پرویز مشرف کا سفر آخرت: متعدد سوالات کا جواب درکارہے
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 05 / فروری / 2023
ملک کے سابق فوجی آمر دبئی میں انتقال کرگئے۔ یہ وقت سب پر آنا ہے۔ اس حد تک یہ قابل تحسین ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ان کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ وفاق میں قائم سیاسی پارٹیوں کی مخلوط حکومت اور پاک فوج کی قیادت اس حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کرتی ہے۔
ایک فرد کا چلے جانا بلا شبہ قابل افسوس سانحہ ہے لیکن اس فرد کی وجہ سے ملکی سیاست، معاشیات اور قومی سلامتی کے معاملات پر جو اثرات مرتب ہوئے ہیں، انہیں محض یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جانے والے کی خامیوں کی بجائے خوبیوں کو یاد کرنا چاہئے۔ پرویز مشرف نے نہ صرف اس ملک میں ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمریت قائم کی بلکہ انہوں نے جمہوری پارٹیوں اور لیڈروں کو سیاست سے باہر رکھنے کے لئے ہمہ قسم ہتھکنڈے استعمال کئے۔ ان کی وجہ سے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف بننے کا فیصلہ کیا اور پھر اس بیچ طالبان کے ساتھ مروت و بھائی چارے کا تعلق قائم کرنے کا درپردہ نظام بھی قائم کیا گیا۔ پرویز مشرف کے سیاسی جرائم کی فہرست طویل ہے۔ تاہم اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی میت کو پاکستان لاکر عام شہری کی طرح تدفین کی جائے گی یا پاک فوج کے سابق سربراہ کے طور پر انہیں سرکاری و فوجی اعزاز سے نوازا جائے گا۔ اس ایک نکتہ سے جمہوری روایات کے ساتھ موجودہ حکومت کی وابستگی اور حال ہی میں غیر سیاسی ہونے کا اعلان کرنے والی فوج کی نیک نیتی کا انکشاف بھی ہوجائے گا۔
رات گئے تک یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ اس حوالے سے حکومت اور فوجی قیادت کافیصلہ کیا ہے۔ یہ خبر سامنے آچکی ہے کہ ان کے اہل خاندان نے میت پاکستان لانے کے لئے دبئی میں پاکستانی قونصل خانے سے این او سی حاصل کیا ہے۔ اس کے بعد یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پرویز مشرف کی میت لانے کے لیے پاکستان سے طیارہ کل صبح دبئی پہنچے گا۔خصوصی طیارہ نور خان ایئر بیس سے دبئی کے المکتوم ایئر پورٹ جائے گا۔ البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ کیا میت کو اسلام آباد لایا جائے گا یا کراچی پہنچایا جائے گا جہاں ایک قبرستان میں ان کے والد مدفون ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ پرویز مشرف کی میت کو پاکستان لانے کے لیے کوئی نجی طیارہ اہل خاندان نے کرائے پر حاصل کیا ہے یا حکومت کی طرف سے یہ طیارہ بھیجا جائے گا یا پاک ائیرفورس کا کوئی طیارہ سابق آمر کی میت پاکستان لانے کے لیے دبئی جائے گا۔
پرویز مشرف ایک پاکستانی شہری تھے۔ اگرچہ ملک کے نظام قانون سے پانے والی سزا سے بچنے کے لیے وہ کئی سال سے دبئی میں مقیم تھے۔ یہ کوئی نہیں جانتا کہ دبئی میں قیام اور چند سال سے ایک تکلیف دہ بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد ان کے مہنگے علاج و معالجہ کے مصارف کون برداشت کررہا تھا۔ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے بدعنوانی کے خلاف ہر حد پار کرجانے کا طرز عمل ضرور دیکھنے میں آیاہے لیکن اس کا دائیرہ کار صرف ان سیاسی لیڈروں تک محدود رہا ہے جو حکمران جماعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ تھے۔ سیاست دان ہر دور میں بدعنوانی اور غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کرنے کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں جنہیں ایک خاص دور میں جرم اور وہ دور ختم ہوجانے جے بعد سیاسی انتقام قرار دیا جاتا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں جن سیاسی لیڈروں کو سزائیں دی گئی تھیں وہ یکے بعد دیگرے ختم ہورہی ہیں۔ سیاست دانوں کے طرز زندگی اور آمدنی کے وسائل کے بارے میں بھی سوال کیا جاتا ہے۔ حتی کہ جنگ گروپ کے مالک و ایڈیٹر میر شکیل الرحمان بھی 2020 کے دوران اسی قسم کی ’کرپشن‘ کے الزام میں آٹھ ماہ تک جیل میں بند رہے تھے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر فوجی افسروں یا ریٹائرڈ ججوں سے کبھی یہ سوال نہیں پوچھا جاتا کہ وہ اپنے معلوم وسائل سے کہیں زیادہ پر تعیش زندگی کیسے گزارتے ہیں۔
اس حوالے سے پرویز مشرف کا معاملہ ایک نمائیندہ کیس کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے ذرائع آمدنی کے بارے میں اکثر و بیشتر میڈیا میں چہ میگوئیاں ہوتی رہی ہیں لیکن کبھی کسی سرکاری ادارے حتی کہ فوج کے اپنے احتساب میکنزم کے تحت بھی کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ ایک سابق جنرل کے پاس اتنی دولت کیسے جمع ہوگئی کہ انہوں نے لگ بھگ ایک دہائی دبئی جیسے مہنگے شہر میں پر تعیش زندگی بسر کی اور بیمار ہونے پر اعلیٰ علاج کی سہولتیں بھی میسر رہیں۔ اس حوالے سے تین پہلو قابل فہم ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے پاس اتنے ذاتی وسائل موجود تھے کہ وہ ایک سیاسی پارٹی چلانے کے علاوہ ملک کے متعدد شہروں میں اپنی جائیداد کی دیکھ بھال بھی کرتے رہے اور دبئی میں اپنے اہل خاندان کے ساتھ آرام دہ زندگی بھی گزارتے رہے۔ دوسرا پہلو یہ ہوسکتا ہے کہ چونکہ وہ پاک فوج کے سابق سربراہ اور ملک کے سابق صدر تھے لہذا ان کےاخراجات یا کم از کم علاج معالجے کے مصارف حکومت پاکستان کے وسائل سے پورے کئے جاتے تھے۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کے طور پر نہ صرف پرویز مشرف کی میزبانی کی بلکہ ان کی رہائش اور علاج کے تمام اخراجات بھی برداشت کیے۔
جیسا کہ بیان کیا گیا کہ پرویز مشررف کا معاملہ کسی ایک انسان کی وفات کا سانحہ ضرور ہے لیکن ان کی انفرادی حیثیت کے اس پہلو کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے اپنی سرکاری حیثیت کو غیر قانونی طور سے استعمال کرتے ہوئے ملکی آئین کی خلاف ورزی کی اور پھر اس جرم میں سزا سے بچنے کے لئے فوج کی اعانت اور دباؤ کی وجہ سے نواز شریف ہی کی حکومت نے انہیں اچانک ملک سے جانے کی اجازت بھی دے دی۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد خان نے خاص طور سے پرویز مشرف کو پاکستان سے نکالنے اور کسی حد تک نواز شریف کے ’عتاب‘ سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم ان باتوں کو اگر قصہ ماضی سمجھ کر نظر انداز بھی کردیا جائے تو بھی یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پرویز مشرف سمیت فوج سے ریٹائیر ہونے والے افسروں کے اثاثوں کا ریکارڈ سامنے نہیں لایا جاتا۔
