کرتے پائے گئے تھے۔
عمران خان نے انتخابات کا نعرہ لگایا ہو اہے وہ انتخابات کو مسائل کا حل قرار دے رہے ہیں جو شاید بادی النظر میں درست لگتا ہے۔ لیکن اس مطالبے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس بات کا بھی مکمل انتظام کر رکھا ہے کہ انتخابات مزید انتشار کا باعث بنیں، جس حکومت سے وہ انتخابات کا اعلان کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اسے مانتے ہی نہیں ہیں اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔ جس اسمبلی نے معاملات طے کرنا ہیں، اسے بھی نہیں مانتے پھر جس ادارے نے الیکشن کنڈکٹ کرانا ہیں یعنی الیکشن کمیشن،وہ اس کو بھی ن لیگ کا بغل بچہ قرار دیتے ہیں، اس پر طعن و تشنیع کے نشتر چلاتے ہیں۔
گویا ایک طرف الیکشن کرانے کا مطالبہ ہے اور دوسری طرف انہوں نے پکا بندوبست کر رکھا ہے کہ الیکشن منعقد نہ ہوں اور اگر ہوں تو ان کے بطن سے وہ مزید انتشار برآمد کر سکیں۔ ایسے حالات میں اے پی سی جاری ملکی صورت حال میں، بہتری کی ایک اچھی کوشش لگتی ہے لیکن عمران خان کا ایسی کسی بھی کارروائی میں شریک ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)