پنجاب میں انتخابات کے معاملہ پر چیف جسٹس سے سوموٹو کارروائی کی درخواست

  • جمعہ 17 / فروری / 2023

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پنجاب میں مقررہ مدت میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ ازخود نوٹس کی کارروائی کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھجوایا ہے۔

 دو رکنی عدالتی بینچ نے کارروائی کے بعد جاری کردہ چھ صفحات پر مشتمل حکم نامے میں رجسٹرار آفس کو معاملے کو چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان مناسب سمجھیں تو آرٹیکل 184 (3) کے تحت اس معاملے پر بینچ تشکیل دے سکتے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل بینچ نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران ہمارے نوٹس میں لایا گیا معاملہ آئین کے پارٹ 2 کے باب 1 کے مطابق بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے عوامی اہمیت کا ایک سنجیدہ سوال پیش نظر ہے۔

خیال رہے کہ لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگر کے تبادلے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران انتخابات کا معاملہ زیر گفتگو آیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو جواب دینے کے لئے طلب کیا گیا تھا۔

اس سے قبل بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک بینچ نے انتخابات کی تاریخ میں تاخیر پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔ تازہ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ چونکہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی، اس لیے آئینی حکم کی واضح اور غیر مبہم خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔

سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے جب استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے حکومت کو ان مشکلات سے آگاہ کیا ہے تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔

قبل ازیں، اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے کہا تھا تھا کہ وفاقی حکومت کا درخواست گزار غلام محمود ڈوگر کے حالیہ تبادلے سے کوئی تعلق نہیں۔