آئی ایم ایف، حکومت اور عوام: اعتبار و بے اعتباری کے درمیاں

آئی  ایم ایف اور  حکومت کے جب بھی مذاکرات ہوتے ہیں تو  عام آدمی سہم سا جاتا ہے۔ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ  ان کے باہم  معاہدے سے جو بھی برآمد ہوتا ہے وہ عام آدمی کی جیب سے باقی بچا کھچا بر آمد کروانے پر ہی منتج ہوتا ہے۔ 

پاکستان  22  بار آئی ایم  ایف کی کوچہ گردی کر چکا ہے، ہر معاہدے پر  عوام کو ہی قربانی کے لئے پکارا گیا۔  آئی ایم ایف کو ہمارا اور ہمیں اس کی شرائط کا پتہ ہوتا ہے۔ لے دے کر یہی طے کرنا  باقی ہوتا ہے کہ چھری خربوزے پر گرے گی یا  خربوزہ چھری پر۔

آئی ایم  ایف اور پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا کہ  نویں جائزہ مشن کے مذاکرات  ٌ مذاق رات  ٌ کی طرح طویل  اور  مذاق ثابت  ہوتے ہوتے بچے۔  آغاز سے قبل  اسحاق ڈار نے  واضح کیا کہ اب وزارت کی پاسبانی مفتاح اسماعیل  کے ٌنادان ٌ  ہاتھو ں میں نہیں ہے۔ وہ آئی ایم ایف کو   خوب سمجھتے  ہیں اور اسے ٌمینیج ٌ کرنا جانتے ہیں۔  لیکن کرنا خدا کا یوں ہوا کہ  اس بار  شاید آئی ایم ایف  میں کچھ ناشناس  افسران آ دھمکے  جنہوں نے  بے مروتی کی انتہا کر دی، سو جائزہ مشن کی تکمیل میں جابجا   مشکل مقامات آئے جنہیں اتاولے میڈیا نے بریک ڈاؤن کا نام دے کر بزنس کمیونٹی، اسٹاک ایکسچینج اور انٹر بنک میں روپے  کی سانس پھلائے رکھی ۔ 

  اصولی طور پر جائزہ  مشن کی تکمیل  پر سٹاف لیول معاہدہ طے پاجاتا ہے،  لگے بندھے اقدامات کا اعلان ہوتا ہے جس میں سے کچھ  پیشگی  شرائط کے طور پر حکومت عمل درآمد  کر چکی ہوتی ہے اور بقیہ پر نیک چال چلن کے  وعدے کے ساتھ کاربند  رہنے  کا اعلان کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عوام کو  مبارک  سلامت کا پیغام کہ  فکر ناٹ!  بقیہ اقدامات پر جو تکلیف عوام کو ہونی ہوتی ہے اس پر حکومتِ وقت معذرت سے اس لئے گریز  کرتی  ہے،  کیا کیجیے کہ  یہ مشکل حالات پچھلی حکومت نے پیدا کیا، ورنہ ہم اور یہ بے دردی، توبہ توبہ۔۔۔

اس بار البتہ معاملہ کچھ یوں بھی  فرق رہا کہ ابتدا میں  وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے توقعات بڑھا دیں کہ  اب کی بارآئی ایم ایف سوچ سمجھ کر قدم ر نجہ فرمائے۔  اس بار  ان کا واسطہ ان سے ہے جنہوں نے کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔  مگر جوں  جوں مذاکرات اختتام کی طرف بڑھتے رہے،  حکومتی حلقوں اور  بزنس کمیونٹی میں پریشانی بڑھنے لگی۔ پیش کئے گئے اعدادوشمار پر آئی ایم ایف کا اعتبار ڈانواں  ڈول بتایا گیا۔  جو وعدے وعید پیش کئے گئے ان پر بھی اعتبار میں آئی ایم ایف کو لیت و لعل رہا۔  تاہم آخری روز رات گئے میڈیا کی زبانی  یہی معلوم ہوا کہ با لآخر وہ سب مان لیا گیا جو آئی ایم  کے دست طلب میں  تھا لیکن آئی ایم  ایف کو پھر بھی دھڑکا لگا رہا  کہ بتدریج اقدامات کا  ہمارا  ریکارڈ قابل فخر نہیں رہا۔ سو  کل جو  ہووے آج کرو کے مصداق بہتر یہی ہے کہ  پیشگی اقدامات  ہوتے نظر آجائیں تو دستخط ہوتے بھی نظر آجائیں گے۔ اس لئے رسمی معاہدے کا اجرا موخر ہوگیا۔

