ننکانہ صاحب قتل کیس میں پولیس نے ساٹھ افراد گرفتار کرلئے

  • سوموار 13 / فروری / 2023

ننکانہ صاحب پولیس نے تھانے کے باہر ایک شخص کو تشدد کرکے قتل کرنے میں ملوث 60 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

 پولیس کی متعدد ٹیموں نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے رہائش گاہوں، کاروباری مقامات اور دیگر جگہوں پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا۔ شیخوپورہ کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) بابر سرفراز الپا نے بتایا کہ ایف آئی آر میں تقریباً 17 مشتبہ افراد/حملہ آوروں کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس حملہ آوروں کے خلاف اپنی کارروائی میں بالکل واضح تھی چاہے ان کا تعلق کسی مذہبی تنظیم یا سیاسی جماعت سے ہو۔ ننکانہ صاحب کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عاصم افتخار نے ڈان کو بتایا کہ ’دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واربرٹن پولیس نے دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس درج کیں، ایک ان سینکڑوں مشتبہ افراد کے خلاف تھی جنہوں نے تھانے پر حملہ کر کے وارث کو قتل کیا اور دوسری قرآن پاک کی بے حرمتی کے بارے میں تھی۔ پولیس ٹیم نے واقعے کی 923 ویڈیو کلپس حاصل کی ہیں جن کے ذریعے ملزمان میں سے 60 کی شناخت کرکے گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ مزید مشتبہ افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

ڈی پی او کے مطابق 800 افراد پر مشتمل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں قید ملزم کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کے لیے تھانے پر حملہ کیا۔ 50 پولیس اہلکار تھے جنہوں نے اس شخص کو بچانے کی کوشش کی لیکن ہجوم کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ نفری کے لیے ہنگامی کال کے جواب میں متعدد پولیس اہلکار اس طرف جارہے تھے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ہجوم اس شخص کو ہلاک کر چکا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ  15 گرفتار افراد کا تعلق مذہبی سیاسی جماعت سے ہے۔ ایک اور سینئر پولیس افسر جو اس واقعے کے قریب موجود تھے، ان کا کہنا تھا کہ تشدد کرکے قتل میں 15 افراد براہِ راست ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ قتل کیا جانے والا وارث 2019 میں درج کیے گئے توہین مذہب کے مقدمے سے حال ہی میں جیل سے بری ہوکر آیا تھا اور عدالت نے اسے بے گناہ قرار دیا تھا۔