سانحہ مشرقی پاکستان کا سبق
- تحریر سلمان عابد
- منگل 14 / فروری / 2023
پاکستان کے قومی سانحات میں ایک بڑا سانحہ ”مشرقی پاکستان“ کا بھی ہے۔ اس سانحہ پر پاکستان کی علمی و فکری یا سیاسی حلقوں میں بہت کچھ لکھا اور بولا جاتا ہے۔
اس پر کئی حوالوں سے تحقیق بھی ہوئی او رکتابیں بھی لکھی گئی ہیں جو ان حالات وواقعات اور فیصلوں کا تجزیہ کرتا ہے کہ کیونکر سانحہ مشرقی پاکستان کا واقعہ رونما ہوا۔اس پر حالیہ دنوں میں ایک شاندار کتاب معروف بزرگ صحافی، دانشور، ایڈیٹر، کالم نگاراور علمی و فکری شخصیت الطاف حسن قریشی کی نئی کتاب ”مشرقی پاکستان)ٹوٹا ہوا تارا(“سامنے آئی ہے۔ الطاف حسن قریشی پاکستانی صحافت کی وہ قد آور شخصیت ہیں جو اپنے علمی و فکری بنیادوں پر بڑا نام رکھتے ہیں۔اپنا مقدمہ بہت ہی اعلی منطق، دلیل اور شواہد کے ساتھ پیش کرنا ان کی بڑی خوبیوں میں شامل ہوتی ہے۔ جذباتیت یا جوش کی بجائے ہوش اور تدبر کے ساتھ رائے عامہ میں اپنا اثر رکھتے ہیں۔ ان کا تازہ بیانیہ مشرقی پاکستان کے سانحہ کے مختلف سبق یاد دلاتا ہے او راسی سبق میں ان کرداروں کو بھی نمایاں کرتا ہے جو اس سانحہ میں کسی نہ کسی شکل میں ذمہ دار تھے۔
الطاف حسن قریشی کی سانحہ مشرقی پاکستان پر یہ تفصیلی یا صغیم دستاویز یا کتاب کو ان کے پوتے ایقان حسن قریشی نے ترتیب دیا ہے جو خود بھی علمی و فکری نوجوان ہیں۔ جس محنت اور شوق کے ساتھ ایقان حسن قریشی نے اپنے دادا الطاف حسن قریشی کے کام کو مسلسل ترتیب دے کر ہم سب کے سامنے لارہے ہیں اس پر وہ یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں۔کتاب القلم فاونڈیشن لاہور نے شائع کی ہے۔الطاف حسن قریشی نے سانحہ مشرقی پاکستان پر بڑی گہرائی اور سچائی کے ساتھ ان تمام امور کا جائزہ او رتجزیہ کیا ہے جو اس بحران کو سمجھنے کے لیے ضروری تھے۔ان کی تحریر میں خالص پاکستانیت ہے اور جس درد دل کے ساتھ اور وطن سے محبت کو بنیاد بنا کر ان وجوہات کو پیش کیا جو پاکستان ٹوٹنے کا سبب بنا فکر انگیز بھی ہے او رہم جیسے طالب علموں کواہم پہلوؤں پر سوچنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ان کی یہ کتاب پڑھتے ہوئے بار بار اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان کا بڑا سانحہ دراصل کسی ایک فرد یا ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ یہ ہماری اجتماعی ناکامی سے جڑا ہوا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ ہمارے سامنے اس وقت جو کچھ ہورہا تھا یا تو ہم بے بس تھے یا لاچارتھے یا ہم جان بوجھ کر اس سانحہ پر سیاسی سمجھوتوں کا شکار ہوئے۔کاش ہم اس سانحہ سے بچ سکتے مگر لگتا ہے کہ ہم نے بچنے کی بجائے خود ہی وہ کچھ کیا جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔
