ممنوعہ سوال
- تحریر امر جلیل
- منگل 14 / فروری / 2023
جو بات سمجھ میں نہ آئے، اس بات کے بارے میں پوچھ لینا چاہئے۔ مانا کہ پاکستان میں سمجھ دار لوگوں کی کمی نہیں ہے مگر سمجھ داری میں خودکفیل ملک میں مجھ جیسے بوڑم لوگ بھی رہتے ہیں۔
یہ بھی مانا کہ ہم احمقوں کی تعداد سیانوں اور سمجھ دار لوگوں کے اس معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے، ہم انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں، پھر بھی کچھ سمجھنا، کچھ جاننا ہمارا بنیادی حق ہے۔ سنا ہے ہمارے اچھے خاصے بنیادی حقوق ہیں مگر جب بھی ہم بونگوں نے ان بنیادی حقوق کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، تب ہماری اپنی بنیادیں ہلاکر رکھ دی جاتی ہیں۔
اس کے بعد ہم چلنے، پھرنے اور ٹہلنے کے قابل نہیں رہتے، تب ہم ایسی عمارتوں کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں جن عمارتوں کی کوئی بنیادہی نہیں ہوتی، سنا ہے کہ بے بنیاد عمارتیں دیرپا نہیں ہوتیں، ڈھے جاتی ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ جب ہمیں اپنے سوالوں کے معتبر جواب نہیں ملتے تب پوچھے گئے سوال مرتے نہیں، تب پوچھے گئے سوال خاردار درخت بن کر ہمارے وجود میں خاردار درختوں کا جنگل بنا دیتے ہیں۔ اگر کبھی ایک چھوٹا سا بچہ آپ سے چبھتا ہوا سوال پوچھ بیٹھے، تو آپ بچے کو ڈانٹئے گا مت۔ آپ کے ڈانٹنے سے بچے کے ذہن میں آیا ہوا سوال حذف نہیں ہوتا، خارج نہیں ہوتا، ڈیلیٹ نہیں ہوتا۔ ایسا سوال بچے کے ذہن میں ممنوع سوالوں کے جنگل میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کی بڑھتی عمر کے ساتھ ایسے سوالوں کا جنگل مزید گھنا ہوتا جاتا ہے۔ صرف بچے ہی متجسس سوال نہیں پوچھتے۔ بڑے، بوڑھے بھی متجسس سوال پوچھتے ہیں۔
میں نے زندگی بھر سوال اٹھائے اور اٹھائے گئے سوالوں کی پاداش میں چھٹی کا دودھ یاد کرتے ہوئے زندگی گزار دی ہے۔ امیزون کے رین فاریسٹ سے زیادہ گھنا، جوابوں سے محروم سوالوں کا جنگل میرے وجود میں موجود ہے۔ مجھے سوالوں کے جنگل سے ڈر لگتا ہے۔ جوابوں سے محروم سوالوں کے جنگل میں چیر پھاڑ کر ہمیں لقمہ بنانے والے پرند اور چرند رہتے ہیں۔ بچپن میں سوال پوچھنے پر ہمیں ڈانٹ ڈپٹ کر چپ کرا دیا جاتا تھا۔ جوانی اور بڑھاپے میں ممنوعہ سوال پوچھنے پر ہمیں غائب کردیا جاتا ہے۔ سوال اٹھانے کے بعد ہم کسی کو نظر نہیں آتے۔ ایک مرتبہ ایک متجسس بوڑھے نے عبدالحمید عدمؔ کے ایک شعر کے بارے میں متجسس سوال پوچھا تھا، شعر تھا:
دل خوش ہوا ہے مسجدِ ویراں کو دیکھ کر
میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے
بزرگ نے پوچھا تھا۔ ’’مجھے شاعر کا نام یاد نہیں آرہا۔ یہ شعر کس کا ہے؟‘‘
سوال پوچھنے کے بعد بزرگ پھر کبھی کسی کو دکھائی نہیں دیے۔ ان کو بلا سفیمی کے الزام میں دھر لیا گیا تھا۔ ایک مرتبہ پہلے بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ سننے کو ملا تھا۔ ایک نوجوان اپنی موج مستی میں گنگناتا پھر رہا تھا:
