ترکی اور شام میں زلزلے
- تحریر سرور غزالی
- اتوار 12 / فروری / 2023
ترکی کے جنوب مشرق اور شام کے شمال مشرقی علاقے میں شدید زلزلے نے پورے علاقے کو تہہ بالا کر کے انسانوں کو مشکلات میں گھیر لیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس قسم کے زلزلے کسی خاص علاقے میں کیوں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور ان کے اسباب اور سدباب کیا ہیں۔
آخری اطلاعات آنے تک ان زلزلوں سے تقریبا 28 ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ یہ علاقے کیوں زلزلوں کے مرکز اور اس قدر زیادہ تباہ و برباد ہوئے ہیں۔ ترکیہ اور اس کے یہ علاقے اکثر و بیشتر ہی ان زلزلوں سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ وہ ارضیاتی عمل جو زمین کے اندر گہرائی میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں کئی براعظمی پلیٹیں، جنہیں ٹکٹونی پلیٹیں کہتے ہیں، ایک دوسرے سے ٹکراتی رہتی ہیں اور اس کے اثرات زلزلوں کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ ڈیوڈ روتھری، ماہر ارضیات اوپن یونیورسٹی، ملٹن کینین، بر طانیہ کی تحقیق کے مطابق عربی براعظمی پلیٹ شمال کی جانب بڑھتے ہوئے یوریشائی پلیٹ کو دھکیلتی ہے اور درمیان میں آناطولی پلیٹ کو ہر سال دو سنٹی میٹر مغرب کی جانب آگے کی طرف بڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ دباؤ عرصہ دراز تک ان سطحوں میں بڑھتے بڑھتے کبھی شدت سے زمینی سطح سے ٹکراتے ہوئے زلزلے کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔
ترکیہ میں صرف یہی، موجودہ متاثر علاقے ہی زلزلے کے ظہور ہونے سے نہیں گھرے بلکہ ترکیہ کے شہر استنبول میں بھی اس بات کے خدشات موجود ہیں کہ ایسے کسی زلزلے کا شکار ہوجائے۔ ماہرین ارضیات خدشات کا عرصے سے اظہار کرتے آرہے ہیں۔
ان زلزلوں کی شدت کو ناپنے کے پیمانے سے اسے ایک سے دس تک تقسیم کیا گیا ہے۔ اور شدید ترین زلزلوں کے جھٹکوں جو کہ 9 اعشاریہ5 کی شدت سے اب تک ہونے والے تمام زلزلوں میں شدید مانے جاتے ہیں۔ وہ سن انیس سو ساٹھ میں ملک چلی میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ہر سال تقریباً پچاس ہزار کے قریب معمولی نوعیت کے 3 تا 4 درجے کے زلزلے کرہ ارض پر اتے رہتے ہیں۔ اسی طرح آٹھ سو کے قریب 5 تا 6 درجے کی شدت کے حامل بھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال بھاری نوعیت کے درجہ 8 یا اس سے زیادہ شدت کے بھی زلزلے آتے ہیں۔ لیکن ان زلزلوں کی صرف شدت ہی ان کی تباہ کاریوں کی ذمہ دار نہیں ہوتی بلکہ ان کے مہلک ہونے میں زمین کے لرزنے کے وقفے، متاثرہ علاقے کی صورتحال اور یہاں کی تعمیراتی صورتحال زلزلوں کی تباہ کاریوں کا اصل پیش خیمہ ہوتی ہیں۔
یہاں پر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ زلزلوں کے ان درجات میں شدت کا فرق بہت زیادہ ہے۔ مثلاً درجہ 5 اور 6 کے مابین 10 گنا مگر 6 اور 7 کے مابین 100 گنا فرق صرف ایک درجے کی شدت اثرات کو گئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ یعنی ہر درجے کا اگلا درجہ ایک لوگارتھمیٹک اضافہ مانا جا ہے۔ ترکیہ اور شام میں آنے والے والے زلزلوں کو 6 اشارعیہ 7 اور 7 اعشاریہ 8 درجے کا مانا گیا ہے۔
ان علاقوں اور ان کے شہروں میں تیزی سے تکمیل پانے والی اور نہایت اونچی عمارتیں جن کی تعمیر میں زلزلوں کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود نہیں، تعمیراتی ٹھیکیداروں کی بد دیانتی اور سرکاری محکمہ تعمیرات کی عدم دلچسپی اور کرپشن نے ان زلزلوں میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ گو کہ 1999 میں آنے والے زلزلوں کے بعد ترکیہ میں تعمیراتی قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں تاہم ابھی اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ ان قوانین کے اطلاق پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
کیا وجہ ہے کہ صرف ترکیہ میں ہزاروں عمارتیں یک دم زمین بوس ہوگئیں اور نیند میں ڈوبے افراد ملک عدم کو سدھار گئے۔ ان عمارتوں کے ملبے سے لاشیں نکالی جارہی ہیں سرد موسم اور ہر گزرتے گھنٹے میں امکانات زندگی معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت زخمی اور بے گھر افراد کی ہر ممکنہ مدد کررہی ہے۔ ساری دنیا سے امدادی سازوسامان ان علاقوں میں پہنچایا جارہا ہے۔ جبکہ شام میں صورتحال وہاں کی جنگ کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