جنرل پرویز مشرف

پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف انتقال کر گئے ۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ انسان اس دُنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ازل سے ایسے ہی ہورہا ہے۔ اور ابد تک ہوتا رہے گا۔ لیکن لوگوں کے ادا کردہ کِردار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

وہی تاریخ میں اُن کا مقام طے کرتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ کم لوگ ہی نصیحت پکڑتے ہیں۔ جنرل مشرف کے سامنے جنرل ایوب، جنرل یحیٰ اور جنرل ضیاء کا تاریخ میں کردار اور مقام موجود تھا جس سے وہ سبق حاصل کر کے اپنے لئے ایک بہتر مقام متعین کر سکتے تھے. جیسے جنرل وحید کاکڑ اور جنرل جہانگیر کرامت نے کیا۔

جنرل وحید کاکڑ نے اس وقت مداخلت کی جب اسحاق خان اور نوازشریف کے تنازعے نے ملکی نظام کو معطل کرکے رکھ دیا۔ کاروبار حکومت جامد ہوگیا۔ ایسے میں جنرل وحید کاکڑ نے ریفری کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں کو چلتا کیا۔ اور انتخابات کروا کے الگ ہوگئے۔ پھر بے نظیر بھٹو کی پیشکش کے باوجود توسیع لینے سے انکار کر دیا۔ اور اپنے وقت پہ ریٹائر ہوکے گھر چلے گئے اور حقیقی معنوں میں گُمنام ہو گئے۔ پھر کبھی سامنے نہ آئے۔

اگرچہ آئین نے انہیں ریفری کا کردار ادا کرنے کی ذمہ داری تفویض نہیں کی۔ لیکن اُنہیں پھر بھی رعایت اس لئے دی جا سکتی ہے کہ انہوں نے آئین کے مطابق وقت پہ انتخابات کروائے اور وقت پہ گھر چلے گئے۔ اسی طرح جنرل جہانگیر کرامت ہیں۔ جب نواز شریف نے اُن سے استعفیٰ مانگا تو وہ فوراً تیار ہو گئے۔ گو اُنہیں جنرل علی قُلی خان جیسے عُقابی جرنیلوں نے مارشل لاء لگانے کی ترغیب دی۔ لیکن جنرل جہانگیر کرامت نے جواب دیا کہ وہ آئین پاکستان کی پاسداری کریں گے۔ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔ عُقابی جرنیلوں کے جھانسے میں نہیں آئے۔ آج ان دونوں سپہ سالاروں کے نام احترام سے لئے جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے جنرل پرویز مشرف نے اپنے پیش رو جنرل جہانگیر کرامت کی بجائے آمروں کا راستہ منتخب کیا۔ 1999 کے اوائل میں جب بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان کے دورے پہ آئے تو مینارِ پاکستان کے سائے میں کھڑے ہو کے اعلان کیا کہ  ’ہم پاکستان کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور آئندہ جنگ نہیں کریں گے‘ ۔  ایک بھارتی وزیراعظم کا پاکستان چل کے آنا اور مینارِ پاکستان کے سائے میں کھڑے ہوکے یہ اعلان کرنا سوِل حکومت کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ پھر اسی دورے میں معاہدہ لاہور کا اعلان ہوا جو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ایک بہترین بنیاد فراہم کرتا تھا۔ لیکن ابھی معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ مشرف صاحب نے کارگل پہ حملہ کر دیا جس سے وزیراعظم کو بے خبر رکھا گیا۔

کہنے کو وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی لیکن بتایا کچھ اور گیا اور عملاً کچھ اور گیا۔ اس معاملے میں جنرل جمشید گلزار جنہوں نے وہ بریفنگ دی، اُن کا انٹرویو یو ٹیوب پہ موجود ہے۔ اُن کے مطابق انہوں نے وزیراعظم کو یہ بات واضح طور پہ نہیں بتائی تھی۔ جنرل مشرف خود کہتے رہے کہ کنترول لائن پہ روزانہ جھڑپیں ہوتی ہیں ۔ اور ہر ایک کی وزیراعظم کو بریفنگ نہیں دی جا سکتی۔

