قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں شہری کی ہلاکت کے بعد ننکانہ صاحب کے 2 پولیس افسر معطل

  • ہفتہ 11 / فروری / 2023

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ضلع ننکانہ صاحب میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سے ایک شہری کو بچانے میں ناکامی پر دو پولیس افسران کو معطل کیا ہے۔

پنجاب پولیس کے مطابق آئی جی نے ’قرآن کی بےحرمتی‘ کے الزام میں شہری کے قتل کا نوٹس لے لیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر ننکانہ پولیس اسٹیشن کے باہر مشتعل ہجوم کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں ہجوم کو واربرٹن پولیس اسٹیشن کا مرکزی دروازہ توڑتے اور کھولتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور اس کے بعد مشتعل ہجوم باہر سے عمارت پر دھاوا بول دیتا ہے۔

دوسری ویڈیو میں ایک نوجوان کو دکھایا گیا ہے جو مبینہ طور پر ہجوم کا حصہ ہے اور وہ پولیس اسٹیشن کے اندر مسکرا رہا ہے جہاں ٹوٹے ہوئے شیشے اور فرنیچر بکھرا ہوا ہے۔ پولیس نے بیان میں کہا کہ ’آئی جی ڈاکٹر عثمان انور نے ننکانہ سرکل کے ڈی ایس پی نواز ورک اور ایس ایچ او وار برٹن فیروز بھٹی کو فوری طور پر معطل کردیا ہے‘۔

بیان میں کہا گیا کہ آئی جی نے ڈی آئی جی اے بی امین بخاری اور ڈی آئی جی اسپیشل برانچ راجا فیصل کو موقع پر پہنچ کر انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ’کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں، غفلت اور کوتاہی کے مرتکب عملے کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ننکانہ صاحب میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پولیس مشتعل ہجوم کو روکنے میں ناکام کیوں ہوئی، قانون کی بالادستی یقینی بنانی چاہیے، کسی کو قانون پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن و امان یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر محمود اشرفی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابل افسوس ہے کہ جس طرح مشتعل ہجوم بے حرمتی کے الزام پر ایک شہری پر حملہ آور تھا۔ ننکانہ صاحب میں قرآن کی بے حرمتی کے الزام پر شہری پر غیرانسانی تشدد اور قتل اور پولیس اسٹیشن پر حملہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔

واضح رہے تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) نے جنوری 2022 میں جاری ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ 1947سے2021 تک توہین مذہب کے الزامات میں 18 خواتین اور 71 مردوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ اب تک 107 خواتین اور ایک ہزار 308 مردوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

2011 سے 2021 کے دوران ایک ہزار 287 شہریوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے۔ محققین کا خیال ہے کہ حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوگی کیونکہ توہین مذہب کے تمام کیسز میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوتے۔