انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم پیشی پرعمران خان کی ضمانت خارج کردی

  • بدھ 15 / فروری / 2023

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کا احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کیس میں عدم پیشی پر عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت خارج کردی ہے۔

عدالت نے عمران خان کو آج پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے وکیل کی مشاورت کے لیے ڈھائی بجے تک سماعت میں وقفہ کردیا تھا۔ وقفے کے بعد مہلت کا وقت پورا ہونے پر عدالت نے عدم پیشی پر عمران خان کی ضمانت خارج کردی۔ دریں اثنا پی ٹی آئی نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ عمران خان آج شام 6 بجے قوم سے اہم خطاب کریں گے۔

قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کا احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کیس میں عمران خان کی طبی بنیادوں پر دائر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے عمران خان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عمران خان کو ڈیڑھ بجے تک عدالت پیش ہونے کا حکم دیا تاہم عمران خان ڈیڑھ بجے تک عدالت میں پیش نہ ہوئے۔

وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل بابر اعوان روسٹرم پر آئے اور کہا کہ عمران خان نے کوشش کی مگر سفر نہیں کر سکے۔ عمران خان نہ کبھی ملک اور نہ ہی عدالت سے بھاگے۔ بابر اعوان نے کہا کہ عدالت ایک آخری موقع دے کر سمن جاری کر دے۔ میں 10 ہزار کے مچلکے جمع کرانے کو تیار ہوں۔

بابر اعوان کی جانب سے عمران خان سے مشاورت کے لیے وقت مانگنے پر عدالت نے ڈھائی بجے تک سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ  ڈھائی بجے تک بتادیں جو بھی کرنا ہے۔

بعد ازاں ڈھائی بجنے پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجا جواد عباس نے فیصلہ سناتے ہوئے عدم پیشی پر عمران خان کی عبوری ضمانت خارج کردی۔

خیال رہے گزشتہ بارعدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان پیش ہوئے تو ٹھیک نہیں تو ضمانت قبل از گرفتاری پر آرڈر دے دیں گے۔

واضح رہے کہ عمران خان کےخلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بینکنگ کورٹ اسلام آباد کو 22فروری تک عمران خان کی درخواست ضمانت پر فیصلے سے روک دیا ہے۔ بینکنگ کورٹ نے عمران خان کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کو آج عدالتی اوقات یعنی ساڑھے 3 بجے تک پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بینکنگ کورٹ کی جانب سے ویڈیو لنک پر حاضری کی عمران خان کی درخواست مسترد کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو پیش ہوئے۔ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے بیان حلفی اور بائیو میٹرک سے متعلق اعتراض لگایا ہے۔ درخواست گزار طبی عذر کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہوسکے۔ بینکنگ کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ عمران خان 70 سال کے ہیں، زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے۔

وکیل عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹرز نے ابھی مزید 3 ہفتوں تک آرام کرنے کی ہدایت کی ہے،۔بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست پر اعتراض دور کرنے کی ہدایت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی بینکنگ کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے بینکنگ کورٹ کو 22فروری تک عمران خان کی درخواست ضمانت پر فیصلے سے روک دیا۔ اور آئندہ سماعت پر عمران خان کی تازہ میڈیکل رپورٹ بھی طلب کرلی۔