آئی ایم ایف کے معاملات طے پا چکے؟

سردست پاکستان فوری معاشی بحران سے نکلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ڈیفالٹ کوئی آپشن نہیں ہے بلکہ قطعاً  نہیں ہے۔ ہم نے نہ پہلے کبھی ڈیفالٹ کیا ہے اور نہ اب ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہماری قومی تاریخ مانگے تانگے کے وسائل کے ساتھ زندگیاں گزارنے کی روش پر مشتمل ہے۔ ہم امداد کے سہارے چلتے رہے ہیں۔ ہم گرانٹس کے سہارے زندگیاں گزارتے رہے ہیں ہم قرض لے کر اپنے روز و شب بتاتے رہے ہیں ۔جس طرح ہماری تاریخ ایسے معاملات سے بھری پڑی ہے ایسے ہی قرض ادا کرنے اور کبھی بھی اپنے ذمہ قرض اور اس کی اقساط اتارنے کے حوالے سے انکار کرنے، یعنی ڈیفالٹ نہ کرنے کی روشن روش پر قائم و دائم نظر آتے ہیں۔ ہم اب بھی اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔آج کی تاریخ یعنی 11فروری 2023 تک ہمارے ذمے کوئی بھی عالمی ادائیگی نہیں ہے یعنی ہمارا کھاتہ بالکل کلیئر و شفاف ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد ہمیں قرض کی اگلی قسط یعنی ایک ارب 10کروڑ ڈالردینے کے لئے معاملات طے کرنے کے لئے یہاں آیا تھا۔اس نے پاکستان سے ان شرائط پر عمل درآمد کی رپورٹ طلب کی جو 2019 میں معاہدے کے ذریعے پاکستان نے قبول کی تھیں۔ ہمارے یہاں آئی ایم ایف کو ایک ڈراؤنا اور گھناؤنا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمیں ایسا لگتاہے کہ وہ ایک ظالم و سفاک قسم کا قرض خواہ ہے جو ہمیں نچوڑنے اور ہلاک کرنے کے درپے ہے ویسے قرض خواہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ آئی ایم ایف ہے کیونکہ قرض دینے والا ہمیشہ قرض دار کا خیر خواہ ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ قرض دار زندہ رہے، پھلتا پھولتا رہے، اس کے کاروبار میں خیر و برکت رہے تاکہ وہ قرض خواہ کی رقم بمع سود واپس کر سکے۔

ہم نے ہماری حکومت نے، ریاست پاکستان نے عمران خان کے دور حکمرانی میں آئی ایم ایف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا قرض حاصل کرنے کے لئے۔کچھ ذمہ داریاں قبول کیں، کچھ کرنے کے وعدے کئے۔ بجٹ خسارہ کم کرنے کا اقرار کیا۔ ٹیکس بڑھا چڑھا کر وصول کرنے کی یقین دہانیاں کرائیں۔ سٹرکچرل ریفارمز کے اقرار نامے پر دستخط کئے۔ انرجی سیکٹر کے گردشی قرضے کم کرنے، اعانتوں کے خاتمے اور ایسے ہی کی دیگر معاملات کے حوالے سے بہت کچھ کرنے اور کچھ دیگر معاملات نہ کرنے کے وعدے کئے۔ پکے وعدے اور ان پر تحریری طور پر عملدرآمد کرنے کی دستاویزپر دستخط بھی کئے۔ آئی ایم ایف نے ہمیں قرضہ دینے کا آغاز کر دیا۔ہم نے آئی ایم ایف سے مطلوبہ قرض کی قسطیں وصول کرنا شروع کر دیں لیکن ایک دو سال کے بعد ہمیں احساس ستانے لگا کہ ہماری عوامی سیاسی مقبولیت میں کمی آنے لگی ہے۔

معاملات کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے مطابق چلانے کے باعث سیاسی طور پر خسارہ ہو رہا ہے۔ اس طرح عمران خان کی حکومت نے طے شدہ شرائط پر عمل درآمد نہ صرف ترک کر دیا بلکہ شرائط کے برعکس معاملات کرنا شروع کر دیے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنا شروع کر دی تاکہ عوام میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کا احیاء ہو سکے جس کے نتیجے میں گردشی قرضے کے حجم میں اضافہ ہونے لگا۔ دیگر معاملات بھی دگرگوں ہونے لگے۔ آئی ایم ایف نے ہمارے ساتھ کیا گیا معاہدہ معطل کر دیا ہمیں ملنے والی قرض کی اقساط روک دی گئیں۔ اگر معاملہ یہاں تک رہتا تو شاید بہت زیادہ بگاڑ نہ پیدا ہوتا، دیگر ممالک نے بھی ہمارے ساتھ کئے جانے والے معاملات روک دیے۔ ہم پر شرط عائد ہو گئی کہ جب تک آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات درست نہیں ہوتے اس وقت تک پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں ہوگا نہ مالی تعاون ہوگا او رنہ ہی سرمایہ کاری ہوگی۔

