گھروں کے چولہے جلیں نہ جلیں، مباحث کا الاؤ روشن ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 14 / فروری / 2023
پیٹرولیم مصنوعات کے بعد اب گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے علاوہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مالی تعاون کا پروگرام مکمل کرنے کے لئے 170 ارب روپے کے مزید ٹیکس عائد کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ ان اقدامات سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور عام شہری کی مشکلات دو چند ہوجائیں گی۔ لیکن سوشل میڈیا پھلجڑیوں اور ٹی وی ٹاک شوز کی دوڑ کا بھلا ہو کہ قومی منظر نامہ میں عمران/ باجوہ تعلق اور سپریم کورٹ بمقابلہ پارلیمنٹ کے مباحث سر فہرست ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس پر چند روز پہلے سینیٹر عرفان صدیقی نے شدید ناراضی کا اظہار کیا تھااور اسے پارلیمانی بالادستی پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ اس گفتگو میں مبینہ طور سے چیف جسٹس نے یہ تاثر دیا تھا کہ جیسے ملک میں ایک وزیر اعظم کے سوا کوئی بھی دیانت دار نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کسی تناظر میں سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی مثال پیش کی تھی جن کے بارے میں انہوں نے مثبت خیالات کا اظہار کیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو ’ایک وزیر اعظم کو ایماندار کہتے ہوئے لیاقت علی خان سے لے کر عمران خان تک ہر وزیر اعظم کو بددیانت قرار دینے کا حق کس نے دیا ہے‘؟ تاہم اس مباحثہ میں بنیادی نکتہ یہ تھا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب قانون میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی پٹیشن پر غور کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ کو منظم طریقے سے نامکمل رکھا جارہا ہے۔ ان کا اشارہ تحریک انصاف کے استعفوں اور قومی اسمبلی میں ایک بڑی اپوزیشن پارٹی کی عدم موجودگی کی طرف تھا۔
پارلیمنٹ میں سامنے آنے والے خیالات پر سپریم کورٹ کی طرف سے تو کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا لیکن اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہیٰ نے وزیر قانون نذیر تارڑ کو ایک خط لکھا جس میں واضح کیا کہ چیف جسٹس سےیہ بیان غلط طور سے منسوب کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک کے سوا ملک کے تمام وزرائے اعظم کو بددیانت کہا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وہ خود عدالت میں موجود تھے اس لئے سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی اس غلط خبر کی تردید کرتے ہیں تاکہ وزیر قانون پارلیمنٹ میں اپنے ساتھیوں کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کرسکیں۔ واضح رہے سینیٹ میں چیف جسٹس کے ریمارکس پر بحث کے بعد اس معاملہ کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔
آج کے اجلاس میں سینیٹ کے سابق چئیرمین اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے اٹارنی جنرل کی طرف سے خط میں پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کا حوالہ دینے پر تنقید کی اور کہا کہ اٹارنی جنرل پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شریک ہوسکتے ہیں لیکن انہیں رائے دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ انہیں تو اس وقت سپریم کورٹ میں پارلیمنٹ کے حق میں بات کرنی چاہئے جب وہاں پارلیمان پر نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن خبر کی تصحیح کے لئے یہ خط انہیں لکھا تھا اور وہ یہ معلومات سینیٹ کے سامنے لائے ہیں۔ تاہم اس معاملہ پر تنازعہ حل نہیں ہوسکا کیوں کہ اجلاس میں شریک تحریک انصاف کے سینیٹرز کی تان تو اس بات پر ٹوٹتی رہی کہ ملک میں انتخابات سے سارا معاملہ حل کرلیا جائے۔
