انتخابات کے سوا کوئی باعزت راستہ موجود نہیں ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 10 / فروری / 2023
آئینی حجت پوری کرنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات 90 دن کے اندر کروانے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں الیکشن کمیشن کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ گورنر پنجاب کے ساتھ مشاورت کے بعد فوری طور سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ عدالت میں وکیل ہائی کمیشن کے اس عذر کے باوجود سامنے آیا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا مجاز نہیں ہے یا یہ کہ مختلف ادارے عملہ سکیورٹی اور وسائل فراہم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کیوں کہ تحریک انصاف پنجاب کے علاوہ خیبر پختون خوا میں تین ماہ کے اندر انتخابات پر زور دے رہی ہے اور اب اسے پہلی قانونی فتح بھی حاصل ہوئی ہے۔ اسے یقیناً پارٹی کی اخلاقی فتح بھی کہا جائے گا اور وہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کرے گی۔ جس دوران یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا، وفاقی حکومت کے نمائیندے مسلسل اس بات پر زور دے رہے تھے کہ صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے انتخابات علیحدہ علیحدہ اوقات میں کروانا عملی اور مالی لحاظ سے ممکن نہیں ہے ۔ اس طرح مرکزی حکومت کا یہ ارادہ تو سامنے آگیا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں کے انتخابات کو وقتی طور سے تعطل کا شکار کیا جائے لیکن کسی طرف سے ایسی کوئی قانونی دلیل سامنے نہیں آئی کہ واضح آئینی ہدایت کے باوصف گورنر، الیکشن کمیشن یا وفاقی حکومت کیسے انتخابات کو ٹالنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔
گزشتہ روز وزارت داخلہ نے جی ایچ کیو کا ایک جواب عام کیا ہے جس میں انتخابات کے دوران سکیورٹی فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کی گئی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے کے علاوہ فوج اندرونی طور سے سامنے آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ اس لئے انتخابی سرگرمی کے دوران فوجی دستے فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ وفاقی حکومت اس عذر کو مختلف فورمز پر کسی بھی طرح انتخابات معطل رکھنے کے لئے استعمال کرسکتی ہے لیکن ایسا کوئی فیصلہ اس کی شہرت اور اتھارٹی کے بارے میں نئے سوالات سامنے لائے گا۔ اس وقت الیکشن کمیشن سمیت تمام متعلقہ اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو مناسب وارننگ سمجھ کر مزید تاخیری ہےہتھکنڈے اختیار کرنے سے گریز کریں ۔ اس معاملہ میں اگر مزید لیت و لعل سے کام لیا گیا تو حکمران جماعتوں کو اس کا سیاسی نقصان تو ہوگا ہی لیکن آئینی اداروں کی شہرت پر بھی سوالیہ نشان لگایا جائے گا۔
اپوزیشن پارٹی تحریک انصاف پہلے بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان پر ہر طرح کی الزام تراشی کررہی ہے اور اسے حکومت کا نمائیندہ اور چیف الیکشن کمشنر کو مسلم لیگ (ن) کا ایجنٹ کہا جاتا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات ٹالنے کی کوشش میں الیکشن کمیشن ہی کو سب سے زیادہ بدنامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ سے یہ تو واضح ہورہا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں اس حوالے سے کسی نرمی پر تیار نہیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن اور حکومت کو آئین کی کسی نئی صراحت سے کوئی گنجائش دینے پر آمادہ ہیں۔ ملکی فوج اگر ’غیر سیاسی‘ ہوچکی ہے تو اعلیٰ عدلیہ کسی حد تک موجودہ حکومتی نظام کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کررہی ہے۔ مختلف مقدمات میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کے ریمارکس اس حوالے سے عدالتی موڈ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کو آئین کا احترام کرنے کے علاوہ ججوں کے طرزعمل کو بھی پیش رکھنا چاہئے تاکہ تصادم کی کسی نئی صورت حال سے بچا جاسکے۔
اگرچہ یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ عمران خان کا یہ دعویٰ تو قابل اعتبار نہیں کہ نئے انتخابات کے بعد ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے اور راوی چین ہی چین لکھنا شروع کردے گا۔ انتخابات کے نتیجے میں حکومت کرنے والے تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن ملکی مسائل تو اسی وقت حل ہوں گے جب تمام سیاسی عناصر اس بات پر اتفاق کریں گے کہ قوم کو جس بحران کا سامنا ہے اسے اجتماعی حکمت سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ اگر تحریک انصاف پنجاب یا کسی دوسرے صوبے حتی کہ وفاق میں بھی انتخابات جیت کر اقتدار سنبھال لے گی تو وہ دوسری سیاسی قوتوں کی طرف دست تعاون بڑھائے بغیر کیسے قومی مسائل کا حل تلاش کرے گی۔ یا اگر اسی سوال کو دوسرے طریقے سے دیکھا جائے کہ جو پارٹی اپوزیشن میں رہتے ہوئے کسی بھی سطح پر حکومت سے ہمہ قسم مواصلت سے انکار کرتی ہے ، وہ اقتدار سنبھال لینے کے بعد کیسے اس رویہ کو تبدیل کرلے گی۔ تحریک انصاف کا سابقہ دور سیاسی مخاصمت و دشمنی میں اضافے اور تصادم کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ نئے انتخابات کے نتیجے میں عمران خان یا تحریک انصاف سے کسی مختلف رویہ کی توقع کرنا عبث ہوگا۔ اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ ملکی سیاست پر چھائے ہوئے گہرے بادل چھٹنے کا ابھی کوئی امکان نہیں ہے۔