مشرقی پاکستان)ٹوٹا ہوا تارا(جیسے جیسے آپ پڑھتے ہیں آپ حیران بھی ہوتے ہیں اور افسوس بھی کرتے ہیں کہ کیسے ہماری سیاسی اشرافیہ نے وہ فیصلے کیے جو ملک کے مفاد میں نہیں تھے۔ کوئی کسی کو جوابدہ نہیں تھا او رچاروں اطراف من مانی کا کھیل تھا او رایسے لگتا تھا کہ ہم یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ ہم نے وہی کچھ کرنا ہے جو کچھ ہوا ہے۔الطاف حسن قریشی کے بقول 1970کے انتخابات میں عوامی لیگ کی واضح برتری ہی سے مشرقی پاکستانیوں کی سیاسی علیحدگی ہوئی مگر ان کی جذباتی، انتظامی اور قلبی علیحدگی بہت پہلے ہوچکی تھی۔
الطاف حسن قریشی کا یہ فکری اثاثہ ”سانحہ مشرقی پاکستان“ عملی طو رپر ان کی 1964-2000تک کی تحریروں کا مجموعہ ہے جو ان ہی ادوار ہی میں ماہنامہ اردو ڈائجسٹ اور ہفت روزہ زندگی میں شائع ہوئی تھیں۔کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ الطاف حسن قریشی نے اس اہم موضوع پر جو اپنی علمی صلاحیتیں پیش کی ہیں وہ مشرقی پاکستان کے طول و عرض میں گھوم پھر کر اور خواص و عوام سے آزادانہ تبادلہ خیال کرکے لکھی گئی ہیں۔کیونکہ پاکستان کے مشرقی بازو میں جب کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہوتا یا کسی بحرانی کیفیت کے آثا ر نمودار ہونے لگتے تومیں ڈھاکہ جاتا او رمعاملے کی حد تک پہنچے کے لیے وہاں کئی روز او ربعض اوقات کئی ہفتے قیام کرتا۔ صحافیوں، طالب علموں، سیاست دانوں اور دینی سطح کے راہنماؤں سے مل کر معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔اس اعتبار سے میں اکثر اہم واقعات کا عینی شاہد ہوں۔
ان کے بقول میں ایک مدت سے محسوس کررہا تھا کہ مشرقی پاکستان میں نفرت کے شعلے لپک رہے ہیں او رمجھے بار بار خیال آتا رہا کہ یہ تو وہ خطہ ہے جہاں دسمبر 1906میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس نے قائد اعظم کی قیادت میں پورے برصغیر کے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے پاکستان حاصل کیا تھا۔پھر ایسا کیا ہوا کہ تاریخ میں پیوست محبتیں اور سیاسی رفاقتیں حقارتوں اور مخاصمتوں میں ہی تبدیل ہوتی جارہی ہیں۔ اس بنیادی سوال کا جواب مجھے کسی حد تک ان واقعات سے ملتا رہا جو میرے سامنے ظہو رپزیر ہورہے تھے۔ اس حیرت انگیز تبدیلی کو تاریخی تناظر میں سمجھنے کے لیے میں کتابوں سے بھی استفادہ کرنے میں منہمک رہا جو تحریک پاکستان سے وابستہ سیاست دانوں، ادب میں نام پیدا کرنے والے اعلی سرکاری افسران، جامعات کے وائس چانسلرزاو رمشرقی پاکستان میں فوجی محاذ پر سرگرم جرنیلو ں نے رقم کی ہیں۔آخری دنوں میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل آغا محمد یحی کے ساتھ کام کرنے والے فوجی اور غیر فوجی مشیروں نے بھی بیش قیمت معلومات فراہم کیں۔
