جناح ثالث کی اگلی انتخابی کامیابی؟

ہمارے لوگ بالعموم ظاہر پرست ہوتے ہیں، حقائق کا پیشگی ادراک کرنے کی بجائے اُس وقت مانتے یا اعتراف کرتے ہیں جب وہ حقائق سر سے ٹکراتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو خواب میں اپنے انگوٹھے سے شہد چوستے ہیں اور پھر جگتے ہی بار بار اسی انگوٹھے کو منہ کی طرف لاتے اور مایوس ہوتے رہتے ہیں۔

ہمارے ایک کھلاڑی کا معاملہ بھی ان دنوں کچھ اسی نوع کا ہے وہ بیچارہ نہ تو شعوری طور پر ایسی کوئی خاص قابلیت و صلاحیت رکھتا ہے اور نہ سیاسی حکمت و دانائی کی کوئی فطری طبیعت و تربیت پائی ہے کھلاڑی زیادہ تر جسمانی طور پر فٹ تنو مندو توانا اور خوبصورت خدوخال کے مالک نوجوان ہوتے ہیں، لیکن ذہنی و شعوری طور پر قدرے کھلنڈرے یعنی سوچ بچار یا تعلیم و ادب سے کوئی خاص رجحان تعلق یا میلان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے وہ ظاہری یا فوری طور پر بہت سوں کو ضرور اپیل کرتے ہیں لیکن کسی ذہین انسان کا ان کے ساتھ تا دیر رہنا مشکل ہوتا ہے۔

دنیا میں دیکھا یہ گیا ہے کہ دکھتی یا نظر آتی وجاہت کی بنیاد پر کئی لوگوں کی بہت شنوائی ہوجاتی ہے۔ بہت سے لوگ محض آپ کا چہرہ مہرہ دیکھ کر آپ پر مہربان ہوجاتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ آپ کا دلکش چہرہ آپ کی سب سے بڑی سفارش ہوتی ہے۔ کئی لوگ اسے انڈکس آف مائنڈ بھی بولتے ہیں لیکن اس کے الٹ بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ جارج برناڈشا کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ دماغی صلاحیت کے حوالے سے وہ جتنے گریٹ تھے چہرے مہرے یا ظاہری حلیے سے وہ اتنے ہی بدنما دکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے وقت کی کسی حسینہ عالم نے جو شعوری طور پر واجبی صلاحیت کی مالکہ تھی اس نے انہیں یہ آفر کی ہے کہ شاجی آپ مجھ سے شادی کرلیں کتنا اچھا ہوگا کہ جو بچے پیدا ہوں گے وہ میری خوبصورتی اورآپ کا شعور لیے آئیں گے۔ تو برناڈ شاجی فوراً بولے نہ بابا نہ اگر معاملہ الٹ ہوگیا تو پھر کیا بنے گا۔

برناڈ شا کے خدشات جو بھی تھے ہمارے کھلاڑی کا معاملہ ویسا نہیں رہا ہے۔ وہ تو اپنی نوعمری میں اُس حسینہ عالم سے زیادہ دلکش شخصیت کے مالک رہے ہیں جس کو انہوں نے کیش بھی ہمیشہ اُسی خوبصورتی سے کروایا ہے۔ مغرب کی ایلیٹ کلاس میں اونچا و پاپولر مقام حاصل کرنے سے لے کر کرکٹ میں اپنے لیے بہتر جگہ بنانے تک، اُن کے جسمانی خدوخال ہمیشہ سے ان کی معاونت کرتے چلے آرہے ہیں۔ بہت سی معزز خواتین آج بھی اس پرانے والے کھلاڑی کی الفت میں ان کے جلسوں کی رونق بڑھانے پہنچ جاتی ہیں۔ ان کی اس مقبولیت کے قصے آج بھی زبان زد عوام و خواص ہیں۔

ایک لڑکی میڈیا کے سامنے بغیر کسی جھجک یا شرمندگی کے کھلے بندوں یہ کہتی سنائی دیتی ہے کہ یہ جو ہمارا لیڈر ہے میری امی بھی اسے اتنا پسند کرتی ہے کہ وہ اس سے شادی کی خواہشمند ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ اتنی بڑی بات کہہ رہی ہو، کہیں تمھارے ابا کو اس پر اعتراض نہ ہو۔ تو و ہ فوراً بولتی ہے نہیں اگر خان صاحب مان جائیں تو میری امی کے ان سے شادی کرنے پر میرے ابا کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ بھی خوش ہوں گے۔ اس کے عملی مظاہرے وہ کر بھی چکے ہیں۔ اس طرح کے مزید حقائق سے اگر آپ نے آگاہی حاصل کرنی ہے تو میڈم ریحام خان کی لکھی ہوئی کتاب پڑھ لیں۔