پرویز مشرف کے جلاوطنی کے دوران اخراجات کے حوالے سے تین پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے ہر پہلو سے صورت حال واضح ہونی چاہئے۔ یہ اقدام خاص طور سے یوں بھی ضروری ہے کہ اس وقت پاکستان معاشی لحاظ سے تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف کے بقول آئی ایم ایف کا وفد دھیلے دھیلے کا حساب مانگ رہا ہے۔ ان حالات میں ملک و قوم کے وسائل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ہر شخص کو کٹہرے میں لانا ضروری ہے خواہ وہ سیاسی حکمران رہے ہوں، مسلح افواج میں خدمات سرانجام دے چکے ہوں یا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے طور پر ریٹائیر ہوئے ہوں۔ اب اس بات کو مزید قومی راز کے طور پر پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے لوگ ریٹائیر ہونے کے بعد کیوں کر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ اکثر صورتوں میں ان کا بسیرا بیرونی ممالک ہی میں ہوتا ہے۔
پرویز مشرف کو ایک خصوصی عدالت نے آئین شکنی کے جرم میں موت کی سزا دی تھی۔ فوج کا خصوصی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک غیر مبہم فیصلہ کے ذریعے اس خصوصی عدالت کو ہی ’غیر آئینی ‘ قرار دے کر یہ باور کرلیا گیا کہ اس عدالت کا فیصلہ بھی کالعدم ہوگیا۔ لیکن قانونی طور سے پوزیشن اتنی غیر واضح ضرور تھی کہ اس عدالتی کارروائی کے باوجود پرویز مشرف نے وطن واپس آنے کا حوصلہ نہیں کیا۔ خصوصی عدالت کے فیصلہ کو قانونی میرٹ پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ اس حد تک یہ گتھی بدستور الجھی ہوئی ہے اور قانونی طور سے پرویز مشرف ایک سزا یافتہ آئین شکن تھے۔ اس کے علاوہ ان پر بے نظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کے قتل کی سازش کا الزام بھی عائد ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے شہری کے طور پر ضرور انہیں پاکستان لا کر دفن کرنا یا اس کی اجازت دینا بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے لیکن اگر اس تدفین پر سرکاری وسائل صرف ہوتے ہیں یا انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے تو جان لینا چاہئے کہ ملک میں جمہوریت کا خواب ابھی شرمندہ تعبیر ہونے میں شاید کئی دہائیوں کا سفر طے کرنا ہوگا۔ ایک آئین شکن سابق فوجی سربراہ کو سرکاری اعزاز دینے والی فوج اور حکومت ایک سنگین جرم کی شریک سمجھی جائیں گی۔
شہباز شریف ہمیشہ عسکری حلقوں کے ساتھ مفاہمت کے داعی رہے ہیں۔ تاہم پرویز مشرف کی تدفین کے حوالے سے اداروں کے ساتھ مفاہمت سے زیادہ اس اصول کا معاملہ ہے کہ کیایہ قوم ہمیشہ اپنے مجرموں کو معاف کرتی رہے گی۔ قوم و ملک کی تقدیر پر چھائے موجودہ گہرے بادلوں میں اگر روشنی کی کوئی کرنا تلاش کرنا ہے تو حکومت اور فوج خود کو اس معاملہ سے دور رکھیں۔ کل تک یہ صورت حال واضح ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے ہوجائے گا کہ کیا اس ملک میں قانون کا کوئی احترام موجود ہے یا فوج اپنی مرضی کے سویلین سیٹ اپ کے ذریعے بدستور ملکی تقدیر کی مالک ہے۔ ایسے میں فوج کے ’غیر سیاسی‘ ہونے کا ڈھونگ کھل کر سامنے آجائے گا۔
مقتدر حلقے اختیار اور طاقت کے زور پر کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں لیکن واضح رہنا چاہئے کہ اب معمولی غلطی بھی تباہی و بربادی کا خوفناک پیغام لاسکتی ہے۔ پرویز مشرف کی تدفین کے معاملہ پر اگر فوج من مانی کرنا چاہتی ہے تو پارلیمنٹ سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم شہباز شریف کے پاس ایک ہی باعزت راستہ ہوگا کہ وہ فوری طور احتجاجاً استعفیٰ پیش کردیں۔ بصورت دیگر تاریخ انہیں اتنا ہی قصور وار سمجھے گی جتنا بڑا گناہ مرحوم پرویز مشرف سے سرزد ہؤا تھا ۔ جمہوریت کے کفن میں آخری کیل ٹھونکنے سے پہلے شہباز شریف کو ایک بار اپنے ضمیر کو ضرور ٹٹولنا چاہئے۔