یہ بیش بہا کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں 1970کے قومی انتخابات کے مدوجزراور دونوں بازوں کے باہمی تعلقات کی ڈرامائی تبدیلیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ قومی مصلحتوں کے تحت بعض مواقع پر صرف اشاروں کنایوں میں حرف مدعا بیان ہو پایا۔ان ان کا تفصیلی تذکرہ قارئین کے لیے یقینا دلچسپی کا باعث ہوگا۔پہلے قومی انتخابات میں دو بڑی علاقائی سیاسی جماعتوں کے دھونس دھاندلی کے جو ریکارڈ قائم کیے گئے وہ بھی محفوظ کرلیے گئے ہیں۔دوسرے حصے میں عام انتخابات سے لے کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی تک پیش آنے والے خون آشام،ننگ انسانیت اور بے حسی کے واقعات درج ہیں۔یہ سفر دل سوز تجربات و مشاہدات کا آئینہ دار ہے۔ تیسرے حصہ کا آغاز ”سقوط ڈھاکہ سے پردہ اٹھتا ہے“ کے سلسلہ مضامین سے ہوتا ہے جس کی بے پناہ عوامی مقبولیت سے خوف زدہ ہوکر سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرزوالفقار علی بھٹو کے حکم پر ہم دونوں بھائی اعجاز حسن قریشی، الطاف حسن قریشی او رجناب مجیب الرحمن شامی کو گرفتار کر لیا گیااو رپاکستان میں صحافیوں کو ہتھکڑی لگانے کی رسم اسی ”عہد ستم گر“ سے شروع ہوئی۔
س میں وہ سلسلہ مضامین بھی محفوظ ہیں جس میں کئی ماہ پہلے ہی نشاندہی کردی گئی تھی کہ بنگلہ دیش کے حکمران شیخ مجیب الرحمن کے خلاف جلد فوجی بغاوت ہونے والی ہے۔اسی کتا ب میں ان تمام شخصیتوں کے انٹرویوز بھی شامل ہیں جو مشرقی پاکستان کے معاملات سے براہ راست تعلق رکھتے تھے۔ شیخ مجیب الرحمن، جنرل ٹکا خان،ڈاکٹر عبدالمالک، خواجہ خیر الدین، جنرل یحی خان سے تفصیلی ملاقاتوں او رمیجر جنرل راؤ فرمان علی کی مفصل روداد میں حیر ت انگیز او رانتہائی دلخراش واقعات سامنے آئے جو پڑھنے والوں کے لیے کافی سبق آموز ہیں۔اسی طرح حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کی چنگاریاں بھی پڑھنے کے لیے کافی معلوماتی اور حیرت انگیز بھی ہے۔
کتاب کے آخر ی حصہ میں الطاف حسن قریشی نے ”سقوط ڈھاکہ میں پوشیدہ اسباق“پر مشتمل مقدمہ ہے۔ ان کے بقول 16دسمبر 1971ہماری بہت ساری کوتاہیوں، غفلت شعاریوں، غلط منصوبہ بندیوں، تاریخ، جغرافیے، اسنانی نفسیات اور سیاسی عمل سے ہماری عدم توجہی کا ایک نقط اختتام ثابت ہوا۔برصغیر میں مسلمانوں کی ڈیڑھ صدی پر محیط سیاسی اور فکری جدوجہد کو ہمارے بیشتر حکمرانوں اور ہماری فوجی قیادتوں نے گہری نگاہ سے نہیں دیکھا او راس امر پر چنداں غور نہیں کیا کہ مشرقی خطہ سے مسلمانوں کی جو تحریک اٹھی تھی اس کے اجزائے ترکیبی کیا تھے او رقائدین و عوام نے انگریزوں او رہندوو ں سے آزادی کے حوالے سے کیا خواب دیکھے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ 1905 میں تقسیم بنگال نے 1947میں ہونے والی تقسیم ہند کی بنیاد رکھ دی تھی۔ان کے بقول سب سے بنیادی بات یہ ثابت ہوئی کہ حکومت میں فوج کا آنا بہت سے خوفناک خطرات کو دعوت دیتا ہے۔ جرنیلوں میں بالعموم وہ سیاسی تدبر نہیں پایا جاتا جو سیاسی جنگ جیتنے کے لیے ناگزیر ہوتا ہے اور وہ کشادگی، لچک اور عوامی زندگی کا لمس بھی دستیاب نہیں ہوتا جو سیاسی معاملات حسن و خوبی سے چلانے کے لیے درکار ہے۔کاش الطاف حسن قریشی نے اس باب میں جن اسباب کی نشاندہی کی ہے یا جو سبق کھینچا ہے ہم مجموعی طو رپر اس سے کچھ سبق حاصل کرسکیں۔