ترکیہ شام زلزلہ میں اموات کی تعداد 24 ہزار سے تجاوز کرگئی

  • ہفتہ 11 / فروری / 2023

ترکیہ اور شام میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ 24 ہزار سے تجاوز چکی ہے۔ صدی کے تباہ کن زلزلے کو 5 روز گزر چکے ہیں۔ امدادی کارکن بڑے پیمانے پر زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں میں ملبے تلے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سرد موسم نے امدادی کوششوں کو سخت متاثر کیا ہے اور لاکھوں لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جنہیں فوری امداد کی اشد ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ زلزلے کے بعد دونوں ممالک میں کم از کم 8 لاکھ 70 ہزار افراد کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے۔ قدرتی آفت کے دوران صرف شام میں 53 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

پیر کے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا اور زندہ بچ جانے والوں کی زندگیوں کو مزید مشکل بنادیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوآن نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت متاثرین تک پہنچنے اور ان کی مدد کرنے میں اتنی جلدی کامیاب نہیں ہو سکی جتنی جلدی ہماری خواہش تھی۔

قبرص سے تعلق رکھنے والے 24 بچے جن کی عمریں 11 سے 14 سال کے درمیان تھیں، وہ والی بال ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے ترکیہ میں موجود تھے کہ زلزلے کے دوران ان کے ہوٹل کی عمارت زمین بوس ہوگئی۔ مرنے والے بچوں میں سے 10 کی لاشیں ان کے آبائی وطن شمالی قبرص بھیج دی گئیں۔

ترک میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اب تک گروپ میں شامل کم از کم 19 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 15 بالغ افراد بھی شامل ہیں۔