صدر اور وزیر خزانہ دونوں بے اعتبار نکلے

صدر عارف علوی نے گزشتہ روز  آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق محصولات میں اضافے کامالیاتی آرڈی ننس  منظور کرنے سے انکار کردیا۔ اب یہ  مالی تجاویز منی بجٹ کی صورت میں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ہیں جن پر ’بحث مباحثہ  اور غور و خوض‘ کے بعد ویک اینڈ تک شاید اس کی منظوری ممکن ہو۔ یوں پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف سے  ایک ارب ڈالر سے زائد کی قسط مل سکے گی اور  یہ امید بھی پیدا ہوگی کہ  وہ  تمام دوست ممالک بھی پاکستان کی امداد کو آگے بڑھیں گے  جو آئی ایم ایف کے ’مالی ہیلتھ سرٹیفکیٹ‘ کا انتظار کررہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے  محاصل میں 170 ارب روپے اضافے کی جو تجاویز منی بجٹ کی صورت میں پارلیمنٹ میں پیش کی ہیں، وہ نئی نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف کا وفد نویں مالی جائزے کے لئے حال ہی میں اسلام آباد میں دس روز قیام کے بعد واشنگٹن واپس گیا ہے۔  عام طور سے ایسے جائزہ کے بعد حتمی معاہدہ طے پاجاتا ہے، پھر مالیاتی فنڈ کا بورڈ آف گورنرز رسمی کارروائی کے طور پر اس  کی منظوری دیتا ہے۔  یوں طے شدہ رقم متعلقہ ملک کو فراہم کردی جاتی ہے۔ لیکن اس بار آئی ایم ایف کا یہ  چہرہ بھی دیکھنے میں آیا کہ انہوں نے اسحاق ڈار کی  باتوں اور یقین دہانیوں کا اعتبار کرنے سے انکار کردیا۔ اس دوران کم از کم دو بار وزیر اعظم شہباز شریف  نے آئی ایم ایف کے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ  طے شدہ معاملات پر ہوبہو عمل ہوگا۔ البتہ  آئی ایم ایف نے حکومت کی طرف سے محاصل جمع کرنے کا باقاعدہ اعلان ہونے سے پہلے کوئی رقم دینے سے گریز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  حکومت مالیاتی آرڈی ننس کے ذریعے یہ اقدامات نافذ کرنا چاہتی تھی تاکہ پارلیمانی کارروائی میں مزید چند روز ضائع نہ ہوں۔

صدر عارف علوی  نے    گزشتہ روز  وزیر خزانہ سے ملاقات کے دوران یہ بے بنیاد دعویٰ کرنا تو ضروری سمجھا کہ ’ریاست پاکستان اپنے سب وعدے پورے گی‘ لیکن بطور صدر مملکت وہ اس عمل کا حصہ بننے پر تیار نہیں تھے جس  کے ذریعے پاکستان  آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے وعدے پورے کرنے میں سرخرو ہوسکتا۔  صدر علوی کا طرز عمل منفی، افسوسناک اور  شدید مالی بحران کے موقع پر پارٹی سیاست کرنے کے مترادف کہا جائے گا۔   کسی کو اس بات میں  شبہ نہیں ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے موجودہ معاہدہ پورا کیے بغیر اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے  میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہاں یہ بحث  فضول ہوگی کہ اس کا ذمہ دار کون ہے ، البتہ یہ نکتہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ اس وقت ڈیفالٹ سے بچنے یعنی  بروقت واجب الادا اقساط ا دینے کے لئے پاکستان کو آئی ایم ایف سے ہر قیمت پر سمجھوتہ کرنے اور وسائل لینے کی ضرورت  ہے۔  چین سمیت قریب ترین دوست ممالک اس وقت  تک کوئی امداد کرنے سے معذوری ظاہر کرچکے ہیں جب تک آئی ایم ایف  ملک میں معاشی اصلاحات کا ایجنڈا نافذ کروانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اسی کو فنڈ کی جائزہ رپورٹ اور باہمی  اتفاق رائے کا نام دیا جاتا ہے۔