صورت حال کے اس مطالعہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کو لپیٹنے کی حمایت کی جائے۔ بدنصیبی سے اس وقت ملک پر حکمرانی کرنے والی جماعتیں اگرچہ آئین و جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہوئے ہی اقتدار میں آئی تھیں لیکن اب وہ خود غیر آئینی ہتھکنڈے اختیار کرنے کی ہرممکن کوشش میں ہیں۔ کبھی یہ امید کی جاتی ہے کہ عمران خان کو کسی عدالتی کارروائی کے ذریعے نااہل قرار دیاجائے تاکہ ان کی پارٹی کا زور توڑا جاسکے اور کبھی ان کے حامیوں کو ہراساں کرکے اور تحریک انصاف کے لیڈروں کو بے مقصد مقدموں میں ملوث کرکے عمران خان کی سیاست میں رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے۔ یہ سب طریقے ناقابل قبول ہیں اور ملکی آئین اور جمہوریت کے نام پر انہیں شدت سے مسترد کرنا چاہئے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے سیاسی ساتھیوں کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں وہ آئین اور پارلیمانی طریقہ کار کا نعرہ لگاتے ہوئے بطور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے تھے۔ عمران خان نے ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے تمام سیاسی اور ماورائے آئین ہتھکنڈے اختیار کئے لیکن وہ ان میں کامیاب نہیں ہوسکے کیوں کہ وہ فوج کی براہ راست حمایت سے محروم ہوچکے تھے۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر شہباز شریف نے اس موقع پر سو موٹو اختیار کے تحت سپریم کورٹ کی مداخلت کو قابل تحسین عدالتی اقدام سمجھا تھا اور پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے وہ عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنے اور خود وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
اس سیاسی وپارلیمانی عمل میں ہونے والی تمام جوڑ توڑ میں رونما ہونے والے چھوٹے موٹے واقعات (جن میں عدالتی حکم کے تحت ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مسترد کرنے کا طریقہ بھی شامل ہے) کے باوجود پارلیمانی و آئینی طریقہ کے نام پر شہباز شریف کی حکومت کو جائز مان لیا گیا۔ تاہم اگر وہ اب اقتدار سے چمٹے رہنے کے لئے کسی بھی عذر سے انتخابات کے آئینی تقاضوں کو نظر انداز کریں گے تو انہیں بھی اسی شدت سے مسترد کرنے کی ضرورت ہوگی جس سختی سے عمران خان کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کو ناجائز طریقوں سے روکنے کو غلط کہا گیا تھا۔
بہتر ہوگا کہ مسلم لیگ اور اس کی ساتھی پارٹیاں معاملہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اپنا طریقہ کار تبدیل کریں۔ اب نہ صرف پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات 90 دن میں کروانے کا راستہ ہموار کیا جائے اور الیکشن کمیشن کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے بلکہ قومی اسمبلی کے انتخابی شیڈول کا اعلان بھی کردیا جائے تاکہ اس حوالے سے پیدا ہونے والی غلط فہمی ختم ہو۔ قومی اسمبلی کے انتخابات اگست /ستمبر میں ہونے چاہئیں ۔ اس مدت میں کسی بھی قسم کی توسیع غیر آئینی اور ناقابل قبول ہوگی۔ اگر ایسا کوئی طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے بھی ملکی پارلیمانی نظام کو ویسا ہی نقصان پہنچے گا جو عمران خان کے ماورائے آئین ہتھکنڈوں سے پہنچنے کا اندیشہ تھا۔
اس عذر کو بھی قبول نہیں کیا جاسکتا کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال مناسب نہیں ہے۔ اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے جو اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ حکمران جماعتوں کا اپنا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اس دلیل کو بروئے کار نہ لائیں اور مقررہ آئینی طریقہ کے تحت عوام کو اپنے نمائیندے چننے کا موقع فراہم کیا جائے۔ سکیورٹی کے لئے فوج کی عدم دستیابی کو عذر کی بجائے ، ایک مستحسن صورت حال کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ اول تو فوج کا انتخابات کی نگرانی یا حفاظت میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔ موجودہ حکمران پارٹیاں خود ہی ماضی میں انتخابات کی نگرانی کے لئے فوج کے کردار کو مسترد کرتی رہی ہیں۔ جی ایچ کیو کی معذرت کے بعد اب ان کے پاس موقع ہے کہ وہ ملک میں ایسے انتخابات منعقد کروانے کی روایت کا آغاز کریں جن میں عسکری ادارے ہر سطح پر غیر متعلق اور غیر جانبدار رہیں۔ تاکہ انتخابی نتائج کے بعد کسی کو بھی کوئی عذر تراشنے کا موقع نہ مل سکے۔
یہ امکان نہیں ہے کہ پنجاب و خیبر پختون خوا یا قومی سطح پرمنعقد ہونے والے انتخابات میں کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت مل سکے گی۔ ملکی سیاست میں اگرچہ یہ کوئی نئی صورت حال نہیں ہوگی لیکن اب سیاسی پارٹیوں کو یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی پارلیمانی نظام اسی وقت مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے جب سیاسی عمل میں شریک تمام عناصر کو یکساں احترام دیا جائے۔ انتخاب جیتنے اور ہارنے والے دونوں فریق درحقیقت جمہوری عمل کو مضبوط کرتے ہیں۔ تحریک انصاف اگرچہ انتخابات کے لئے بہت بیتاب ہورہی ہے لیکن اسے بھی انتخابات کے بعد سیاسی سمجھوتوں اور باہم مل جل کر کام کرنے کا اہتمام کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر جن انتخابات کو پاکستان ’فتح‘ کرنے کا ذریعہ سمجھا جارہا ہے، وہ بطور سیاسی جماعت تحریک انصاف کا آخری قابل ذکر معرکہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