وزیر اعظم، عمران خان کو دوبدو ملاقات کی دعوت دیں!
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 07 / فروری / 2023
وزیر اعظم نے دہشت گردی اور معاشی صورت حال پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس ایک بار پھر ملتوی کردی ہے۔ اس بار کانفرنس کے انعقاد کے لئے کوئی نئی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔ البتہ یہ عذر پیش کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم ترکیہ میں ہولناک زلزلہ کے بعد ترک صدر طیب اردوان سے تعزیت اور ترکیہ کے عوام سے اظہار یک جہتی کے لئے انقرہ جارہے ہیں۔ یہ عذر اہم ترین قومی معاملات کو پس پشت ڈالنے کے لئے ناکافی ہے۔
ترکیہ اور شام میں آنے والا زلزلہ انتہائی ہولناک ہے۔ اب تک پانچ ہزار ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے اور ان میں اضافہ کا امکان ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کئی گنا ہوسکتی ہے۔ جانی نقصان کے علاوہ املاک کو پہنچنے والے نقصان اور متاثرین کی آبادکاری کے کے لئے کثیر وسائل اور وقت درکار ہوگا۔ ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس ناگہانی آفت کے موقع پر اظہار یک جہتی اور مقدور بھر امداد کی کوشش ضروری بھی ہےاور قابل تعریف بھی۔ پاکستان اس مقصد کے لئے امدادی ٹیمیں پہلے ہی ترکیہ روانہ کرچکا ہے۔ واضح ہے کہ آفت زدہ علاقوں میں ڈاکٹروں ، نرسوں اور امداد فراہم کرنے والے دیگر ماہرین کی موجودگی، پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ انقرہ سے زیادہ اہم و ضروری تھی۔
شہباز شریف بھی اس قدرتی آفت پر اظہار یک جہتی کے لئے ضرور صدر طیب اردوان سے ملاقات کا اہتمام کرتے لیکن اہم قومی مسائل کو نظر انداز کرکے انقرہ روانہ ہوجانا ، وزیر اعظم کی سیاسی کم نگاہی اور کمزوری کا اظہار ہے۔ پاکستان اس وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد امدادی پروگرام کے نویں جائزہ کے لئے اسلام آباد آیا ہؤا ہے۔ شہباز شریف خود متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کی طرف سے ناقابل یقین سخت شرائط عائد کی جارہی ہیں ، وہ دھیلے دھیلے کا حساب مانگ رہا ہے اور ہر قسم کی سبسڈی پرنظر ثانی کی جارہی ہے۔ البتہ وزیر اعظم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ان کے اپنے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے غیر ذمہ دارانہ اقدامات اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ تعلقات کشیدہ کئے ہیں۔ اسی لئے نواں جائزہ کئی ماہ تعطل کا شکار ہؤا اور ملک کو ناقابل یقین مشکل مالی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیاس کیا جاسکتا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد ایسے وزیر خزانہ سے معاملات طے کرتے ہوئے مشکل محسوس کرتا ہوگا جو اپنی ہی حکومت کی منظور شدہ شرائط سے منحرف ہؤا بلکہ وہ تمام اقدامات بدلنے کی کوشش کی جن پر سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اتفاق کیاتھا۔ یوں اسحاق ڈار نے موجودہ حکومت اور ملک کا اعتبار و بھروسہ ختم کیا تھا۔ باہمی عدم اعتماد کی اس فضا میں آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے ابتر ہوتے مالی معاملات کو سہارا دینے کے لئے آخری کوشش کے طور پر اسلام آباد آیا ہے۔ اگر اس وفد کے ساتھ معاملات طے نہیں ہوتے تو پاکستان کا ڈیفالٹ ہوجانا طے ہے۔ حکومت کو اس خوفناک صورت حال کا اندازہ ہونا چاہئے جو آئی ایم ایف سے عدم اتفاق کی وجہ سے رونما ہوسکتی ہے۔ گو کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط مان کر بھی پاکستانی عوام پر شدید مالی بوجھ کا اضافہ ہوگا لیکن یہ ان مشکلات سے کم ہی ہوگا جو یہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں پاکستانی حکومت و عوام کو درپیش ہوسکتی ہیں۔
اس کے باوجود وزیر اعظم شہباز شریف نے اسحاق ڈار ہی کو آئی ایم ایف سے بات چیت پر مامور کیا ہے۔ شہباز شریف میں اگر اتنی ہمت نہیں بھی تھی کہ وہ اسحاق ڈار کو کابینہ سے نکال سکتے تو انہیں کوئی دوسری وزارت دے کر کم از کم وزارت خزانہ کو ان کے بوجھ سے نجات ضرور دلا سکتے تھے۔ ماہرین کی متفقہ رائے اور گزشتہ چار ماہ کے دوران رونما ہونے والے مالی حالات کےباوجود شہباز شریف اس سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہیں کرسکے۔ نہ ہی اسحاق ڈار کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ قوم کو یہ تلقین کرنے کی بجائے کہ ’پاکستان اللہ نے بنایا تھا اور وہی اس کی مشکلیں حل کرے گا‘ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے اور خود ہی نواز شریف اور شہباز شریف کو بتا دیتے کہ اب ان کا وزیر خزانہ رہنا قومی مفاد میں نہیں ہوگا ،اس لئے وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اس کی بجائے انہوں نے مریم نواز کے ذریعے اپنی حماقتوں کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جو انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول طرز عمل ہے۔