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
نوجوان غائب ہوگیا۔ کچھ روز بعد نوجوان کی سربریدہ لاش گندے نالے میں پڑی ہوئی ملی۔ لاش کے سینے پر ایک گتہ پڑا تھا۔ گتے پر لکھا ہوا تھا۔
’’دیکھ لو ہم نے غالب کا کیا حشر کیا ہے۔ یہ کافروں اور دہریوں کے لئے سبق ہے، سدھر جاؤ نامرادو۔‘‘
سربریدہ لاش نے صوفیوں کو سوچنے پر مجبور کردیا۔ سچل سرمست، بلھے شاہ، سلطان باہو، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور خواجہ فرید نے اپنے مشترکہ مراسلے میں پاکستانی سرکار کو لکھا کہ ’ہم صدیوں سے یہاں آباد ہیں مگر اب لگتا ہے کہ صوفیوں کے لئے یہ زمین تنگ کردی گئی ہے۔ صوفی صدیوں سے اپنے مالک، اپنے خالق سے باتیں کرتے آئے ہیں۔ گلے، شکوے کرتے آئے ہیں مگر اب ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ ایسا کرنے سے ہمیں روک دیا گیا ہے۔‘ ہمیں اللہ سائیں نے نہیں روکا۔ ہمیں ان لوگوں نے روکا ہے جو ازل سے اللہ سائیں کے آدمیوں کو اللہ سائیں سے دور رکھنے کا کام بڑی ایمان داری سے سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ اس موضوع پر پھر بات ہوگی۔
ساری باتیں درکنار، اب ہم آتے ہیں اپنے سوالوں پر۔ سنا ہے کہ اس نوعیت کے سوال ممنوعہ سوالوں کی کیٹیگری یعنی مد، یعنی درجہ میں آتے ہیں۔ سوال سن لیجئے، میں یہ نہیں جانتا کہ ان سوالوں کے جواب کی توقع میں کس سے رکھتا ہوں۔
سوال نمبر ایک، دہشت گردوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے کارناموں سے اسلام کا نام بلند کررہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے دنوں پشاور میں نماز کے دوران آپ نے دھماکہ کرکے ایک سو سے زیادہ نمازیوں کو موت کے گھاٹ اتارکر اسلام کی کون سی خدمت کی ہے؟ اس سے چند برس پہلے آپ نے اسکول پر حملہ کرکے ڈیڑھ سو بچوں کو مار ڈالا تھا۔ ایسا کرنے سے کیا آپ نے اسلام کا نام روشن کیا تھا؟
سوال نمبر دو، ایک کہاوت ہے کہ بندوق کی نالی سے بات کرنے والوں کے ساتھ امن، صلح، صفائی، افہام و تفہیم کی بات نہیں ہوسکتی، پھر کیوں آپ خوں خوار لوگوں سے امن کی بات کرتے رہے؟
سوال نمبر تین، دہشت گرد خود ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوتے تو پھر ان کو جدید ترین ہتھیار اور گولہ بارود کون دیتا ہے۔ ان کی سپلائی لائن کیوں نہیں کاٹ دی جاتی؟
آخری سوال، ایک لحاظ سے جنگ و جدل اور دہشت گردی ایک ہی زمرے میں آتے ہیں، جس طرح جنگ و جدل میں پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، عین اسی طرح آپ پھکڑپن سے دہشت گردی جیسا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتے۔ آپ کو دہشت گردی کرنے کے لئےدولت کے انبار کون دیتا ہے؟ کیا ان کا کھوج نہیں لگایا جاسکتا؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)