انتخابات سے معاملہ حل کرنے کے باوجود یہ اصول تو طے نہیں ہوسکتا کہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے تعلق میں کیسے توازن قائم کیا جائے۔ سپریم کورٹ نہ صرف قوانین بلکہ آئینی شقات کی تشریح کے ذریعے متعدد اوقات تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ کو ان امور میں حتمی رائے دینے کا حق حاصل ہے لیکن یہ بہر حال فاضل ججوں پر منحصر ہے کہ وہ اس حق کو کتنا وسیع کرتے ہیں اور کس حد تک تحمل سے کام لے کر پارلیمنٹ اور حکومت کو خود مختاری سے کام کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ ماضی قریب میں یہ صورت حال خاص مستحسن نہیں رہی۔ اس بحث کو سپریم کورٹ ہی کو کسی مناسب طریقے سے سمیٹنا پڑے گا تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ قانون سازی پارلیمنٹ ہی کا استحقاق ہے اور عدالت ’عوامی مفاد‘ کے نام پر ’قانون سازی‘ کا کام نہ کرنے لگے۔ ایسا متوازن طرز عمل ججوں کی شہرت اور سپریم کورٹ کے وقار کے لئے بھی ضروری ہے۔ ورنہ اصول قانون پر استوار کوئی نظام کام نہیں کرسکتا۔
تاہم زیر بحث معاملہ میں درحقیقت ججوں کی طرف سے ریمارکس دینے کا معاملہ تنازعہ کا سبب بنا ہؤا ہے۔ عدالت عظمی کے ججوں کو اس حوالے سے سامنے آنے والی عوامی پریشانی اور پارلیمنٹ میں ہونے والے مباحث کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اول تو سپریم کورٹ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ کیا اہم معاملات میں عدالتی کارروائی کو براہ راست اسٹریم ہونا چاہئے۔ اگر یہ اصول طے ہوجائے تو جج خود بھی محتاط رویہ اختیار کریں گے اور عدالت میں کی جانے والی گفتگو کے بارے میں دروغ گوئی یا غلط رپورٹنگ کا سلسلہ بھی بند ہوسکے گا۔ براہ راست اسٹریمنگ کا اصول طے ہونے تک اعلیٰ عدلیہ کے فاضل ججوں کو سمجھنا چاہئے کہ ان کے ریمارکس میڈیا میں بریکنگ نیوز یا شہ سرخیوں کے ساتھ عام کئے جاتے ہیں۔ ان پر یو ٹیوبرز طول طویل پروگرام کرتے ہیں یا ٹاک شوز میں ان پر بحث کی جاتی ہے۔ خاص طور سے جب اعلیٰ عدلیہ کے فاضل جج سیاسی صورت حال یا شخصیات کے بارے میں کوئی بات کرتے ہیں تو اسے شہرت حاصل ہوتی ہے ۔ ججوں کے ریمارکس اگر قانونی صراحت یا زیر غور معاملہ کی حد تک محدود رہیں تو غلط فہمی کی گنجائش کم ہوجاتی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے لئے یہ صورت حال مستحسن نہیں ہونی چاہئے کہ مختلف بنچوں میں شامل فاضل ججوں کی سیاسی وابستگی کے بارے میں پبلک پلیٹ فارم پر گفتگو کی جائے اور کہا جائے کہ کون سا جج کس پارٹی یا لیڈر کی حمایت کرتا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آج اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے وزیر قانون کو لکھے گئے خط کی توصیف کی اور کہا کہ ’جو رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹنگ سیاق و سباق سے ہٹ کر اور جانبدرانہ بھی تھی‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا کے دوستوں کو اس کا احترام کرنا چاہئے کہ کوئی عدالتی ردعمل نہیں آیا۔ سپریم کورٹ کا 2019کا فیصلہ میڈیا کنٹرول کی بات کرتا ہے۔ تاہم ہم میڈیا پرکنٹرول پر نہیں، باہمی احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ ’ مسئلہ الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا کا نہیں ہے، سوشل میڈیا پر کوئی قوانین لاگو نہیں ہوتے‘۔ یہ حقیقت عدالت عظمی کے فاضل چیف جسٹس اور دیگر ججوں سے بھی پوشیدہ نہیں ہوگی۔
تاہم ایک افسوسناک واقعہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے جس طرح بالواسطہ طور سے میڈیا پر کنٹرول کا حوالہ دیا ہے، اسے نوٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں معلومات کی فراہمی اور باہمی احترام بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ کو یہ باور نہیں کرنا چاہئے کہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن رپورٹنگ کے خلاف عدالتی اختیار استعمال کرکے ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں کوئی کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ عدالتی کارروائی کے بارے میں میڈیا رپورٹنگ پر ’کنٹرول‘ کا واحد قابل قبول اور تعمیری طریقہ یہی ہوگا کہ فاضل جج خود اپنی زبان پر قابو رکھیں اور ایسے غیر ضروری ریمارکس سے گریز کیا جائے جن سے ان کی ذاتی پسند ناپسند سامنے آئے۔ صرف اسی صورت میں عدالت اور جج متنازعہ ہوتے ہیں۔