ایک  معاملہ اور آن لٹکا کہ پیش کئے گئے مالی پلان  کے مطابق دوست ممالک سے قرض کے بغیرمالیاتی خسارے کی جھولی کے چھید رفو نہیں ہوں گے۔ شنید ہے کہ ان  دوست ممالک کے سفیروں سے  تصدیق  کی گئی کہ آپ کا نام لیا جا رہا ہے۔   وزیر اعظم نے بہ نفس نفیس آئی ایم ایف جائزہ مشن کو  یقین دہانیاں کروائیں کہ  ہم ہیں ناں! تاہم  آئی ایم  ایف مشن کا دل نہ پسیجا بلکہ  اپنے دل کے قرار اور  کئے گئے ٌاقرارٌ  کو مزید  پختہ کرنے  کے لئے  واشنگٹن  ہیڈ آفس  سے رجوع کرنے  کا  وقت مانگا۔

اسحاق ڈار نے  اچھی خبر کے لئے  رات گئے جو پریس کانفرنس  کرنا تھی وہ منسوخ کر دی گئی۔ تاہم اگلے  روز  صبح صبح  انہوں نے  پریس کانفرنس کی۔  یہی تسلی  دی  کہ سب معاملات طے پاگئے  ہیں، بنیادی دستاویز بھی صبح سویرے  پہنچا دی گئی، اب وہ اور ان کی ٹیم اس پر مزید  غور کریں گے۔  جائزہ مشن کو  اس پر  اپنے بورڈ سے مشاورت کرنی ہے۔ اس دوران بات چیت جاری رہے گی،  دو  چار دن کی بات ہے۔  جونہی مشاورت مکمل ہوئی تو معاہدے  پر دستخط ہو جائیں گے، اللہ اللہ خیر صلّا۔ 

سامنے آنے والے  اقدامات جانے پہچانے ہیں، پٹرول لیوی قائم و جاری رہے گی، ڈیزل پر بقیہ دس روپے فی لیٹر دو قسطوں میں بڑھائے  جائیں گے۔ روپے کی قدر مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی سے طے ہوگی،  اسٹیٹ بنک شرح سود کو مہنگائی کے مطابق  طے کرتا رہے گا،   گیس اور بجلی میں مسلسل بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ کو روکنا ہے، سبسڈیز کو مزید ٹارگٹڈ کرنا ہے۔ انکم سپورٹ فنڈ میں کچھ اضافہ ہے اور بس۔ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ  محض 170  روپے کے مزید ٹیکسز کا بندو بست کرنا ہے جس کے لئے ایک منی سا بجٹ پیش ہوگا۔

رہے پیہم سکڑتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر تو ان کی ناتوانی کا بھی کچھ علاج  موصوف کے پاس ہے۔ حوالے کے لئے انہوں نے فرمایا کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد فقط سوا چار سو ملین ڈالرز کے ساتھ بھی  تو انہوں نے ملک چلا لیا تھا۔ البتہ اس کوشش میں اس زمانے میں بنکوں میں تمام ڈالز ڈیپازٹس ضبط کرنے کا ذکر دانستہ گول کر گئے کہ یادداشتوں میں گول گول تلخیوں کا نہ ہونا ہی بھلا۔

وقتی طور پر ایک بار پھر بحران  ٹلنے کا بندوبست نظر آ رہاہے، انٹر بنک  میں روپے کی شرح   ادھیڑ بن کا شکار ہے، کبھی اوپر  کبھی نیچے، یہی حالت اسٹاک ایکسچینج کی ہے۔ ایک دن  واہ واہ، اگلے دن آہ آہ۔ ان حالات میں اسحاق ڈار کے بقول وہ  بندوبست یعنی مینیج  کرلیں گے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، گھوڑا اور میدان سامنے ہے۔ اگلے چند ہفتے گواہی دے دیں گے کہ اعتبار کا راج ہوگا  یا پھر سے انتشار کا!

تاہم ایک یاد دہانی کہ معشتیں صرف مینیج کرنے سے ترقی نہیں کرتیں، معیشت اور گورننس کے اس نظام کی بنیادی خامیوں کو ٹھیک کئے بغیر اسی طرح کا  اگلا بحران زیادہ دور نہیں۔