امجداسلام امجد: محبت کرنے والوں کاوارث چلاگیا
- تحریر رضی الدین رضی
- اتوار 12 / فروری / 2023
امجد اسلام امجد کے انتقال نے مجھے ہی نہیں ان کے بے شمار چاہنے والوں کو آزردہ کردیاہے۔ جس وقت میں یہ کالم تحریر کررہاہوں اس سے دوگھنٹے قبل ان کے انتقال کی خبر سنی تو میری کچھ ایسی کیفیت تھی کہ جسے بیان نہیں کیاجاسکتا۔
ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے بارے میں ایسی خبر کا گمان بھی نہیں کرسکتے۔ اور امجد صاحب کی صحت کے حوالے سے تو کوئی تشویشناک خبر بھی سننے کونہیں ملی تھی۔ان کے ساتھ آخری ملاقات 19جون2022 کو ہوئی۔ میں ڈاکٹر شہباز اور دیگر دوستوں کے ہمراہ لاہور میں ان سے ملاتھا۔ہم نے ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور واپس آگئے۔ امجد صاحب کے ساتھ پہلی ملاقات تو بہت پہلے ہوگئی تھی۔ وہ ان چند ہستیوں میں شامل تھے جن کے ساتھ میں ملاقات سے بھی پہلے مل چکا تھا۔ ایسی ہستیاں بہت معتبر ہوتی ہیں کہ جن سے ملنے کےلئے آپ کو ملاقات کابھی اہتمام نہ کرنا پڑے۔
شاید یہ اس زمانے کی بات ہے جب اس ملک میں تخت اور تختے کی کہانی چل رہی تھی۔یہ کہانی میں نے بھی کسی کو سنانی تھی لیکن میرے پاس اظہارکےلئے لفظ موجودنہیں تھے۔ میں اس شش وپنج میں تھا کہ بات گو ذرا سی ہے لیکن بات عمربھر کی ہے اور میں عمر بھر کی یہ باتیں دوگھڑی میں کیسے کہہ سکوں گا۔ یہی وہ لمحہ تھا کہ جب امجد اسلام امجد میری مدد کوآئے اور مجھے بتایا کہ تخلیے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے/ پیار کرنے والوں کو اک نگاہ کافی ہے۔ یہی وہ نظم تھی جس نے مجھے اظہار کی قوت عطاکی۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے میری محبت کو زبان دی۔ جس نے مجھے ہمت اور حوصلہ عطا کیا۔ یہ تھی امجد اسلام امجد کے ساتھ میری پہلی ملاقات اور یہی تھا امجد اسلام امجد کے ساتھ میرا پہلا مکالمہ۔
یہی وہ دن تھا کہ جب امجد اسلام امجد میرے لیے معتبر قرار پائے اور اس لیے معتبر قرارپائے کہ میری محبت معتبر تھی اور انہوں نے میری محبت کو زبان دی تھی اور صرف میرے لیے ہی نہیں وہ ہر اس شخص کےلئے معتبر ہیں جو محبت کرتا ہے جس کے دل میں کوئی یاد سلامت ہے اور جس کے دل میں کوئی دھڑکن موجودہے کہ امجد اسلام امجد نے ہزاروں لاکھوں افراد کی محبتوں کو زبان دی ۔وہ ہمارے لیے اظہارکا وسیلہ بنے اور اس وقت وسیلہ بنے جب ہم میں سے کسی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے۔ یوں امجد اسلام امجد اپنی نظموں کے ذریعے میرے ہی نہیں ہر محبت کرنے والے کے وارث بن گئے۔ اور وارث پر یاد آیا کہ امجد صاحب کے ساتھ مکالمے کا دوسرا ذریعہ تو ”وارث“ ہی بنا تھا
1980کے عشرے میں ملتان آرٹس کونسل میں اس وقت کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر اقبال خالد نے امجد اسلام امجد کے سفرنامے کی تعارفی تقریب منعقد کی۔ اس تقریب میں اظہار خیال کے لیے مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ایک نوجوان لکھاری کی حیثیت سے میں نے اس محفل میں بہت تندوتیز مضمون پڑھا۔ امجد صاحب اس مضمون پر ناراض تونہ ہوئے لیکن انہوں نے محمد علی واسطی اور اقبال خالد سے یہ ضرور پوچھا کہ یہ نوجوان کون تھا۔ پھربعد کے دنوں میں امجد اسلام امجد کے ساتھ محبت کارشتہ قائم ہواتو میں نے اپنے اس رویئے پر ان سے معذرت بھی کی ۔ امجد صاحب کے ساتھ وسیب ٹی وی پر مکالمے کے دوران جب میں نے یہ اعتراف کیا کہ آج اگر ”ستارے مل نہیں سکتے “ جیسی نظمیں میری پہچان بن چکی ہیں تو اس کا کریڈٹ آپ کوہی جاتا ہے کہ میں نے آپ کی نظمیں سن کرہی نظم کہنا سیکھا۔ سٹوڈیو سے باہر آکر امجد صاحب نے مجھے گلے لگا لیا تھا۔