معاشی مشکلات کے علاوہ ملک میں پاکستان تحریک طالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں انتہائی تشویش کا سبب ہیں۔ یہ گروہ اب مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ گزشتہ سوموار کو پشاور پولیس لائنز کی مسجد پر خود کش حملہ میں ایک سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس واقعہ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردگروہ کس حد تک طاقت ور اور منظم ہوچکے ہیں کہ وہ ایسے جان لیوا حملے کرنے کے بھی قابل ہیں۔ پشاور سانحہ کے بعد قومی سطح پر شدید ررد عمل ضرور سامنے آیا ہے اور ملک کی سیاسی اور ملٹری قیادت نے بہر صورت دہشت گرد عناصر کا قلع قمع کرنے کا دعویٰ و وعدہ کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس حوالے سے ٹھوس سیاسی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ اس کی بجائے حکومت اور ملک کی بڑی اور سابقہ حکمران پارٹی تحریک انصاف نے ایک دوسرے کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دے کر الزام تراشی اور بدمزگی کی ایک نئی فضا پیدا کی ہے۔ حکومت ایک طرف پارلیمنٹ کو متحرک کرنے میں ناکام رہی ہے تو دوسری طرف سفارتی لحاظ سے بھی وہ کابل حکومت کے بارے میں کوئی واضح اور ٹھوس مؤقف اختیار نہیں کرسکی۔ حکومتی ترجمانوں کے بیانات سے زیادہ سخت اور دو ٹوک مؤقف تو امریکی وزارت خارجہ اور وہائٹ ہاؤس کی طرف سے سامنے آچکا ہے۔
اس پس منظر میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان ایک خوش آئیند اور مثبت اقدام تھا۔ یہ بھی قابل فہم ہونا چاہئے کہ یہ دعوت درحقیقت تحریک انصاف کے ساتھ ڈائیلاگ کے لئے دی گئی تھی۔ کیوں کہ ملک کی باقی تمام قابل ذکر پارٹیاں تو پہلے ہی حکومتی اتحاد میں شامل ہیں۔ ایسے میں بہتر تو یہی ہوتا کہ وزیر اعظم براہ راست عمران خان کو ملاقات کی دعوت دیتے اور اسے عملی طور ممکن بنانے کے لئے پہلے سے مناسب ہوم ورک کرلیا جاتا۔ اس کی بجائے اے پی سی کا ڈول ڈالا گیا۔ تحریک انصاف کے لیڈروں نے ضرور اس بارے میں ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا اور یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ عمران خان اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے۔ البتہ دو روز پہلے فواد چوہدری نے واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ہی نہیں ملا۔ ان کے بقول اگر ایسی دعوت آئے گی تب ہی تحریک انصاف اس پر غور کرے گی۔ گویا تحریک انصاف نے اے پی سے کے انعقاد کو پوری طرح مسترد نہیں کیا ۔
حکومتی ترجمان ابھی تک یہ وضاحت نہیں کرسکے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کو باقاعدہ دعوت نامہ کیوں نہیں بھیجا جاسکا۔ اس کی بجائے ایک روز پہلے وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے ایک ٹوئٹ بیان میں آل پارٹیز کانفرنس کو دو روز کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ اور آج اچانک ترکیہ کے زلزلہ کو عذر بناکر غیر معینہ مدت کے لئے اس اہم کانفرنس کو ملتوی کیا گیا ہے۔ اس اعلان کی کوئی وجوہات بھی پیش نہیں کی گئیں۔ حکومت کا یہ رویہ درحقیقت اس کی کمزوری اور بے یقینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی پختہ ہوگا کہ شہباز شریف کی حکومت درحقیقت عمران خان کے ساتھ مذاکرات تو کرنا نہیں چاہتی لیکن اس پر سیاست کرنے کی کوشش ضرور کی جارہی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان کرنے کے بعد لگاتار اسے ملتوی کرنے سے حکومت کی سیاسی حیثیت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگتے ہیں۔
شہباز شریف کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ واقعی قومی ہم آہنگی کے لئے ملک میں موجود سیاسی تصادم کی کیفیت ختم کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں یا آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان درحقیقت سیاسی ہتھکنڈے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اے پی سی کو تحریک انصاف کے منفی اشاروں کی وجہ سے ملتوی کیا گیا ہو۔ لیکن اس سے بھی حکومت کی کمزوری اور ناقص حکمت عملی کا مظہر ہی کہا جائے گا۔ عمران خان جیسے منہ زور لیڈرکو کسی قومی کانفرنس میں مدعو کرنے سے پہلے حکومت کو ہوم ورک کرنے کے بعد ہی اس کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔
وزیر اعظم کو موجودہ سیاسی بحران میں اہم قومی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے اے پی سی جیسے کسی ڈھونگ کا سہارا لینے کی بجائے عمران خان کو دوبدو ملاقات کی دعوت دینی چاہئے۔ اور اس ملاقات کا ایجنڈا عام کردینا چاہئے تاکہ تحریک انصاف کی قیادت کے علاوہ عوام کو بھی علم ہو کہ اسے کن امور پر مشاورت کی دعوت دی جارہی ہے۔ پھر بھی اگر یہ دعوت قبول نہیں کی جاتی تو فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے کہ کون سی سیاسی پارٹی شدید قومی بحران میں بھی حکومت کے ساتھ مشاورت و تعاون پر آمادہ نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں تو اس کی ذمہ داری شہباز شریف اور حکومت پر عائد ہوتی ہے۔