آڈیو لیکس میں شوکت ترین کےخلاف بغاوت کا مقدمہ

  • سوموار 13 / فروری / 2023

وفاقی تحقیقاتی ادارے  کے سائبر کرائم ونگ نے آڈیو لیکس کے معاملے پر سابق وزیر خزانہ سینیٹر شوکت فیاض ترین کے خلاف مبینہ بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمہ احمد محمود نامی شہری کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے پر یہ بات سامنے آئی کہ شوکت ترین نے بدنیتی کے ارادے اور مذموم مقاصد کے ساتھ اس وقت کے وزیر خزانہ خیبرپختونخوا تیمور سلیم جھگڑا اور وزیر خزانہ پنجاب محسن خان لغاری کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ شوکت ترین نے صوبائی وزرائے خزانہ کو ان کی وزارتوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو خط لکھ کر سرپلس بجٹ واپس کرنے سے انکار کرنے کا کہا جو حکومت پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے معاہدے کے لیے بات چیت کو متاثر کرسکتا تھا۔ تحقیقات کے دوران ملزم شوکت ترین کو بلایا گیا اور مبینہ آڈیو کلپ میں کی گئی بات چیت کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تاہم انہوں نے تسلی بخش جواب نہیں دیے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم اس معاملے سے متعلق حقائق چھپا رہا ہے اور اس بات چیت کے پسِ پردہ اپنے عزائم و مقاصد کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔ متن کے مطابق اس طرح کی حرکت سے عوامی سکون میں خلل اور ریاست کے ستونوں کے درمیان بداعتمادی  پیدا ہو سکتی ہے۔ جبکہ پاکستان کی معاشی صورتحال کی وجہ سے ریاست کے ہر شہری کے لیے خوف و ہراس کی فضا پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

یہ مبینہ بات چیت ریاست کے خلاف غداری تصور کی جاسکتی ہے، جس پر مقدمہ درج کیا جارہا ہے اور اس میں ملوث افراد کے کردار کا تعین تحقیقات کے دوران کیا جائے گا۔ سابق وزیر خزانہ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 124-اے (بغاوت)، 505 (فساد انگیز بیانات دینا) اور پیکا ایکٹ 2016 کے سیکشن 20 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے وزارت داخلہ سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو پٹری سے اتارنے میں مبینہ کردار سے متعلق کیس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کو گرفتار کرنے کی اجازت طلب کی تھی جس کی اجازت دے دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال اگست میں دو آڈیو لیکس منظر عام پر آئی تھیں جن میں مبینہ طور پر سابق وزیر شوکت ترین پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کو ہدایت دے رہے تھے۔ آڈیو لیکس میں شوکت ترین کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ وہ (صوبائی وزرائے خزانہ) مرکز میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت اور آئی ایم ایف کو یہ بتائیں کہ وہ پاکستان میں تباہی پھیلانے والے مون سون سیلاب کے باعث صوبائی بجٹ سرپلس کرنے کا عہد پورا نہیں کریں گے۔