اردو ادب کے ایک عہد کا خاتمہ، ضیا محی الدین انتقال کرگئے

  • سوموار 13 / فروری / 2023

معروف صدا کار، اداکار، ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 92 کی عمر میں کراچی کے ایک ہسپتال مین انتقال کرگئے۔ وہ گزشتہ چند روز سے علیل تھے۔

ان کے انتقال پر متعدد شوبز شخصیات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضیا محی الدین کا انتقال اردو ادب کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ضیا محی الدین کے اہل خانہ کے مطابق وہ کئی روز سے علیل تھے اور کراچی کے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

پاکستانی وکیل اور سماجی کارکن نگہت داد اور حیدر مہدی نے ضیا محی الدین کے انتقال کو بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ صحافی عمر بن اجمل، اظہر عباس اور بینا سرور کا کہنا تھا کہ ضیا محی الدین جیسے عظیم انسان سے ان کی زندگی میں ملاقات کرنا خوش قسمتی ہے۔

آر جے انوشے اشرف اور اداکار طوبیٰ صدیقی نے ضیا محی الدین کے انتقال کو انڈسٹری کا بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ اداکار یاسر حسین نے کہا کہ ’اس ملک کا نقصان روزانہ ہو رہا ہے، آج پاکستان کی آواز بھی چلی گئی‘۔ اس کے علاوہ اداکار جنید خان، سمیع خان، عدنان ملک اور ژالے سرحدی نے مرحوم ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کے لیے دعائے مغفرت کی۔

ضیا محی الدین 20جون 1933 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد خادم محی الدین تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے اور انہیں پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کے مصنف اور مکالمہ نگارہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ ضیا محی الدین نے 1949 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کیا اور مزید تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے رائل اکیڈمی آف تھیٹر آرٹس سے وابستگی اختیار کی اور صداکاری اور اداکاری کا سلسلہ شروع کیا۔ 1956 میں وہ پاکستان وپس لوٹے لیکن جلد ہی ایک اسکالر شپ پر انگلستان واپس چلے گئے جہاں انہوں نے ڈائرکشن کی تربیت حاصل کی ۔

1960 میں میں جب ای ایم فوسٹر کے مشہور ناول اے پیسج ٹو انڈیا کو اسٹیج پر پیش کیا گیا تو ضیا محی الدین نے اس میں ڈاکٹر عزیز کا کردار ادا کرکے شائقین کی توجہ حاصل کرلی ۔ 1962 میں انہیں فلم لارنس آف عربیا میں کام کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے اس فلم میں بھی ایک یادگار کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے تھیٹر کے کئی ڈراموں اور ہالی وڈ کی کئی فلموں میں کردار ادا کیے۔ انیس سو ستر میں ضیا محی الدین پاکستان آئے جہاں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے ضیا محی الدین شو کے نام سے ایک اسٹیج پروگرام کی میزبانی کی۔ اس اسٹیج پروگرام نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔

ضیا محی الدین نے ایک پاکستانی ’’مجرم کون‘‘ میں بھی مرکزی کردار ادا کیا لیکن وہ اس میدان میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران انہیں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کا ڈائرکٹر مقرر کیا گیا ۔ اسی دوران انہوں نے نامور رقاصہ ناہید صدیقی سے شادی کرلی۔ ضیا محی الدین نے پاکستان ٹیلی وژن سے جو پروگرام پیش کیے ان میں پائل، چچا چھکن، ضیا کے ساتھ اور جو جانے وہ جیتے کے نام سر فہرست ہیں ۔

وہ اپنی خوب صورت آواز میں اردو ادب کے فن پاروں کی صداکاری میں خصوصی ملکی رکھتے تھے۔ 2004 میں انہیں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا ڈائرکٹر مقرر کیا گیا۔