حکومت نے شوکت ترین کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی: وزیر داخلہ
وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ شوکت ترین کے خلاف انکوائری مکمل ہو گئی ہے اور ایف آئی اے کو انہیں گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ادارے عمران خان کے خلاف بھی تحقیقات کررہے ہیں اور عنقریب ان کی گرفتاری کا مرحلہ بھی آنے والا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان پچھلے سات آٹھ ماہ سے باقاعدہ مہم جوئی کررہے ہیں کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو جائے تاکہ معاشی طور پر استحکام حاصل نہ کر سکے اور خدانخواستہ ڈیفالٹ کر جائے۔ اس مقصد کے لیے عمران خان نے شوکت ترین جیسے آدمی کو بھی بہکایا جو بظاہر شریف آدمی ہیں اور ان کے بہکانے میں آ کر انہوں نے بھی ایک ایسی حرکت کی کہ جس سے پاکستان کو نقصان ہو سکتا تھا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں سے بھی محفوظ رہے گا اور اس طرح کے سیاسی دہشت گردوں سے بھی محفوظ رہے گا کیونکہ اس نے سیاسی دہشت گرد کا روپ دھار لیا ہے۔ اب یہ فراڈ کر کے اپنی ٹانگ پر پٹی لگا کر بیٹھا ہے حالانکہ اتنی دیر میں تو فریکچر ہو تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن اس کو چھرا لگا ہے وہ ٹھیک نہیں ہوا۔ میں پاکستانیوں کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان دہشت گردوں اور سیاسی دہشت گردوں سے محفوظ رہے گا جو بدزبان اور بدکردار بھی ہیں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ ہم نے قصور واروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ اور اس میں شامل تفتیش رہنے کے دو چار دن بعد ان کی ضمانت ہو جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردوں سے مذاکرات کا تجربہ ناکام رہا ہے اور بدقسمتی سے اس کے کوئی بہتر نتائج سامنے نہیں آئے۔ آئندہ اس قسم کے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں، ایپکس کمیٹی میں یہ بات طے ہوئی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی کی نئی لہر آئی ہے اور اس کے لیے تمام سیکیورٹی ایجنسیز، قانون نافذ کرنے والے ادارے، حکومت اور صوبائی حکومتیں پوری طرح سے الرٹ ہیں اور ہم اس پر قابو پائیں گے۔ الیکشن کا مطالبہ عمران خان نیازی کررہے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ الیکشن تمام مسائل کا حل ہے۔ الیکشن سے کسی کو بھی انحراف نہیں ہے لیکن الیکشن کا ایک وقت متعین ہے اور اسمبلیوں کی مدت پانچ سال آئین میں درج ہے۔ اگر کسی ناگزیر صورت کی وجہ سے اسمبلی پہلے تحلیل ہو جائے تو اس کے الیکشن کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔
مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ وہ جب چاہے، جیسے چاہے الیکشن کرائے گا۔ الیکشن اکتوبر میں ہوں یا اپریل میں ہوں، ہم وہ لڑنے کے لیے تیار ہیں اور ہماری رائے ہے کہ اس وقت الیکشن ملک کو معاشی طور پر درپیش چیلنجوں کا حل نہیں ہیں۔