ترکیہ و شام زلزلہ میں اموات 28 ہزار سے بڑھ گئیں، تعداد دگنی ہونے کا اندیشہ
ترکیہ و شام میں زلزلے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 28 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ کو اندیشہ ہے کہ یہ تعداد دو گنا ہوسکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی فلاحی شاخ کے سربراہ مارٹن گرفتھس زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ہفتے کے روز جنوبی ترکیہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم دگنی ہو جائے گی۔ اب تک ہزاروں امدادی کارکن شدید سرد موسم کے باوجود متاثرین کو تلاش کر رہے ہیں۔ سرد موسم نے لاکھوں افراد کی تکالیف میں مزید اضافہ کردیا ہے جنہیں امداد کی شدید ضرورت ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث کچھ امدادی کارروائیاں معطل کر دی گئیں اور ترکیہ میں زلزلے کے بعد متاثرین کو لوٹنے یا انہیں دھوکا دینے کی کوشش کرنے کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ پھر بھی تباہی اور مایوسی میں زندہ رہنے کی معجزاتی کہانیاں سامنے آرہی ہیں۔
امدادی کارکنوں نے ترکیہ اور شام میں تباہی مچانے والے زلزلے کے تقریباً ایک ہفتے بعد اتوار کے روز ایک 7 ماہ کے بچے اور ایک نوعمر لڑکی کو ملبے سے نکال لیا۔ ترکیہ کے سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی حطائے میں حمزہ نامی ایک 7 ماہ کے بچے کو زلزلے کے 140 گھنٹے بعد بچا لیا گیا جکہ 13 سالہ اسما سلطان کو بھی غازی انتپ میں زندہ نکال لیا گیا۔ متاثرین کے اہل خانہ جنوبی ترکیہ میں اپنے لاپتا رشتہ داروں کی لاشیں تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
مارٹن گرفتھس نے ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں کہا کہ جلد ہی، تلاش اور بچاؤ کا کام کرنے والے کارکنان انسانی ہمدردی کے اداروں کے لیے راستہ بنائیں گے جن کا کام آنے والے مہینوں تک متاثرین کی غیر معمولی تعداد کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ اور شام میں کم از کم 8 لاکھ 70 ہزار افراد کو گرم خوراک کی ضرورت ہے، صرف شام میں ہی 53 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اس نے ہفتے کے روز 4 کروڑ 28 لاکھ ڈالر کی ہنگامی اپیل کی ہے تاکہ صحت کی فوری ضروریات کو پورا کیا جاسکے اور خبردار کیا کہ درجنوں ہسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ترکیہ کی ڈیزاسٹر ایجنسی کا کہنا تھا کہ ترک اداروں کے 32 ہزار سے زائد افراد سرچ اور ریسکیو کی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ 8 ہزار 294 بین الاقوامی امدادی کارکن بھی اس کام میں حصہ ڈال رہے ہیں۔