وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے پارلیمنٹ میں منی بجٹ پیش کردیا
وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پارلیمنٹ نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی روشنیہ میں مزید ٹیکس لگانے کے لئے منی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے۔ گزشتہ روز صدر عارف علوی نے اس حوالے سے مالیاتی آرڈی ننس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔
منی بجٹ میں سگریٹ اور مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 1.5 سے 2 کلوگرام اضافہ ہوگا۔ جنرل سیلز ٹیکس 17 فیصد سے 18 فیصد کردیا گیا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے فنڈ میں 360 ارب سے بڑھا کر 400 ارب روپے کردیے گئے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ایک بیمار معیشت ملی۔ پچھلے سال جب حکومت میں تبدیلی آئی تو مالیاتی خسارہ موجودہ دور کی بلند ترین شرح 7.9فیصد پر تھا ۔ بیرون ادائیگیوں کا خسارہ 17.4ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 40ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ معیشت تباہی کے دہانے پر تھی، ہم 2018 تک معیشت کو مضبوط معاشی بنیادوں پر کھڑا کیا تھا لیکن ہمارے پیشرو نے اسے برباد کر دیا۔
موجودہ حکومت کو آئے ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے اور معشیت کو سنبھالا دیا جا رہا تھا کہ تاریخی سیلاب کی ناگہانی آفت نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کی شدت سے اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے جس میں سے بیشتر بے گھر ہوئے اور ہمارے 1730 بہن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پس منظر میں آئی ایم ایف کا نواں مشن پاکستان آیا اور اس سے ہماری معاشی ٹیم کے 31 جنوری سے 9 فروری تک 10 دن مذاکرات ہوئے۔ اس کے نتیجے میں ایک مفاہمت ہوئی اور ہم نے مختلف معاملات پر مزید عملدرآمد کرنے کا عندیہ دیا۔ پاکستان 170ارب روپے کے اضافی محصولات پر رضامند ہؤا ہے۔
گزشتہ روز صدر مملکت کی جانب سے آرڈیننس جاری کرنے سے انکار کے فوری بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ٹیکس ترمیمی بل، فنانس بل 2023 کی منظوری دی گئی تھی۔ ابتدا میں حکومت نے ایک کھرب 70 ارب روپے کے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے ٹیکس اور نان ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم آخری لمحات میں اس نے نان ٹیکس اقدامات بالخصوص ایک کھرب روپے اکٹھے کرنے کے لیے فلڈ لیوی کی تجویز چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
رات گئے ہونے والی پیش رفت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مقامی سطح پر تیار ہونے والی سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کے لیے ایس آر او 178 جاری کیا جس سے تمباکو کی مصنوعات پر عائد ٹیکس سے 60 ارب روپے اکٹھے ہوں گے۔
اس کے علاوہ حکومت جنرل سیلز ٹیکس کو 17 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے سے مزید 55 ارب روپے حاصل کرے گی۔ بقیہ 55 ارب روپے ہوائی جہاز کے ٹکٹس، چینی کے مشروبات پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر اور ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر کے اکٹھے کیے جائیں گے۔