آئین شکن و قاتل پرویز مشرف کی موت؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 08 / فروری / 2023
ہمارے خطے کی یہ اچھی یا بری روایت ہے کہ مرنے والے کی خامیاں یا برائیاں نظر انداز کردی جائیں، صرف خوبیاں اور اچھائیاں بیان کی جائیں۔ اور اگر اس میں خوبیاں نہ بھی ہوں تو پھر کچھ گھڑ کر ڈال دی جائیں۔
بظاہر یہ اچھی روایت ہے سماجی سطح پر اگر یہ کچھ شرائط و حدود کے ساتھ رہے بھی تو کوئی مضائقہ نہیں مگر اس کا نقصان فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس طرح تو ہم کسی ظالم وحشی ، حجاج، یزید یا شمر کو برا بھلا نہیں کہہ سکیں گے۔ ہماری جھوٹ پر استوار منافق سوسائٹی میں پہلے ہی سچائی بڑی مشکل سے دستیاب ہے۔ یہاں بڑے بڑے نامی گرامی شیطانوں کو اولیا اللہ اور رحمتہ اللہ علیہ کے لبادوں سے لپیٹ کر پیش کرنے کا چلن عام ہے۔ سب لوگ تو محقق نہیں ہوتے اور نہ ہی عام آدمی کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ کسی تحقیقی باریکی کیلئے ٹائم نکال سکے یا عرق ریزی کر سکے۔ اس لیے عام آدمی یوں پھیلائے گئے جھوٹے پروپیگینڈے کے زیر اثر اس بظاہر ہلکی سی سماجی روایت کو ابدی سچائی خیال کرتے ہوئے وقت کے ساتھ اتنا راسخ ہوجاتا ہے کہ برسوں بعد کسی بڑے سے بڑے محقق کے لیے بھی سچائی بیان کرنا ناممکن ہوجائے۔
تقدس کی جنونی ذہنیت جس نے بلا سفیمی لاز کے نام پر پہلے ہی خوف اور ہراسمنٹ کو پورے ملک میں لاگو کر رکھا ہے کیا ایسے ماحول میں یہاں یہ زہریلا پروپیگنڈہ مناسب ہوگا کہ مرنے والے کی صرف خوبیاں بیان کی جائیں؟ ان ناہنجاروں کے بعد دوسری کیٹیگری میں آجاتے ہیں ہمارے سطح بین تجزیہ کار جو بظاہر خود کو بڑا معتدل و متوازن بنا کر پیش کرنے کی عظمت کے دعویدار ہوتے ہیں۔ وہ یہ کہتے پائے جائیں گے کہ دیکھیں جی اگر مرحوم میں کچھ برائیاں تھیں تو بہت سی اچھائیاں بھی تھیں۔ ہمیں چاہیے کہ انصاف کے ساتھ دونوں پہلوعوام کے سامنے رکھ دیں۔ کوئی شک نہیں انصاف اور توازن کا یہی تقاضا ہے لیکن بالفعل اس ذریعے سے بھی اصل کمینگیاں ڈھانپ دی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ محمد خاں ڈاکو یا دلا بھٹی جو ہمارے پنجاب کا ہیرو تھا وہ ڈکیٹیاں ضرور کرتے تھے مگر وہ امراء سے لوٹ کر غرباء کو بہت کچھ دان کردیتے تھے۔ یوں امیروں کو لوٹ کر غریبوں پر جو نوازشات کی گئی ہوئی ہیں اُن کو نمک مصالحہ لگاتے ہوئے خوب اچھالا جاتا ہے۔ اس طرح وہ ڈکٹیٹ یا لٹیرا تاریخ میں رحمتہ اللہ علیہ کہلایا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس کی بندر بانٹ بھی اندھے کی ریوڑیاں بانٹنے جیسی تھی اور اس کا فعل سفاکیت کی مثال تھی۔
آج پوری دنیا میں شور ہے پاکستان ڈیفالٹ کے کنارے کھڑا وہ بدقسمت ملک ہے جہاں پون صدی سے آئین و قانون کو بھاری بوٹوں تلے روندا جارہا ہے، جہاں عوام کا پیٹ کاٹ کر سارے قومی وسائل چوکیدارہ سسٹم کی مضبوطی پر اڑا دیے جاتے ہیں جسے ہائبرڈ سسٹم کا نام دیا گیا ۔ نتیجتاً پاکستان کی عالمی پہچان ایک بھکاری و منگتی ریاست کی بن گئی ہے جو کٹورا یا کشکول تھامے دربدر بھیک مانگتے پائی جاتی ہے اور اس کا وزیر اعظم ترقی یافتہ مغربی اور برادر عرب ممالک سے یہ کہتا ہے کہ میرے بھائیو ہم بھکاری نہیں ہیں، بس زرا ہمارے حالات ٹھیک نہیں رہے۔ اس لیے مجبوری ہے مہذب دنیا کی طرف سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے حجم، جثے یا اوقات سے زیادہ سیکیورٹی کیوں رکھی ہوئی ہے؟ تو جواب دیا جاتا ہے کہ ہماری ہمسائیوں سے ان بن ہے تو پوری دنیا میں ہر جگہ ہمیں یہ سمجھایا جاتا ہے کہ آپ اپنے ہمسائیوں سے مذاکرات کرتے ہوئے تعلقات بہتر بنائیں تاکہ اپنے وسائل جنگی بھٹی میں جھونکنے کی بجائے اپنی عوام پر خرچ کرسکیں۔ مگر اس پر ہم 5فروری منانا شروع کردیتے ہیں۔