اس طرح سعودی عرب، چین، ورلڈ بینک، دوست عرب ممالک اور دیگر دوست اقوام اور اداروں کے ساتھ جاری معاملات پر عمل درآمد بھی رک گیا ،ہم شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔اس وقت کے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے استعفیٰ دے دیا اور اعلان کر دیا کہ پاکستان ڈیفالٹ ہو چکا ہے۔ تکنیکی اعتبار سے مملکت پاکستان ڈیفالٹ کر چکی ہے۔ وہ بڑے تواتر اور تسلسل سے یہ بات کرنے لگے۔ عمران خان پاکستان کو معاشی دلدل میں دھکیلنے کے بعد سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھاتے چلے گئے اس وقت کی اپوزیشن پر نیب،ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے کو چھوڑ کر اپنے مخالفین کو سچے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیلوں میں جھونکنے لگے۔ سیاسی فضا مکدر ہوتی چلی گئی۔ ملک معاشی دیوالیہ پن کا شکار ہونے لگا۔

عمران خان کا اپوزیشن کو تباہ و برباد کرنے کا جنون معیشت کو لے ڈوبا تھا۔ پھر 10اپریل 2022 کا وقوعہ ہوا۔ عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے نکال باہر پھینک دیا گیا اور ملک کی باگ ڈور تیرہ رکنی اتحاد نے سنبھال لی، گزرے دس مہینوں سے شہباز شریف حکومت ایک طرف ملک کو اقتصادی بحران سے بچانے اور نکالنے کے لئے سردھڑ کی بازیاں لگا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے منتیں ترلے کئے جا رہے ہیں بقول وزیراعظم شہباز شریف، آئی ایم ایف نے ہمارے ناک سے بھی لکیریں نکلوائیں لیکن جس طرح ہمارے پاس قرض ادا کرنے کے سوا کوئی اور آپشن موجود نہیں، بالکل اسی طرح آئی ایم ایف کے پاس جانے، اسے راضی کرنے اور قرض جاری کروانے کے علاوہ اور کوئی آپشن بھی موجود نہیں ہے۔

 ہم ڈیفالٹ نہیں کریں گے اور نہ ہی کر رہے ہیں اسی طرح آئی ایم ایف ہمیں ڈیفالٹ نہیں کرنے دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول پر معاملات طے پا گئے ہیں۔اصولی معاملات بھی طے پا گئے ہیں اور عملی اقدامات بارے بھی لکھت پڑھت ہو گئی ہے۔ وفد واپس جا چکا ہے اور معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا بورڈ دے دے گا۔ یہ معاہدہ نیا نہیں ہے اس کی شرائط بھی نئی نہیں ہیں بلکہ یہ سب کچھ اسی معاہدے کا تسلسل ہے جو 2019میں عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا تھا یہ الگ بات ہے کہ عمران حکومت طے شدہ شرائط کے مطابق عمل درآمد کرنے کی بجائے ان کے الٹ چلنے لگی  جس کے باعث معاہدہ موخر ہو گیا،تعطل کا شکار ہو گیا، آئی ایم ایف کے انکار کے بعد اقوام عالم کی طرف سے بھی تعاون اور شراکت سے ہاتھ اٹھا لیا گیا جس کے باعث پاکستانی معیشت شدید بحران کا شکار ہو گئی۔ شہبازشریف حکومت روزِ اول سے ہی ملک کو اس معاشی بحران سے نکالنے کے لئے کوشاں ہے اور اس حوالے سے انہیں کچھ کامیابیاں بھی مل رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول پر معاہدہ ہونے جا رہا ہے جس کے بعد ایک ارب 10کروڑ کی اگلی قسط بھی جاری ہو جائے گی اور 5ارب ڈالر کی رکی ہوئی رقوم بھی خزانے میں آ جائیں گی۔ بہتری کی امید واثق پیدا ہوگئی ہے۔

دوسری طرف عمران خان سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی کامیاب کاوش کررہے ہیں، کبھی کسی اسمبلی سے مستعفی ہوتے ہیں اور جب استعفیٰ قبول ہوتے ہیں تو عدالت میں جا کر ان کو رکوانے میں لگ جاتے ہیں۔ کبھی پنجاب و خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرکے فوری انتخابات کرانے کا مطالبہ کرکے ملک میں جاری سیاسی انتشار کو گہرا کرنے کی کامیاب کاوشیں کررہے ہیں۔ سیاسی کشمکش میں معاشی عدم استحکام گہرا ہو سکتا ہے۔ عمران خان ایسا ہی کچھ کرنے پر تلے بیٹھے  ہیں۔ اللہ خیر کرے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)