کارگل میں پاکستان کو بے پناہ جانی نقصان اُٹھا کے پسپا ہونا پڑا۔ سیاسی، سفارتی اور معاشی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ اس وقت حکومتی کمزوری کی وجہ سے پرویز مشرف کا کورٹ مارشل نہ ہوا۔ پھر یہ کشمکش اتنی بڑھی کہ جنرل مشرف نے نوازشریف کا تختہ اُلٹ کے اقتدار پہ قبضہ کر لیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بڑے فخر سے یہ بات کہی کہ جنرل کرامت چلے گئے لیکن میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں خود نہیں جاؤں گا انہیں گھر بھیجوں گا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ 

دِلچسپ بات یہ کہ حکومت پہ قبضہ کرنے کے بعد خُود بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے وکیل بن گئے اور بھارتی شہر آگرہ میں مسئلہ کشمیر پہ بھارت سے انھی نکات پہ مذاکرات کرتے رہے۔ جن کی بنیاد پہ معاہدہ لاہور ہوا تھا۔ لیکن اب کی بار بھارت اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اُس کے بعد مارشل لاء کے روایتی ہتھکنڈوں کا بھرپور استعمال کیا۔ عدالتوں پہ دباؤ ڈالا۔ اپنی مرضی کے فیصلے لئے۔ پھر ملک کو افغان جنگ کی آگ میں جھونکا۔ ہمارا گھر آج بھی اس کی لپیٹ میں ہے۔ اپنے لوگ پکڑ پکڑ کے امریکہ کے حوالے کئے. امریکہ کو اڈے دیے۔ لال مسجد کا واقعہ ہوا۔ اکبر بُگٹی کو قتل کیا۔ 12 مئی 2007 والے دِن کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی. اور وہ اپنا مُکا ہوا میں لہراتے رہے۔

پھر بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں اور مشرف صاحب نے بی بی سی کے اُوے بینیٹ جونز کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ ’ ہو سکتا ہے بے نظیر بھٹو کو اسٹیبلشمنٹ کے کچھ شر پسند عناصر نے قتل کروایا ہو‘۔ یاد رہے کہ محترم اس وقت صدر پاکستان تھے۔ اُن کے خلاف پاکستان کے وکلاء نے ایک جاندار تحریک بھی چلائی۔ انہوں نے اپنے دور میں سیاسی انجینیئرنگ کے ریکارڈ توڑے۔  مارشل لاء کے روایتی طریقوں سے اپنے آپ کو صدر منتخب کروایا۔ آج کے دور کے چند بڑے بڑے سیاستدان اُن کے حلیف تھے۔ 2002 کے انجینیئرڈ انتخابات کروائے۔ جسے چاہا وزیراعظم بنا دیا۔ جسے چاہا اس سے کرسی چھین لی۔

سیاسی انجینیئرنگ کے لئے نیب نامی ادارہ بنایا اور پھر اس کا برملا اقرار بھی کیا۔ الغرض اُن کا نو سالہ دورِ اقتدار ہنگاموں، تنازعات، سیاسی انجینئرنگ اور ملک میں افراتفری پیدا کرنے کا دور تھا۔ انہوں نے دھونس اور آئین شکنی سے ملک کے اقتدار پہ قبضہ کیا۔ اور اسے برقرار رکھنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا۔ افسوس کہ بعد میں آنے والوں نے بھی کوئی سبق نہ سیکھا۔ اور یہ سیاسی انجینئیرنگ ہنوز جاری ہے۔

لوگ ملک کی تباہی کی وجوہات ڈھونڈتے ہیں لیکن کُھرا تو ایک ہی طرف جاتا ہے۔ اُن کی طرف جنہوں نے تاریخ سے نہ سیکھنے کی قسم کھا رکھی ہے۔