اس ایک واقعہ سے بہت کچھ اخذ کیا جاسکتا ہے ان کی تمام تر شادیوں یا معاشقوں کی تفصیلات کے حقائق کو اس کی مطابقت میں جانچا و پرکھا جاسکتا ہے۔ بالخصوص پنکی پیرنی کی شادی کو، اور شاید اسی ناروا الفت کی وجہ سے دوہرے تہرے چہروں کے ساتھ وہ ایک نوع کا آرٹسٹ یا ایکٹر بھی دکھتا ہے۔ درویش جیسے کسی مہربان نے اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی ہے یا پکی کرکے بٹھا دی ہے کہ تو ”جناح ثانی یا ثالث” ہے تیرے اندر وہ تمام کی تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں جو جناح صاحب میں تھیں۔ جس طرح انہوں نے اپنی سیاست کو بلندیوں پر لے جانے لے لیے اسے گہرا مذہبی ٹچ دیا اسی طرح تو بھی اسلامی ٹچ دے۔ اسی طرح کی تقاریر کر۔ سچائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو یہ بات غلط بھی نہیں ہے بلکہ بڑی حد تک مبنی بر حقائق ہے کوئی شک نہیں ہے کہ جناح اپنے وقت کا تیکھے نین نقوش والا بڑا سمارٹ نوجوان تھا جس میں آگے بڑھنے اور رتبہ بلند تر حاصل کرنے کی بے پناہ امنگ تھی۔ اگرچہ پڑھنے لکھنے سے زیادہ سروکار نہیں تھا صرف اپنی وکالت اور کیسزکی جیت کیلئے قانونی کتابوں کے مخصوص و مطلوب حصوں تک عرق ریزی کرتے تھے۔

ہمارے موجودہ قائد ثانی جنہیں درویش تو جناح ثالث کہتا ہے اس لیے کہ جناح ثانی بھٹو صاحب تھے وہ بھی کچھ اسی نوع کے ہینڈسم اور اٹریکٹیو پرسنیلیٹی کے مالک تھے اور اُن میں بھی قائد اول والی قریباً تمام خوبیاں یا خصوصیات پوری رعنایوں کے ساتھ جلوہ گر تھیں۔ انہوں نے بھی اپنی سیاسی کامیابی کیلئے یا مقام بلند حاصل کرنے کے لیے مذہبی ٹچ، مصالحہ، تڑکا یا چورن خوب استعمال فرمایا۔ اور ان کا یہ جادو آج بھی قائد اول کی طرح عامۃالناس پر چھایا ہوا ہے۔ ان ہر دو قائدین کی عوامی مقبولیت سے تو اس ناہنجار کو انکار نہیں ہے۔ البتہ یہ سوال ہمیشہ دماغ میں جاگزین رہا ہے کہ بیلٹ باکس میں کامیابی تینوں قائدین کی مشکوک رہی ہے۔ وہ اس طرح کہ جیسے ہمارے موجودہ قائد یا جناح ثالث پاپولر بہت ہیں مگر الیکٹورل یا انتخابی ووٹوں کی کامیابی انہیں تبھی نصیب ہوئی ہے جب اسٹیبلیشمنٹ نے ان کی طرف دست ِ تعاون و محبت بڑھایا۔ اس سے پہلے تمام تر الٹی سیدھی چھلانگوں کے باوجود احمد میاں محض فاختائیں یا ” کوئیلیں” ہی اڑایا کرتے تھے اور انہی کے ساتھ خوش باش تھے۔

