ترک عوام تنہا نہیں

ترکیہ میں آنے والے صدی کے قیامت خیز زلزلے کے دلخراش مناظر نے مجھ سمیت ہر پاکستانی کو سوگوار کردیا ہے ۔ زلزلے کے نتیجے میں کئی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ گئے، 3 ہزار سے زیادہ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور 32 ہزار سے زیادہ شہری جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔

حالیہ سانحہ کے باعث ترکیہ میں سوگ کا سماں ہے اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے جب کہ صدر طیب اردوان ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی خود نگرانی کررہے ہیں۔ ترکیہ میں 1939 کے بعد یہ سب سے بڑی قدرتی آفت ہے جس نے 2005 کے پاکستان میں آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں آنے والے ہولناک زلزلے کی یاد تازہ کردی ہے۔ پاکستان میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کی گئی تھی جس میں مجموعی طور پر 74 ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہوئے تھے جب کہ ترکیہ کے حالیہ زلزلے کی شدت 7.8 ہے اور خدشہ ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تجاوز کرسکتی ہے۔

پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں آنے والے زلزلے میں ترکیہ کے بھائیوں نے اپنے پاکستانی بھائیوں کی جو مدد کی، اس بے پناہ محبت کے اظہار کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہےکہ جب ترکیہ میں قائم پاکستانی سفارتخانے کو ایک ترک لڑکے کا خط موصول ہوا جس میں 2ڈالر کے مساوی ترکیہ کی کرنسی موجود تھی۔ خط میں تحریر تھا کہ ’میں یتیم لڑکا ہوں، والد کے انتقال کے بعد گھر کی معاشی کفالت کی ذمہ داری مجھ پر آن پڑی ہے، میں محنت مزدوری کرکے یومیہ 2ڈالر کماتا ہوں جس سے میرے گھر کا چولہا جلتا ہے مگر پاکستان میں آنے والے زلزلے کی تباہ کاریاں دیکھ کر میں اور میری ماں نے فیصلہ کیا کہ ایک دن کی کمائی پاکستان کے زلزلہ متاثرین کو بھجوائیں ۔‘

مجھے یہ واقعہ اس وقت پاکستانی سفارتخانے میں ملٹری اتاشی کے عہدے پر فائز بریگیڈیئر (ر) خالد مسعود ترمذی نے سنایا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لفافے پر پتہ درج نہ ہونے کے باعث پاکستانی سفارتخانے کو یتیم بچے کا سراغ نہ مل سکا اور ہم اپنے محسن کی سخاوت کا شکریہ ادا نہ کرسکے۔ اسی طرح 2010 میں جب پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے سینکڑوں افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہوئے تو اس وقت ترکیہ کے وزیراعظم اور موجودہ صدر رجب طیب اردوان کی اہلیہ ایمان اردوان پاکستان تشریف لائیں اور مظفر گڑھ کے سیلاب متاثرین کی حالت زار دیکھ کر اتنی متاثر ہوئیں کہ انہوں نے قیمتی ہیروں کا ہار اپنے گلے سے اتارکر پاکستانی حکام کو یہ کہتے ہوئے عطیہ کردیا کہ اسے فروخت کرکے سیلاب زدگان کی مدد کی جائے مگر افسوس کہ یہ قیمتی ہار بعد ازاں غائب ہوگیا۔

کراچی میں ترکیہ کے قونصل جنرل جمال سانگی سے میرے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں۔ حالیہ سانحہ کے بعد کراچی میں ترکش قونصلیٹ جنرل میں تعزیتی کتاب رکھی گئی اور مختلف ممالک کے قونصل جنرلز اور معزز شخصیات کو اپنے تاثرات درج کرنے کیلئے مدعو کیا گیا جس میں، میں بھی شامل تھا۔ میں جب کلفٹن میں واقع ترکش قونصلیٹ کی خوبصورت اور دلکش عمارت میں پہنچا تو وہاں کی فضا سوگوار تھی اور قونصلیٹ کی عمارت پر نصب ترکیہ کا قومی پرچم سرنگوں تھا۔ اس موقع پر ترکیہ کے قونصل جنرل اور اُن کے عملے کے چہرے پر شدت غم کے آثار نمایاں تھے۔ میں نے تعزیتی کتاب میں تحریر کیا کہ ’پاکستانی عوام اپنے ترک بہن بھائیوں کے غم کو محسوس کرسکتے ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں وہ تنہا نہیں۔‘ اس موقع پر ترکیہ کے قونصل جنرل جمال سانگی نے مجھے بتایا کہ 500 سال قبل بھی اسی مقام پر زلزلہ آیا تھا اور حالیہ آنے والے دو زلزلوں کی مجموعی قوت کا اندازہ لگایا جائے تو یہ 500 ایٹم بموں کی قوت کے برابر بنتے ہیں جب کہ زلزلے کی گہرائی 17.9 کلومیٹر تھی جس کی وجہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ یہ بات قابل ستائش ہے کہ پاکستان سے مسلم ہینڈز انٹرنیشنل، المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ اور الخدمت جیسے فلاحی اداروں کے رضا کار زلزلے کے فوراً بعد ہی ترکیہ پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں۔

ترک بھائیوں کی پاکستان کیلئے محبت کے واقعات بیان کرنے کا مقصد قارئین کو یہ بتانا ہے کہ ترکیہ کے عوام نے قدرتی آفات اور مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور آج ترک عوام سے اظہار محبت اور ان کی مدد پاکستان پر قرض ہے جس کا اندازہ امریکہ میں پیش آنے والے ایک حالیہ واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں مقیم ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری نے ترک سفارتخانے جاکر اپنی زندگی کا پورا سرمایہ 30 ملین ڈالرز (8 ارب روپے سے زائد) نام بتائے بغیر خاموشی سے ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لئے دے کر پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کردیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کا امیر طبقہ بھی اسی طرح کی سخاوت کا مظاہرہ کرے تاکہ ہم اپنے ترک بھائیوں کو یہ پیغام دے سکیں کہ پاکستانی عوام احسان فراموش نہیں اور مشکل کی گھڑی میں اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)