پاکستانی مباحثہ کا دوسرا اہم ترین موضوع سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کی عمران خان کے بارے میں بالواسطہ گفتگو اور جواب آں غزل کے طور پر عمران خان کی طرف سے قمر جاوید باجوہ کے کردار، اختیار اور رویہ کے بارے میں ’انکشافات‘ کا سلسلہ ہے۔ اس بحث سے ہر شخص اپنی سیاسی پسند ناپسند کے مطابق مطلب اخذ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ باوجوہ سپر مین تھے اور عمران خان لاچار و بے بس۔ یا ’باجوہ نے امریکوں کو عمران خان کی شکائیتیں کی تھیں اور جب روس پاکستان کو سستا تیل دینے پر تیار ہوگیا تھا تو باجوہ نے عمران خان کو روس مخالف بیان دینے کا مشورہ دیا‘۔ ملک کے دو اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہنے والی شخصیات کے درمیان الزام تراشی کا یہ سلسلہ کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر جاری ہے اور شدید معاشی بحران میں مبتلا ملک میں مداری تماشہ لگانے کی افسوسناک کوشش کے مماثل ہے۔
سامنے لائی جانے والی باتیں خواہ وہ کسی طرف سے ہوں، سیاق و سباق کے بغیر ہیں اور ان کی روشنی میں یہ طے کرنا مشکل ہے کہ اقتدار کی راہداریوں میں معاملات کیسے طے پاتے ہیں۔ اس الزام تراشی سے البتہ عمران خان یہ تصدیق کررہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ اگر کسی سیاسی لیڈر کو اقتدار میں لاتی ہے تو وہ اسے پوری طرح سے اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔ اسی لئے انہوں نے جنرل باجوہ کو سپر مین کا خطاب دیا ہے جس کے سامنے منتخب وزیر اعظم بے بس اور بے اختیار تھا۔ لیکن یہ انکشاف کرتے ہوئے عمران خان یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ جب کسی شخص کو فوج ہی منتخب کروائے گی تو اسے کنٹرول بھی کرے گی۔ ایسے میں بہتر تو یہی ہے کہ فوج کی طرف سے ایسی کمک قبول کرنے سے گریز کیا جائے۔ اس کے برعکس ریکارڈ پر آنے والی معلومات کے مطابق اگر یہ ’سپر مین ‘ عمران خان کو وزارت عظمی پر برقرار رکھنے میں معاونت کرتا تو وہ اسے غیر معینہ مدت کے لئے سپر مین بنائے رکھنے پر راضی تھے ۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان کو آرمی چیف کے سپر مین بننے پر اعتراض نہیں تھا بلکہ یہ شکوہ تھا کہ وہ ان سے کبیدہ خاطر کیوں ہوگیا؟ اب اس میں باریک نکتہ تو یہی ہے کہ یہ سپرمین کی مرضی کہ جب جو چاہے کرے۔ یہ تو کسی آرمی چیف کو سپر مین بنانے والے کو سوچنا چاہئے کہ اس کے اختیارات کو کیسے محدود کرنا ہے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہی ہوسکتا تھا کہ عمران خان جو شکایات اب میڈیا کے ذریعے بیان کررہے ہیں ، وہ بطور وزیراعظم پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرتے اور بتاتے کہ کیسے فوجی قیادت ایک منتخب حکومت کو کام نہیں کرنے دیتی۔ لیکن اس وقت تو وہ سارا زور اپوزیشن کو دبانے اور اگلی مدت کے لئے خود کو ’بلامقابلہ قائد اعظم ثانی‘ بنوانے میں لگا رہے تھے۔ انہیں علم ہی نہیں ہوسکا کہ وہ تو درحقیقت ’کٹھ پتلی‘ ہیں۔ جب اپوزیشن انہیں یہ باور کرواتی تو وہ اسے اپنا دشمن سمجھتے تھے۔
ملک میں ان دو ’اہم ترین ‘ ترین مباحث کے بیچ پھنسے عوام کو دو وقت گھر کا چولہا جلانے اور بچوں کا پیٹ بھرنے کے لالے پڑے ہیں۔ د عوے اپنی جگہ لیکن قومی مباحث میں حصہ دار بننے اور انہیں آگے بڑھانے والے شاید یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کا فائدہ تو بے معنی گفتگو کو پھیلانے اور مسائل کو نظر انداز کرنے میں ہی ہے۔ ملک میں معیشت و سیاست کے ساتھ روا رکھا جانا والا یہ سلوک قومی بے حسی کے علاوہ متعلقہ کرداروں کی نااہلی اور کم عقلی پر بھی دلالت کرتا ہے۔