پاکستان میں افراط زر 33 فیصد تک جاسکتی ہے: ماہر اقتصادیات موڈیز

  • بدھ 15 / فروری / 2023

موڈیز کی ماہر اقتصایات نے کہا ہے کہ سال 2023 کے ابتدائی 6 ماہ میں پاکستان کی افراط زر 33 فیصد کی بلند ترین سطح تک جانے کا امکان ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق موڈیز سے تعلق رکھنے والی ماہر اقتصادیات کترینا ایل نے کہا کہ پاکستان میں سال 2023 کے ابتدائی 6 ماہ میں مہنگائی اوسط 33 فیصد تک جا سکتی ہے اور صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرض سے ملکی معیشت بحال نہیں ہوسکتی۔

کترینا ایل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہے اور معشیت کو واپس ٹریک پر لانے کے لیے مسلسل اور مضبوط معاشی طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ ملک کو آگے بھی ناگزیر سخت حالات کا سامنا ہے اور مالی سال 2024 میں بھی مالیاتی اور معاشی بحران اسی طرح جاری رہنے کا امکان ہے۔

اگرچہ معیشت گہری کساد بازاری میں ہے جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے سخت شرائط کے باعث افراط زر ناقابل یقین حد تک زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے  کہ رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں افراط زر اوسط 33 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے پھر اس کے بعد تھوڑی کمی کا رجحان ہو سکتا ہے۔

جنوری میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں سالانہ 27.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ اس نصف صدی میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ بلند افراط زر کے نتیجے میں کم آمدنی والے گھرانے شدید دباؤ کا شکار رہیں گے۔

ماہر اقتصادیات نے کہا کہ اگر کسی بہتری کا انتظار ہے تو یہ بہت بتدریج ہو گی کیونکہ راتوں رات کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔ مقامی کرنسی کمزور ہونے سے درآمد شدہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ٹیرف میں اضافے کی پشت پر مقامی سطح پر توانائی کی لاگت میں اضافہ اور ابھی تک خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مہنگائی کی سطح بلند رہنے کا امکان ہے۔