اب ہم اصل بات پر آتے ہیں 11اگست 1943 کو دہلی میں پیدا ہونے والا پرویز مشرف ابھی 5فروری 2023کو دبئی میں مرگیا۔ موت برحق ہے ہم سب نے چلے جانا ہے۔ آج اس کی خوبیاں بیان کی جارہی ہیں کہ اس نے ملک و قوم کی بڑی خدمت کی وہ بڑا لبرل سیکولر شخص تھا۔ درویش خود بڑا لبرل سیکولر ہے تو کیا اس کی وجہ سے وہ تمام بھیانک جرائم معاف کردیے جائیں جو قتل اور ڈکیتی سے بھی بڑھ کر تھے؟ ہماری عجیب پسماندہ ذہنیت ہے ہمارے مذہبی لوگوں نے جنرل ضیاء کی تباہ کاریوں سے اس لیے صرفِ نظر کرلیا کہ وہ بڑا مذہبی اور اسلامی تھا۔ کیا لبرل سیکیولرلوگوں کو بھی اس نوع کے جھانسے میں آنا چاہیے؟ پرویز مشرف وہ ڈکٹیٹر تھا جس نے محض اپنی ذاتی ہوس اقتدار کیلئے دو مرتبہ اس ملک کے آئین کو توڑا ایک 12اکتوبر 1999 کو اور دوسرا 3نومبر 2007 کو۔ اس نے منتخب پارلیمنٹ کو توڑتے ہوئے ٹو تھرڈ میجارٹی کے حامل وزیر اعظم کو پوری قیادت سمیت جیلوں میں ڈالا۔ اپنی دھاک دکھانے یا منوانے کیلئے منتخب وزیر اعظم کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے کارگل کا پنگا لیا۔ یوں تین ہزار سے زائد پاکستانی جوانوں کو قتل کروا دیا۔ دوسری جانب بھی اگر پانچ صد گھرانے اجڑے تو ان کا مجرم بھی یہی آمر مطلق تھا۔
یہاں بہت سی اور باتیں بھی کی جاتی ہیں یہ کہ وہ اک فون پر ڈھیر ہوگیا یا اس نے بہت سے جہادی امریکا کو بیچ کر مال بنایا یا مدرسہ حفصہ کی بچیوں کو مارا یا یہ کہ بلوچ لیڈر اکبر بگٹی کو قتل کروایا یا یہ کہ نیٹو کو سپلائی اڈے دیے یا یہ کہ ججز کے خلاف جھوٹے مقدمے بنوائے یا یہ کہ انڈیا کے خلاف جنونیت بھڑکائی یا یہ کہ جمہوری لوگوں کو ڈاؤن کرنے کیلئے ملاؤں کو تگڑا کیا یا سیاسی بونوں کو اکٹھا کرکے کنگز پارٹی بنوائی، یا یہ کہ ایم کیو ایم سے دہشت گردی کروائی، یا یہ کہ اربوں کی جائیدادیں بنائیں۔ یہ عدالتوں سے بھاگا ہوا اشتہاری تھا جسے جسٹس وقار سیٹھ نے سزائے موت سناتے ہوئے اس کی لاش ڈی چوک میں تین روز کیلئے لٹکائے رکھنے کا شدید فیصلہ سنایا۔
یہ ڈکٹیٹر کہتا تھا کہ میں پاپولر عوامی قیادت محترمہ بے نظیر اور میاں نواز شریف کو وطن واپس نہیں آنے دون گا میں نے انہیں سیاست سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کردیا ہے۔ یہ کہتا تھا کہ میری وردی میری کھال ہے اسے ہرگز نہیں اتاروں گا۔ درویش عرض گزار ہے کہ مرنے والے کی ہمدردی و دلجوئی میں یہ ساری باتیں جن میں سے کچھ جائز بھی ہیں اگر نظر انداز بھی کردی جائیں پھر بھی آئین شکنی کا گھناؤنا جرم کیا قابل معافی ہوسکتا ہے؟ اور پھر جن کی موجود ہ ورلڈ ویو پر نظر ہے وہ کارگل کے اتنے بڑے خون خرابے اور قتل و غارت گری کو کیسے بھول جائیں یعنی پرائم منسٹر انڈیا اٹل بہاری واجپائی کی نواز شریف سے مل کر شروع کی گئی لاہور میں امن کی آشا کو سبو تاژ کرنے کیلئے اتنا گھناؤنا وار کیا گیا اور خود اپنے ملک کے ہزاروں جوان اتنی سفاکی سے مروا دیے۔ یہ جرائم کیسے بھول جائیں؟
اس کے لمبے چوڑے اثاثہ جات جو اس نے چھوڑے ہیں ان کی تحقیقات کیوں نہیں ہونی چاہیے ؟ کیا محض ایک تنخواہ دار سرکاری ملازم اربوں کے بینک بیلنس اور جائیدادیں بنا سکتا ہے؟ آسٹریلیا کے جزیرے خرید سکتا ہے؟ ان لوگوں کا احتساب کرتے ہوئے سب کے پر کیوں جلتے ہیں؟ کہاں ہے وہ کھلاڑی یا اناڑی ذرا بولے نا اس چوری پر؟ اس ڈکٹیٹر کی والدہ مرحومہ اگر دبئی میں دفن ہوسکتی ہیں تو اسے بھی انہی کے پہلو میں کیوں دفن نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پاکستانی پرچم کی اس سے بڑی توہین کیا ہوسکتی ہے جو آئین شکنوں کو اس میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے۔
منتخب ایوانوں میں قومی مجرموں کے لیے فاتحہ خوانی کیوں ہو؟ اور پھر آئین شکنوں کی سرکاری اعزار کے ساتھ تدفین کے کیا معنی ہیں ؟ یہ کہ ہم آئندہ کیلئے بھی آئین و قانون اور منتخب پارلیمنٹ یعنی بائیس کروڑ عوام کو بوٹوں کی نوک پر رکھتے ہیں؟