بھارت کشمیری عوام کے آہنی ارادوں کو کچل نہیں سکتا: پاکستان
پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے آہنی ارادے کو کچل سکتا ہے تو وہ غلطی پر ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر پاکستانی رہنماؤں نے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے اپنے پیغامات میں یہ بات کہی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کے رابطہ گروپ نے ایک اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اجتماعی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کشمیریوں کے عزم کو توڑ نہیں سکتی اور نہ ہی ان کی جائز جدوجہد کو کمزور کر سکتی ہے۔ ہم بھارت پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان، اقوام متحدہ اور سب سے بڑھ کر کشمیری عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کا احترام کرے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں اور ان گنت مظالم کا شکار ہیں۔ بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد حالات نے بدترین رخ اختیار کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں پوری پاکستانی قوم کی جانب سے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ ہم ان کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وہ بھارتی جبر سے آزادی حاصل نہیں کر لیتے۔
دریں اثنا پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے ایک غیر رسمی اجلاس کا اہتمام کیا جس میں آذربائیجان، نائیجر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں۔ پاکستانی مشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بڑے پیمانے پر جبر کے باوجود کشمیری حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی دلیرانہ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
او آئی سی کے رکن ممالک کے سفرا نے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کی مناسبت سے ورچوئل تقریب میں شرکت کی۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنے والے سفرا میں سعودی سفیر عبدالعزیز الواسل، آذربائیجان کے سفیر یشر علیوف اور ترکی کے سفیر فریدون سینیرلی اوگلو نے شرکت کی۔
صدر مملکت عارف علوی نے اپنے پیغام میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جب تک کشمیری بھارتی مظالم کا شکار ہیں پاکستان کبھی بھی چین سے نہیں بیٹھے گا اور نہ ہی خاموش تماشائی بنے گا۔ جموں و کشمیر کا تنازع پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو رہے گا۔