مشکلات سے نکلنے کے لئے سخت محنت اور ایثار کی ضرورت ہے: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر ہم سب مل کر دن رات محنت کریں۔ مجھ سمیت اشرافیہ سچے دل سے قربانی اور ایثار کا مظاہرے کرے تو 75 برس سے ہچکولے کھانے والی یہ کشتی منجدھار سے نکل آئے گی۔
لاہور میں باب پاکستان کی تعمیر اور والٹن روڈ کی توسیع اور کشادگی کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف منصوبوں پر ضائع کئے جانے والے وسائل کا حساب ہونا چاہئے۔ بدعنوانی کے نام پر دوہرے معیار کا جائزہ لینا چاہئے۔ احتساب بیورو ایسا ہی ادارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ نیب کے عقوبت خانے میں کبھی کوئی نہ جائے۔ گزشتہ ادوار میں وہاں ناانصافی روا رکھی گئی اور انصاف کا قتل عام ہوا۔ دشمن بھی نیب کے عقوبت خانے میں نہ جائے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بےگناہ لوگوں کو چن چن کر نیب کے عقوبت خانے بھجوایا گیا لیکن اس منصوبے پر اربوں روپے کا غبن ہوگیا تو کیا نیب نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھا؟
یہ وہ دہرے معیار ہیں جس نے پاکستان کو تباہی کے اس دہانے پر پہنچایا ہے۔ اس منصوبے کا احتساب نہ ہونے کی وجوہات کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے نظام کو دفن کرنے تک پاکستان خوشحال نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایسے کئی منصوبے اربوں کھربوں کے غبن کے نیچے دفن ہوگئے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ہمت ہارنے کی کوئی بات نہیں، مشکلات تو آتی ہیں، آج بھی ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔
باب پاکستان منصوبہ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں 10 سے 15 برس نہیں 20 سے 25 برس کی تاخیر ہوئی ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اس منصوبے کو مکمل کیا جائے گا۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے گزارش ہے کہ اس منصوبے کے لیے بھرپور تعاون کریں۔
آج ہم اس تاریخی مقام پر اکھٹے ہوئے ہیں۔ یہ والٹن کا وہ مقام ہے جہاں ہزاروں مہاجرین نے قیام کیا اور یہاں کے لوگوں نے انصار مدینہ کی یاد تازہ کرتے ہوئے انہیں گلے سے لگایا، یہ مثالیں قیامت تک یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ 2008 میں سابق جنرل پرویز مشرف کی خواہش پر حکومت پنجاب نے اس منصوبے کا کنٹریکٹ ایوارڈ کردیا تھا۔ اس مقام کو ہمیں پوری دنیا کے لیے ایک تاریخی مقام بنانا تھا جہاں پاکستان کے چاروں کونوں سے طلبہ آتے اور پاکستان کی تاریخ سے آگاہ ہوتے۔ اس منصوبے پر متعدد بار زور و شور سے کام شروع ہوا لیکن بہت بےرحمی سے اس منصوبے کو موخر کیا گیا اور پاکستان کے اربوں روپے غبن ہوچکے ہیں۔
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے سعد رفیق کا کہنا تھا کہ نامکمل منصوبے پر 110 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ باب پاکستان کی یادگار کے لیے درآمدی ماربل نہیں پاکستانی ماربل لگایا جائےگا۔ باب پاکستان کی یادگار پر عام آدمی کے لیےکھیل کی سہولتیں بھی ہوں گی۔