الیکشن کمیشن کی ہدایت پر لاہور کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز تبدیل

  • سوموار 06 / فروری / 2023

لاہور پولیس حکام نے آئندہ انتخابات میں پولیس کی غیرجانبداری کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کے حکم پر شہر میں تعینات تمام اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کو تبدیل کر دیا ہے۔

پنجاب میں پی ٹی آئی مسلم لیگ (ق) کے دور حکومت میں تعینات ہونے والے 50 سے زائد ایس ایچ اوز کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھا گیا ہے لیکن ان کے متعلقہ تھانوں سے ان کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران نے پولیس انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز (ایس آئیز) کو بھی دوبارہ تعینات کر دیا جنہیں گزشتہ برس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 25 مئی کے آزادی مارچ کے تناظر میں ہٹا کر پولیس لائنز تک محدود کر دیا گیا تھا۔

ان اہلکاروں کو حال ہی میں 25 مئی کو ان کے طرز عمل کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے ایک اعلیٰ سطح کے کمیشن نے اختیارات کے غلط استعمال، غیر قانونی گرفتاریوں اور پی ٹی آئی کارکنان پر تشدد یا مار پیٹ سمیت مختلف الزامات سے بری کر دیا ہے۔ بری کیے جانے کے بعد ان کے ناموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور جن کے ناموں کو فائنل کیا گیا انہیں لاہور میں نئے عہدوں پر متعین کردیا گیا۔

دریں اثنا لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سہیل اختر سکھیرا نے شہر کے تمام تھانوں کے تفتیشی ونگز کے سربراہان کو بھی تبدیل کر دیا۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ لاہور میں پولیس اسٹیشن کی سطح پر بڑے پیمانے پر تبادلے نگران پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے بھر کے تمام علاقائی اور ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی کے عمل کو مکمل کرنے کے چند روز بعد کیا گیا۔

لاہور پولیس کے اعلیٰ حکام نے ٹرانسفر ہونے والے ایس ایچ اوز کو اگلے حکم تک پولیس لائنز تک محدود کر دیا اور ان کی جگہ ان اہلکاروں کو تعینات کر دیا جو پوسٹنگ کے منتظر تھے۔ عہدیدار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے انعقاد میں غیرجانبداری کو یقینی بنانے کے لیے افسران کی تعیناتی لازمی تھی۔

الیکشن کمیشن کے حکم کے بعد لاہور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) بلال صدیق نے ڈی آئی جی لاہور آپریشنز افضال احمد کوثر کو اس پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی تھی۔