ایک زمانہ تھا کہ نئے لکھاریوں کی طرح مجھے اور شاکرحسین شاکر کوبھی معروف قلمکاروں سے ملنے کا بہت شوق تھا۔ میں ایک مضمون میں تفصیل کے ساتھ تحریر کرچکا ہوں کہ میٹرک کے امتحان کے بعد میں احمد فراز کے ساتھ ملاقات اور ان کا آٹو گراف لینے کےلئے اسلام آ باد گیا تو وہ کیسے میری لیے اجنبی بن گئے تھے۔ بعد کے دنو ں میں فراز صاحب کے ساتھ کئی بار مشاعروں میں شرکت اور سفر کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں نے ہربار اس امید پر آگے بڑھ کر ان کے ساتھ مصافحہ کیا کہ وہ مجھے پہچان لیں گے لیکن ہرمرتبہ مجھے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہربار ان کی آنکھوں میں اجنبیت کی پرچھائیں نظرآئی۔ اور ہربار شاکر حسین شاکر کو مدد کےلئے آگے آنا پڑااور احمد فراز صاحب کوبتانا پڑاکہ یہ وہی رضی ہے جسے کل رات مشاعرے میں آپ نے بہت سی داد دی تھی۔
یہ 1978-79 کا زمانہ تھا جب امجد اسلام امجدنے وارث جیسا شاہکارتخلیق کیا۔جنرل ضیا کے مارشل لا کا سورج نصف النہار پرتھا۔ شام ہوتے ہی ملک بھر میں سڑکیں اور گلی کوچے وارث کی محبت میں ویران ہوجاتے تھے۔ ہمیں پہلی بار معلوم ہوا کہ سڑکیں اور گلی کوچے صرف جبر کے خوف سے ہی ویران نہیں ہوتے۔ کسی کے ساتھ محبت بھی بسا اوقات ایسا ماحول پیدا کردیتی ہے۔ لوگ امجداسلام امجد اوراس ڈرامے کے تمام کرداروں کے دیوانے ہوچکے تھے۔ اس ڈرامے نے جبر کے ماحول میں لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا اورانہیں بتایا کہ چوہدری حشمتوں کی حشمت و ہیبت کاانجام کیاہوتا ہے اور وقت کا بہاؤ ان کے جعلی رعب ودبدبے والی حویلیوں کو کس طرح خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے اور پھر ہم نے آنے والے دنوں میں ایسی حویلیوں کو نیست ونابودہوتے بھی دیکھا۔
1983میں امجد اسلام امجد زکریا یونیورسٹی کے مشاعرے میں شرکت کےلئے ملتان آئے۔ اسی مشاعرے کے اگلے روز نواں شہر میں ڈاکٹر مقصود زاہدی کے گھر ناشتے پر امجد اسلام امجد اور منیر نیازی کے ساتھ ہماری پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر انور زاہدی ، ماہ طلعت زاہدی اور اظہرسلیم مجوکہ بھی وہاں موجودتھے۔ اس کے بعد ان گنت تقریبات اور مشاعروں میں ان کے ساتھ ملاقاتیں رہیں۔ ابتدا میں احمد فراز اور منیر نیازی کے تجربات کے پیش نظر میں امجد صاحب سے دوررہتا تھا۔ مجھے خوف تھا کہ اگر میں نے ان کی آنکھوں میں بھی اپنے لیے اجنبیت کی پرچھائیاں دیکھ لیں تو یہ صورتحال میرے لیے بہت تکلیف دہ ہوگی۔ صدشکر کہ ایسا نہ ہوا۔ وہ جیسے اپنی شاعری میں دکھائی دیتے ہیں ویسی ہی ان کی شخصیت ہے۔ امجد اسلام امجد جتنے خوبصورت اپنی شاعری میں نظرآتے ہیں ویسی ہی دل آویز ان کی شخصیت بھی تھی۔ ایک سینئر کی حیثیت سے وہ قدم قدم پر ہمارا حوصلہ بڑھاتے تھے۔
ان کی خوبصورت شخصیت کا ایک پہلو اس وقت میرے سامنے آیا جب 2012 میں مجھے ان کے ساتھ دوحا (قطر)کاسفر کرنا پڑا۔سفر کے دوران قدم قدم پر انہوں نے میرا خیال رکھا ۔ مشاعرے سے پہلے مجھے سمجھایا کہ مجھے یہاں کون سی نظمیں پڑھنی چاہئیں اور پڑھنے کاانداز کیاہونا چاہیے۔ وہ میرے بارے میں فکر مند تھے کہ میرا یہ پہلاعالمی مشاعرہ تھا ۔ امجد صاحب کسی تقریب یا بھری محفل کے دوران جب ہماری تعریف کرتے ، جب ہمارا نام لیتے تو ہم اپنے قد سے بھی بڑے ہوجاتے تھے۔
بلاشبہ وہ آج کے عہد کے سب سے بڑے شاعرتھے۔ اردو نظم کو امجد اسلام امجد نے جو اسلوب دیا اس نے مجھ سمیت ان کے بعد آنے والے بہت سے شعرا کو متاثر کیا۔ ہمارے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہم امجد اسلام امجد کے عہد میں سانس لیا۔ پہلے تو میں انہیں صرف محبت کرنے والوں کا وارث سمجھتا تھا لیکن آج مجھے یہ کہنے دیجئے کہ وہ اردو شاعری کے بھی وارث تھے اور آج اردو شاعری حقیقی معنوں میں اپنے وارث سے محروم ہوگئی ہے۔ آخر میں امجد صاحب کا ہی ایک شعر اور ان کی نظم کے چند مصرعے جو شاید انہوں نے آج کے دن کے لیے ہی کہے تھے:
حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے
تمہیں نکال کر دیکھا تو سب خسارہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
مجھ خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گا
اگر ستاروں میں ،اوس قطروں میں ، خوشبوؤں میں نا پاؤمجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)