مگر پاور کا بھی ایک مزا یا الگ سے سواد ہوتا ہے جو دماغ میں سوار ہوگیا تو پھر کیا ہے کہ جیسے کوئی عاشق خوبصورت حسینہ کے پیچھے پاگل ہوجاتا ہے، اسی طرح یہ ہیرو صاحب بھی اقتدار کی لکشمی دیوی کے پیچھے پڑ گئے اپنی تقاریر میں اکثر وہ یہ بتایا و سنایا کرتے ہیں کہ مجھے اللہ نے موج مستی کا ہر سامان دے رکھا تھا۔ مجھے کسی چیز کی کمی نہ تھی، میں چاہتا تو انگلینڈ میں رہ کر مزے کی زندگی گزار سکتا تھا۔ کیونکہ اللہ مجھے سب کچھ دے چکا یا ان کے اپنے الفاظ میں دے بیٹھا تھا۔ لیکن میں نے سوچا کہ میں سیاست میں جاؤں اور اسے بھی ٹھیک کروں۔ پھر اللہ نے میری ایسی ٹریننگ کی جیسی وہ اپنے نبیوں کی کرتا ہے اور پھر جس طرح اللہ اپنے نبیوں کو کہتا ہے کہ میرا پیغام لے کر باہر نکلو اس طرح  پی ٹی آئی کے کارکنو، میں تم لوگوں سے کہتا ہوں کہ میرا پیغام لے کر باہر نکلو۔ وہ اپنے رول ماڈل یعنی جناح صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ وہ بہت عمر تک اس میدان میں جان مارتے رہے مگر انہیں اس میدانِ سیاست میں کامیابی نہیں ملی مگر انہوں نے جدوجہد نہیں چھوڑی۔ پہلے وہ سیکولر سیاست کرتے تھے پھر انہوں نے اسلامی سیاست شروع کی۔ یعنی مذہبی ٹچ دیا تو اللہ نے انہیں کامیابی عطا کردی۔ انہوں نے اپنی ناکامی کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کبھی بددل ہوئے۔ میں بھی آخری گیند تک کھیلنے پر ایمان رکھتا ہوں اور کسی بھی حالت میں ناکامی کو تسلیم نہیں کرتا۔

اور یہ حقیقت بھی ہے کہ 37 کے انتخابات وہ محض پانچ فیصد ووٹوں کے ساتھ بری طرح ہار گئے تھے اور 1946سے پہلے انہیں کبھی کوئی قابل ِ ذکر انتخابی کامیابی نہیں ملی تھی جب تک کے وہ اسٹیبلیشمنٹ کے پوری طرح منظور نظر نہیں بن گئے تھے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بھٹو صاحب کا بھی تھا۔ وہ برسوں اسٹیبلیشمنٹ کی چاپلوسی پر مجبور رہے حتی ٰ کے جنرل ایوب کو لٹرلی ڈیڈی کہا کرتے تھے اور بغیر کسی الیکشن یا انتخابی کامیابی کے میجر جنرل سکندر مرزا کی وزارت تک پہنچ گئے۔ اس میں ان کی ایرانی النسل بیگم کا کتنا رول تھا یہ الگ بحث ہے اور پھر جب ایوب نے اسی سکندر مرزا کی تذلیل کرکے اسے نکال باہرکیا تو جناح ثانی صاحب کو ایوب کے ساتھ فٹ ہونے میں ذرا سی دیر نہ لگی۔ یوں وزارت خارجہ ان کے قدموں میں تھی۔ 70کے واحد الیکشن تھے جن میں ان کی مقبولیت بلندیوں پر تھی اور اسے بیلٹ کے ذریعے پرکھا جانا تھا۔ مگر کون کہتا ہے انہوں نے یہ انتخابات جیتے تھے؟ کوئی ہے جو اس پر استدلال کر سکے؟

شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے متحدہ پاکستان کے ان پہلے منصفانہ انتخابات میں 162سیٹیں لیں جبکہ جناح ثانی کی محض 81سیٹیں تھیں جمہوریت کے لحا ظ سے ایک ملک رکھتے ہوئے بھٹو کا وزیر اعظم بننا نا ممکن تھا، سوائے اس کے کہ ملک کو توڑ کر دو ملک بنا دیے جاتے۔ اُدھر تم اور ادھر ہم کا اصول منوایا جاتا۔ شاید 47میں بھی کوئی اسی طرح کی صورتحال تھی اور 2018میں بھی اگر اسٹیبلیشمنٹ نواز شریف کو ہرانے کے لیے آخری حد تک نہ جاتی تو جناح ثالث کیلئے جیتنا نا ممکن تھا۔

اب تواس کے بہت سارے شواہد سامنے آچکے ہیں اور درویش یہ لکھے دیتا ہے کہ مستقبل میں بھی یہ شخص اپنے بل بوتے پر جمہوری کامیابی سے وزیراعظم نہیں بن سکے گا سوائے اس کے کہ کوئی بیرونی سہارا اسے میسر آجائے جو فی الوقت ناممکن دکھتاہے۔ اقتدار کی دیوی اسے چھوڑ کر کہیں اور جاچکی ہے اس لیے اب اقتدار کی نہیں گرفتاری و نا اہلی کی توقع کی جانی چاہیے اس کی تفصیل آئندہ پر۔