موجودہ پارلیمان کو دانستہ طور پر نامکمل رکھا گیا ہے: چیف جسٹس پاکستان

  • جمعرات 09 / فروری / 2023

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے قیام کو آٹھ ماہ ہو چکے ہیں لیکن پارلیمنٹ کو دانستہ طور پر نامکمل رکھا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں ترامیم کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نیب ترامیم چیلنج کی ہیں اور ملک میں شدید سیاسی تناؤ اور بحران ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف نے پہلے پارلیمنٹ چھوڑنے کی حکمتِ عملی اپنائی اور پھر پتا نہیں کیوں پارلیمنٹ میں واپس آنے کا فیصلہ کیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان کے حکومت چھوڑنے کے بعد بھی انہیں بڑی تعداد میں عوام کی حمایت حاصل رہی ہے۔ درخواست گزار عمران خان کوئی عام شہری نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ سے متنازع قانون سازی ہو رہی ہے جس کے خلاف درخواست آئی ہے۔ عدالت اس معاملے میں مداخلت کرنا نہیں چاہتی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آرڈیننس عارضی قانون سازی ہوتی ہے لیکن حالیہ ترامیم مستقل نوعیت کی ہیں۔ آرڈیننس لانے کی وجہ اسمبلی میں اکثریت نہ ہونا بھی ہوتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ نیب ترامیم صرف اپنے فائدے کے لیے کی گئیں جن کے اپنے مفادات تھے۔

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ سیاسی بازی ہارنے کے بعد کوئی شخص پارلیمان سے نکل کر عدالت آیا ہو۔ ان کے مطابق اس طرح سیاست کو عدلیہ میں اور عدلیہ کو سیاست میں دھکیلا گیا ہے۔

اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ایک شخص جب اقلیت میں ہے اور اس کے حقوق متاثر ہوں گے تو وہ عدالت کے علاوہ کہاں جائے؟ ایک موقع پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ سیاسی خلا عوام کے لیے کٹھن ہوتا ہے۔ جب سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو عدالت کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ عمران خان کو بلا کر پوچھا جائے کہ اسمبلی نہیں جانا تو الیکشن کیوں لڑ رہے ہیں۔