الیکشن کمیشن پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرے: صدر عارف علوی

  • بدھ 08 / فروری / 2023

صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ’الیکشن ایکٹ 2017‘ کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرے۔

صدر عارف علوی نے خط میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کا اعلان کرے تاکہ صوبائی اسمبلی اور مستقبل کے عام انتخابات کے حوالے سے خطرناک قیاس آرائیوں پر مبنی پروپیگنڈے کو ختم کیا جاسکے۔ خط میں صدر نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق اسمبلی کے انتخابات تحلیل ہونے کے 90 روز کے اندر کروانا لازمی ہے کیونکہ آئین کا آرٹیکل 224 (2) اسمبلی کے انتخابات تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرانے پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے مطابق انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا بنیادی اور لازمی فرض ہے۔ آئین کا آرٹیکل 218 (3) ای سی پی کو شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کا فرض تفویض کرتا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہا تو بالآخر الیکشن کمیشن کو ہی آئین کی خلاف ورزی کا ذمہ دار اور جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

صدر عارف علوی نے خط میں کہا ہے کہ سربراہِ مملکت ہونے کی حیثیت سے میں نے آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف لیا ہے۔ خط میں چیف الیکشن کمشنر اور اراکین الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت ان کے حلف کے مطابق بنیادی ذمہ داری کی یاد دہانی بھی کروائی گئی۔

انہوں نے لکھا کہ آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج سے بچنے کے لیے دونوں تحلیل شدہ اسمبلیوں کے انتخابی شیڈول کا فوری اعلان کیا جائے۔

صدر مملکت نے خط میں آئین کی تمہید/قراردادِ مقاصد کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمہید میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ریاست اپنی طاقت اور اختیار کو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔

واضح رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو یہ خط ایسے وقت میں لکھا گیا ہے جب حکمراں اتحاد قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت کروانے پر مصر ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی قیادت نے 90 روز کے اندر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات نہ کرانے پر ’جیل بھرو تحریک‘ شروع کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی خواہش پر پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کی جانب سے دونوں اسمبلیوں کی تحلیل کو 20 دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