صدر عارف علوی اس صورت حال سے بے خبر نہیں ہوسکتے۔ اس کے باوجود انہیں اس بات  کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ سٹیٹ بنک میں زر مبادلہ کے ذخائر تین ارب ڈالر سے بھی کم ہوچکے ہیں اور عالمی منڈیوں کے علاوہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا اتار چڑھاؤ  بھی آئی ایم ایف کے ساتھ  ہونے والی بات چیت کے مطابق زیر و بم کا شکار رہا ہے۔ ایسے میں  فیصلہ سازی میں شریک ہر شخص کو عجلت میں  اقدام کرنے کی ضرورت تھی۔  عارف علوی ملک کے آئینی صدر ہیں۔  وہ رسمی سربراہ مملکت یا مسلح افواج کے علامتی سپریم کمانڈر ہیں۔ انہیں  موجودہ پارلیمانی نظام میں   کوئی ایسا اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ حکومت کے فیصلہ کو روک سکیں یا مسلح افواج  کو کوئی خاص کارروائی کرنے کا ’حکم ‘ دے سکیں۔

صدر مملکت کے پاس اگر کوئی رسمی اختیار  موجودبھی ہے ، وہ بھی وزیر اعظم کے مشورے، رائے اور فیصلہ کا محتاج ہے۔ اس کے باوجود  عارف علوی نے   عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد سے موجودہ حکومت کے فیصلوں کی راہ میں ممکنہ حد تک روڑے اٹکانے کی کوشش کی ہے۔  پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے متعدد بلوں پر دستخط کرنے سے انکار کیا اور ان قوانین کو نافذ کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا سبب بنے تاکہ اپنے رہنما عمران خان کی خوشنودی حاصل کرسکیں۔ البتہ جب نئے آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ سامنے آیا تو ’سپریم کمانڈر‘ کی چیں بول گئی اور  انہوں نے چند گھنٹے کے اندر ہی  وزیر اعظم کی بھیجی ہوئی سمری پر دستخط کردیے۔ صدر علوی یہ سمری ملتے ہی بھاگم بھاگ زمان پارک ضرور پہنچے تاکہ عمران خان کو معاملہ کی ’سنگینی‘ سے آگاہ کرسکیں یا اپنی یہ مجبوری بتا سکیں کہ  ان میں اتنی ہمت نہیں ہے  کہ وہ  تحریک انصاف کی سیاست کے لئے  آرمی چیف کی تقرری  مؤخر کردیں۔ حالانکہ اس دوران فواد چوہدری سمیت تحریک انصاف کے چھوٹے بڑے لیڈر تسلسل سے یہ تاثر دے رہے تھے کہ صدر بلا ’سوچے سمجھے‘ آرمی چیف کی تقرری کے لیے آنے والی سمری پر دستخط نہیں کریں گے۔ بلکہ عمران خان کے مشورہ کو مقدم رکھیں گے۔ تاہم قوم نے دیکھا کہ سیاسی نعرے بازی اور حقائق میں تال میل نہیں ہوتا۔  البتہ جس وقت صدر کو واقعی  ملک کا سربراہ بن کر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی،  انہوں نے   رکاوٹ ڈالنا ضروری سمجھا۔ صدر عارف علوی کے اس اقدام سے  آئی  ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد تو نہیں رکے گا لیکن یہ  ضرور واضح ہوگیا کہ  سنگین قومی بحران میں ملک کا صدر قومی مفادات کے ساتھ کھڑا ہونے میں ناکام رہا۔

صدر عارف علوی کا  طرز عمل قابل افسوس    ہے۔ انہوں نے پارٹی  سیاست کے لئے قومی مفادات سے کھیلنے  کا ڈرامہ رچایا ہے۔ انہیں اس سے کیا حاصل ہؤا؟ یہی کہ عمران خان کو ایک دھؤاں دار ویڈیو خطاب کا موقع مل گیا کہ  آئی ایم  ایف کا معاہدہ عوام کی زندگی اجیرن کردے گا۔ یا  یہ کہ موجودہ حکومت کو  تحریک انصاف کی حکومت کا متبادل بنا کر شدید غلطی کی گئی تھی۔ لیکن  عارف علوی اور عمران خان بھی جانتے ہیں کہ اگر اس موقع پر عمران خان  بھی وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہوتے تو انہیں بھی انہی شرائط کو ماننا پڑتا جن کے سامنے اسحاق ڈار کو سر جھکانا پڑا ہے۔

اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ کے طور پر منی بجٹ پیش کرتے ہوئے غیر ضروری طور  پر طویل تقریر کی اور اپنی غلطیوں اور غلط اندازوں کا سارا  بوجھ تحریک انصاف اور عمران خان کی طرف منتقل کرنے کی کوشش  کی۔ منی بجٹ ہمیشہ غیر معمولی حالات میں اضافی محاصل اکٹھا کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف سے بات چیت اور ملکی معاشی صورت حال کے بارے میں سامنے آنے والی خبروں  میں ہر کس و ناکس کو معلوم تھا کہ   نئے محاصل عائد ہوں گے اور مہنگائی کا ایک نیا دور منہ پھاڑے سامنے کھڑا ہے۔  موجودہ صورت حال  اگرچہ پاکستان میں معاشی بدانتظامی  کے تسلسل سے پیدا ہوئی ہے اور کسی ایک حکومت یا فرد پر اس کی ذمہ دار عائد نہیں کی جاسکتی لیکن  اسحاق ڈار نے اس  موقع پر بھی تحریک انصاف کے خلاف غیر ضروری تقریر کرنا ضروری سمجھا۔ حالانکہ اس وقت پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ جس خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی زیادہ تر ذمہ داری اسحاق ڈار پر ہی عائد ہوتی ہے جو لندن سے یہ دعوے کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے تھے کہ وہ آئی ایم ایف   سے ڈیل کرنا  جانتے ہیں۔ اگر مفتاح اسماعیل کی پالیسی جاری رہتی تو عالمی اداروں کے سامنے پورا  پاکستانی نظام بے اعتبار ثابت نہ ہوتا۔ اسحاق ڈار نے پاکستان کا اعتبار ختم کرنے کی اپنی سی کوشش کی اور رہی سہی کسر عارف علوی نے پوری کردی تاکہ  عالمی  اداروں کو معلوم ہوجائے کہ نہ حکومت قابل اعتبار ہے اور نہ ہی صدر جیسے باوقار عہدے پر فائز شخص پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ صورت حال ایک ایسا قومی المیہ ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے اتنا کم ہے۔ اب اسحاق ڈار دعویٰ کررہے ہیں کہ  نئے محاصل سے غریب متاثر نہیں ہوں گے بلکہ  بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام  کو وسیع کرکے  مفلس ترین لوگوں  کی امداد میں  اضافہ کیا جائے گا۔  حالانکہ منی بجٹ کا اہم ترین نکتہ  جنرل سیلز ٹیکس میں  ایک فیصد اور    اشیائے تعیش پر8 فیصد اضافہ ہے۔ جی ایس ٹی میں اضافہ سے    ہر کس و ناکس کی معیشت متاثر ہوگی۔ جہاں تک  عیش و عشرت کی چیزوں پر اضافی جی ایس ٹی  عائد کرنے کا تعلق ہے تو اس کا تعین بھی حکومت ہی کرے  گی کہ کون سے اشیا عام ضرورت  میں  شامل نہیں ہوتیں۔  حکومت اگر  واقعی غریب کی بجائے امیروں کو زیر بار کرنا چاہتی ہے تو اسے ایسی ہر چیز  درآمد پر پابندی لگانی چاہئے جو ملک میں پیدا ہوتی یا کی جاسکتی ہے اور جس کا تعلق انسانی زندگی  کی حفاظت سے نہیں ہے۔

وزیر خزانہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وزیر اعظم جلد ہی کابینہ کے اخراجات میں کمی کا اعلان کریں گے  تاکہ عوام کو یقین ہو کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے درد کو محسوس کرتی ہے۔  حیرت ہے آٹھ درجن  کے لگ بھگ وزیروں ، مشیروں اور معاونین کی کابینہ کے ساتھ کام کرنے والا وزیر اعظم بھی ’بچت‘ کا ارادہ ظاہر  کررہا ہے۔ اگر ملک کی اشرافیہ  جن میں حکومت میں شامل ہمہ قسم عناصر شامل ہیں ، واقعی عوام کا دکھ اور ملک کا بوجھ بانٹنا چاہتی ہے تو  ایک خاص حد سے زائد وسائل رکھنے والے سب لوگوں کو پانچ یا دس فیصد اثاثے فوری طور سے قومی خزانے میں جمع کروانے چاہئیں۔ ایسا ہوسکے تو  منی بجٹ   جیسے بوجھ سے نجات حاصل کرنا چنداں مشکل نہیں ہوگا۔