امریکی وفد رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا

  • بدھ 15 / فروری / 2023

امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر ڈیریک شولے کی سربراہی میں ایک وفد رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں تناؤ کا شکار رہنے والے دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے مطابق امریکی وفد 14 سے 18  فروری کے دوران بنگلہ دیش اور پاکستان میں سینیئر سرکاری حکام، سول سوسائٹی کے اراکین اور کاروباری افراد سے ملاقات کرے گا۔

سابق وزیراعظم عمران خان کو گزشتہ سال اپریل میں عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ انہوں نے 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کو خوش آمدید کہا اور 2022 میں عہدے سے اپنی معزولی پر امریکہ کو مورد الزام ٹھہرایا۔

امریکہ اور پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کونسل عمران خان کے ان الزامات کو مسترد کر چکی ہے۔ امریکی وفد ایک ایسے وقت میں دورہ کر رہا ہے جب پاکستانی معیشت تباہ کن سیلاب سے شدید طور پر متاثر  ہے۔

پاکستان اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ 10 روزہ مذاکرات اسلام آباد میں جمعے کو بغیر کسی کے ڈیل کے ختم ہوئے اور ورچوئل مذاکرات رواں ہفتے دوبارہ شروع ہونے ہیں۔

روزنامہ ڈان کی جنوری میں ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 1.1 ارب ڈالر حاصل کرنے کے لیے مذاکرات میں امریکہ کی مدد مانگی تھی۔

محکمہ خارجہ کی پریس ریلیز کے مطابق وفد دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سکیورٹی تعاون کا بھی اعادہ کرے گا۔ ملاقاتوں کے ایجنڈے میں معاشی تعلقات اور تعاون کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنا بھی شامل ہے۔